உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آخر کیوں دہشت گرد لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی کو شش میں Grenade Attacks کا لے رہے ہیں سہارا : ماہرین سے جانیں؟

    Terrorists resort to grenade attacks: ۔ پاکستان کی جانب سے بچے ہوئے ملی ٹنٹ کمانڈروں اور بالائی ورکروں کو لگاتار یہ ہدایات جاری کی جارہی ہیں کہ وہ لوگوں میں خوف پیدا کرنے کے لئے کاروائیاں انجام دیں۔ گرینیڈ حملے اور ٹارگیٹ کلنگس اسی حکمت عملی کا ایک حصہ ہیں۔

    Terrorists resort to grenade attacks: ۔ پاکستان کی جانب سے بچے ہوئے ملی ٹنٹ کمانڈروں اور بالائی ورکروں کو لگاتار یہ ہدایات جاری کی جارہی ہیں کہ وہ لوگوں میں خوف پیدا کرنے کے لئے کاروائیاں انجام دیں۔ گرینیڈ حملے اور ٹارگیٹ کلنگس اسی حکمت عملی کا ایک حصہ ہیں۔

    Terrorists resort to grenade attacks: ۔ پاکستان کی جانب سے بچے ہوئے ملی ٹنٹ کمانڈروں اور بالائی ورکروں کو لگاتار یہ ہدایات جاری کی جارہی ہیں کہ وہ لوگوں میں خوف پیدا کرنے کے لئے کاروائیاں انجام دیں۔ گرینیڈ حملے اور ٹارگیٹ کلنگس اسی حکمت عملی کا ایک حصہ ہیں۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے گرینیڈ حملے کئے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں عام شہریوں کو جانی نقصنان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایسے ہی ایک گرینیڈ حملے (Terrorists resort to grenade attacks) میں کل سرینگر کے امیرا کدل علاقے میں دو عام شہریوں کی جان گئی جبکہ  تقریبا بیس  افراد زخمی ہوئے۔ سلامتی سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں گرینیڈ حملے انجام دینا اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دہشت گرد لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی کو شش میں ہیں۔ سلامتی امور سے متعلق ماہر ریٹائرڈ کیپٹن انیل گور کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن آل آؤٹ کے نتیجے میں کئی دہشت گرد کمانڈر اور ملی ٹنٹ مارے جاچکے ہیں جس کی وجہ سے دہشت گرد تنظیمیں بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی ہیں۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیپٹن انیل گور نے کہا آپریشن آل آؤٹ اور دفعہ تین سو ستر کی منسوخی کے بعد دہشت گردوں اور ان کے اعانت کاروں کی تعداد میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ موجودہ وقت میں سرگرم ملیٹنٹوں کی تعداد کافی کم ہوئی ہے تاہم بالائی ورکر اب بھی کئی علاقوں میں سرگرم ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بچے ہوئے ملی ٹنٹ کمانڈروں اور بالائی ورکروں کو لگاتار یہ ہدایات جاری کی جارہی ہیں کہ وہ لوگوں میں خوف پیدا کرنے کے لئے کاروائیاں انجام دیں۔ گرینیڈ حملے اور ٹارگیٹ کلنگس اسی حکمت عملی کا ایک حصہ ہیں۔

    کیپٹن انل گور کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسی کاروائیاں بڑھنے کا اندیشہ ہے کیونکہ جموں و کشمیر میں آنے والے ایام میں سیاسی سرگرمیاں زور پکڑ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا : آنے والے دنوں میں جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوسکتی ہیں اور پاکستان کبھی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ جموں و کشمیر میں پر امن ماحول پیدا ہو لہزا وہ بچے کھُچے ملی ٹنٹوں اور بالائی ورکروں کا استعمال کرکے مزید گرینیڈ حملے کرواسکتا ہے۔ تاہم جموں و کشمیر کے عام لوگ پاکستان کی ان چالوں سے باخبر ہیں اور وہ یو ٹی میں امن اور ترقی کا ماحول دیکھنا چاہتے ہیں۔ لہذا پاکستان کی آئی ایس آئی کے ایسے حربے کامیاب نہیں ہوسکتے۔

    یہ بھی پڑھیں: فلسطین میں ہندستانی سفیر مکل آریہ کا انتقال، ہیڈ کوارٹر میں ملی لاش، وزارت خارجہ میں مچی ہلچل

    انہوں نے کہا کہ اسطرح کے حملے روکنے کے لئے حفاظتی عملے کو بھی اپنی حکمت عملی میں بدلائو لانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ علحیدگی پسند ذہنیت رکھنے والے افراد کی نشاندہی کئے جانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ جموں و کشمیر میں امن، چین میں رخنہ ڈالنے والے تمام عناصر تک پہنچا جاسکے اور انکے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔ ایک اور دفاعی ماہر اور جموں و کشمیر کے سابق ڈائیریکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ایس پی وید کا کہنا ہے کہ ملی ٹنٹوں کی جانب سے بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں گرینیڈ حملے انجام دینے کا مقصد اپنی موجودگی کا احساس دلانا ہے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے ایس پی وید نے کہا چونکہ ملیٹنٹوں کی تعداد میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے اور بچے کھُچے دہشت گردوں کے پاس ہتھیاروں کی کمی بھی ہے لہذا یہ تنظیمیں کم ہتھیار استعمال کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش میں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ گرنیڈ حملہ کروانے کے لئے کسی تربیت یافتہ دہشت گرد کی ضرورت نہیں ہوتی لہذا ملی ٹنٹ ورکروں کے زریع اس طرح کے حملے انجام دلوا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرنیڈ حملے کرنے والے افراد کی فوری گرفتاری عمل میں لانا بھی قدرے مشکل ہوتی ہے چونکہ گرنیڈ داغے جانے کے بعد یہ دہشت گرد بھیڑ میں شامل ہوکے عام آدمی کی طرح وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ انہوں نے تاہم کہا کہ انٹلجنس اور دیگر حفاظتی ایجنیسیاں مختلف زرایع کا استعمال کرکے ایسے حملے روکنے کی اہل ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: