உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھارتیہ جنتاپارٹی جموں و کشمیر میں اپنے جڑیں مضبوط کرنے میں مصروف

     انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی سربراہ ایک مقبول لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ دہلی میں احتجاج کرنے کے لیے پارٹی کے صرف چھ آدمیوں کو جمع کر سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی سربراہ ایک مقبول لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ دہلی میں احتجاج کرنے کے لیے پارٹی کے صرف چھ آدمیوں کو جمع کر سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی سربراہ ایک مقبول لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ دہلی میں احتجاج کرنے کے لیے پارٹی کے صرف چھ آدمیوں کو جمع کر سکیں۔

    • Share this:
    بھارتیہ جنتاپارٹی جموں کشمیر میں اپنےجڑیں مضبوط کرنے میں جٹ گئی ہے اور پارٹی اب یو ٹی کے ہر ایک کانسچونسی میں کانچونسی کے ذمہداراں کے ساتھ میٹنگوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ پارٹی کو بنیادی سطع پر مضبوط کیا جاسکے اور آنے والے الیکشن میں پارٹی کے امیدوار کامیابی ہوسکیں اس سلسلے میں پارٹی کی جانب سے زعفران قصبہ پانپور میں ایک میٹینگ منقعد کی گئی جس، میں پانپور کانسچونسی کے چیدہ چیدہ ورکروں نے شمولیت کی۔ پروگرام میں لیڈران نے بھارتیہ جنتاپارٹی کو پانپور میں مضبوط بنانے کی اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ صرف بھاجپا ہی یہاں کے لوگوں کے درد کا، درماں بن سکتی ہے۔

    اس موقع پر الطاف ٹھاکر، ویر جی صراف، سجاد رینہ، ڈی ڈی سی ممبر منھا، لطیف، لطیف اور بٹ، الطاف احمد میر ڈی ڈی سی پانپور اور محمد شفیع وانی انچارج پانپور کانسچونسی بھی موجود تھے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے بھارتیہ جنتاپارٹی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے بتایا کہ کشمیر میں پی ڈی پی کی ساخت ختم ہو گئی ہے اور اس لیے اب محبوبہ مفتی دہلی میں جنتر منتر پر ڈرامہ کر رہی ہے لیکن اب یہاں کے لوگ سمجھ گیے ہیں اور وہ ان کی باتوں میں آنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی سربراہ ایک مقبول لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ دہلی میں احتجاج کرنے کے لیے پارٹی کے صرف چھ آدمیوں کو اکٹھا کر سکیں۔

    وہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ آرٹیکل 370 واپس لیں گے لیکن مجھے حیرت ہے کہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے آرٹیکل 370 کو واپس لانے کے بارے میں کیسے دن میں خواب دیکھنا شروع کر دیا ہے،‘‘ ٹھاکر نے ٹاؤن ہال پانپور میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت گزر گیا ہے جب محبوبہ جیسے لیڈر سبز جھنڈے اور سبز رومال لہرا کر لوگوں کو بے وقوف بناتے تھے کیونکہ جموں و کشمیر UT کے لوگ پی ڈی پی اور اس کے سربراہ جیسی پارٹی کی سیاسی چالوں کو سمجھ چکے ہیں آرٹیکل 370 کو ہندوستان کے سپریم ادارہ پارلیمنٹ نے 300 سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ کے ووٹوں سے واپس لے لیا تھا۔

    پی ڈی پی لیڈر اسے واپس کیسے لا سکتی ہے ٹھاکر نے کہا کہ آرٹیکل 370 ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے اور جموں و کشمیر کسی بھی دوسری ہندوستانی ریاست/UT کے برابر ہے اور ترقی اور امن کے محاذوں پر سرفہرست ہوگا۔ "خاندانی سیاست نے جموں و کشمیر کو برباد کر دیا ہے اور بی جے پی حکومت نے خاندانی حکمرانی کے باب کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ کبھی بھی ان لوگوں کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے جنہوں نے اپنے جھوٹے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اپنی تجوریاں بری ہیں۔
    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: