உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: اننت ناگ میں دہشت گردوں نے سی آرپی ایف اہلکار پر مرچ پاوڈر سے حملہ کرکے رائفل چھیننے کی کوشش کی

    اننت ناگ میں دہشت گردوں نے سی آرپی ایف اہلکار پر مرچ پاوڈر سے حملہ کرکے رائفل چھیننے کی کوشش کی

    اننت ناگ میں دہشت گردوں نے سی آرپی ایف اہلکار پر مرچ پاوڈر سے حملہ کرکے رائفل چھیننے کی کوشش کی

    جنوبی کشمیر کے اننت ناگ علاقے میں اس وقت سنسنی پھیل گئی، جب ریشی بازار علاقے میں نامعلوم ملیٹینٹوں نے ڈیوٹی پر تعینات ایک سی آر پی ایف اہلکار کی آنکھوں میں مرچ پاؤڈر چھڑک کر اس کی رائفل چھیننے کی کوشش کی۔

    • Share this:
    جموں کشمیر: جنوبی کشمیر کے اننت ناگ علاقے میں اس وقت سنسنی پھیل گئی، جب ریشی بازار علاقے میں نامعلوم ملیٹینٹوں نے ڈیوٹی پر تعینات ایک سی آر پی ایف اہلکار کی آنکھوں میں مرچ پاؤڈر چھڑک کر اس کی رائفل چھیننے کی کوشش کی۔ اس دوران سی آرپی ایف اہلکار نے کافی جرآت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رائفل کو پکڑ کے رکھا اور موقع پر موجود دیگر سیکورٹی اہلکاروں کی مستعدی اور چوکسی سے رایفل چھیننے کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔

    تاہم اس دوران ملیٹینٹوں راہ فرار اختیار کرنے میں کامیاب ہو گۓ۔ واقع کے فوراً بعد جموں کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کے اضافی دستے جاۓ واردات پر پہنچ گئے اور حالات کا جائزہ لیا۔ فورسز نے اگرچہ پورے ریشی بازار علاقہ کو محاصرے میں لے لیا لیکن ابھی تک رایفل چھیننے کی کوشش میں ملوث ملیٹینٹوں کا سراغ نہیں لگایا گیا۔
    واضح رہے کہ ریشی بازار اننت ناگ میں مصروف ترین تجارتی علاقہ ہے اور یہاں پر عام لوگوں کی کافی بھیڑ رہتی ہے۔ سیکورٹی فورسز کے مطابق یہی وجہ ہے کہ سی آر پی ایف نے فرار ہوۓ ملیٹینٹوں پر فایرنگ نہیں کی۔ کیونکہ فایرنگ سے عام لوگوں کو نقصان پہنچانے کا خدشہ تھا۔
    ادھر جموں کشمیر پولیس نے اس ضمن میں شیر باغ پولیس چوکی میں ایک ایف آئی آر درج کی ہے اور پولیس تحقیقات میں جٹ گئی ہے۔ پولیس نے موقع پر موجود لوگوں اور عینی شاہدین و دکانداروں سے بھی معاملے کے حوالے سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ اسے قبل پیر کی رات ملیٹینٹوں نے بجبہاڑہ کے زر پورہ علاقہ میں ایس او جی پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر گرینیڈ حملہ کیا۔ تاہم اس حملے میں کسی بھی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ پولیس اور فورسز نے دونوں معاملات کی مناسبت سے ملیٹینٹوں کا سراغ لگانے کی غرض سے ایک وسیع آپریشن شروع کر دیا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: