اپنا ضلع منتخب کریں۔

    Jammu and Kashmir: پانچ ریاستوں کا انتخابی نتائج جموں وکشمیر کے سیاسی بیانیہ کو کرسکتاہے متاثر

    پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کا جموں وکشمیر کے سیاسی بیانیہ (Political Narrative) کو کرسکتاہے متاثر۔ بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے کے پیش نظر سیاسی جماعتوں کو انتخابی منشور ترتیب دینے میں کس طرح کی لانی پڑے گی تبدیلی، جانیے ماہرین کی رائے۔

    پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کا جموں وکشمیر کے سیاسی بیانیہ (Political Narrative) کو کرسکتاہے متاثر۔ بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے کے پیش نظر سیاسی جماعتوں کو انتخابی منشور ترتیب دینے میں کس طرح کی لانی پڑے گی تبدیلی، جانیے ماہرین کی رائے۔

    پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کا جموں وکشمیر کے سیاسی بیانیہ (Political Narrative) کو کرسکتاہے متاثر۔ بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے کے پیش نظر سیاسی جماعتوں کو انتخابی منشور ترتیب دینے میں کس طرح کی لانی پڑے گی تبدیلی، جانیے ماہرین کی رائے۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: دس مارچ کو پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اتر پردیش سمیت ملک کی چار ریاستوں میں حکومت سازی کی اہل بن گئی جبکہ عام آدمی پارٹی نے ریاست پنجاب کے انتخابات میں شاندار جیت درج کرکے حکومت بنانے کا سہرہ اپنے سر باندھ لیا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان انتخابی نتائج کا ملک میں آنے والے انتخابات پر بھی کافی اثر پڑے گا۔ سرکردہ سیاسی تجزیہ نگار پرکشت منہاس کا کہنا ہے کہ یہ نتائج جموں وکشمیر میں political narrative کو متاثر کرسکتے ہیں۔

    نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے منہاس نے کہا کہ ان نتائج سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ عوام نے سرکار کی کارکردگی یعنی ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے اور لوگوں کو درپیش دیگر مسائل حل کرنے والی جماعتوں کے حق میں ووٹ دئیے۔ لہذا یہ لازمی ہے کہ بی جے پی کو جموں وکشمیر میں بھی ایسے ہی مدعوں کی نشاندہی کرکے ان کا ازالہ کرنے کے لئے ایک واضح ایجنڈا طے کرنا پڑے گا۔

    منہاس نے کہا، "بی جے پی کو جموں وکشمیرمیں اس لئے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ پارٹی قومی سطح پر اقتدار میں رہنے کے دوران اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ بی جے پی مرکز سمیت دیگر ریاستوں میں وہ اقتدار میں ہے، زمینی سطح پر عوام دوست کام انجام دے رہی ہے۔ بی جے پی کی یہ کوشش جموں وکشمیر کے عوام کی سوچ کو اس پارٹی کی طرف راغب کرسکتی ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہےکہ پارٹی کو جموں وکشمیر میں لوگوں سے جڑے معاملات کو زمینی سطح پر جاننے اور ان کو حل کرنے کے لئے واضح حکمت عملی وضع کرنا پڑے گی"۔

    اس سوال کے جواب میں کہ کیا دفعہ تین سو ستہر اور پینتیس اے کی منسوخی جموں وکشمیر کے چناؤ میں ایک مدعے کے طور ابھر سکتے ہیں، منہاس نے کہاکہ ایسا نہیں لگتا ہے کہ لوگ اس مدعے پر ووٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کریں گے انہوں نے کہا،" دفعہ تین سو ستہر اب تاریخ کا حصہ ہے اور اس پر اب کوئی بحث کرنا بے معنی ہے حالانکہ کچھ سیاسی پارٹیاں ،جیسے پی اے جی ڈی میں شامل جماعتیں اس مدعے کو چناؤ کے دوران اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنا سکتی ہیں لیکن یہ ان کی غلط فہمی ہوگی کہ لوگ انہیں اس مدعے پر ووٹ دیں گے مجھے یہ لگتا ہے کہ ہر پارٹی کو، جو چناؤ کی تیاری کررہی ہیں کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ لوگوں سے جڑے معاملات کو سنیں اور اس سمت میں مثبت قدم اٹھانے کے لئے ایک جامعہ منصوبہ عوام کے سامنے رکھیں"۔

    یہ بھی پڑھیں۔

     

    پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج اور جموں وکشمیر میں اس کے سیاسی اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف سیاسی تجزیہ نگار محمد سعید ملک کا کہنا ہے کہ ان نتائج سے یہ عیاں ہوچکا ہے کہ بی جے پی اگلے کئی برسوں تک اقتدار میں رہ سکتی ہے۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا،" ان نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ بی جے پی کی قیادت یعنی وزیر اعظم نریندر مودی کو بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہے اور حزب مخالف میں ایسا کوئی لیڈر نہیں ہے، جو ان کا مقابلہ کر سکے۔" انہوں نے کہا کہ ان نتائج کا جموں وکشمیر بالعموم جموں خطے میں باالخصوص کافی اثر پڑے گا۔

    محمد سعید ملک نے کہا،" دفعہ تین سو ستر کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیر کی زیادہ تر سیاسی جماعتوں خصوصاً نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے پاس کوئی مضبوط ایجنڈا نہیں رہا ہے، جس سے وہ ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرسکیں۔ ان جماعتوں کو اب نیا ایجنڈا طے کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ لوگ یہ سمجھ چکے ہیں کہ نریندر مودی کی لیڈر شپ میں بی جے پی کسی بھی پارٹی یا اتحاد کو الیکشن میں شکست دے سکتی ہے۔ لہٰذا پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس جیسی دیگر سیاسی جماعتوں کو نوشت دیوار پڑھ کر مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کرنا پڑے گا۔ سیاسی مبصرین مانتے ہیں کہ جموں وکشمیر میں سرگرم تمام سیاسی جماعتیں ترقی کے ایجنڈے کو ترجیح دیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: