உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    انکاؤنٹر میں مارا گیا محمد عامر، میرا بیٹا ملیٹنٹ نہیں تھا، روتے ہوئے باپ نے بیان کی درد بھری داستاں، پولیس کے دعوے کو کیا مسترد

     آج پولیس اور فوج نے ان کے بیٹے کو مار کر لاش کو بھی اپنی تحویل میں لیکر ہندوستانی ہونے کا بدلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کو مارنے کے ردعمل میں میرے چیچیرے بھائی عبدالقیوم کو دہشت گردوں نے ہلاک کیا تھا جبکہ میں اور میری بہن کو گولیاں مار کر زخمی کیا گیا تھا۔

    آج پولیس اور فوج نے ان کے بیٹے کو مار کر لاش کو بھی اپنی تحویل میں لیکر ہندوستانی ہونے کا بدلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کو مارنے کے ردعمل میں میرے چیچیرے بھائی عبدالقیوم کو دہشت گردوں نے ہلاک کیا تھا جبکہ میں اور میری بہن کو گولیاں مار کر زخمی کیا گیا تھا۔

    آج پولیس اور فوج نے ان کے بیٹے کو مار کر لاش کو بھی اپنی تحویل میں لیکر ہندوستانی ہونے کا بدلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کو مارنے کے ردعمل میں میرے چیچیرے بھائی عبدالقیوم کو دہشت گردوں نے ہلاک کیا تھا جبکہ میں اور میری بہن کو گولیاں مار کر زخمی کیا گیا تھا۔

    • Share this:
    سرینگر کے حیدر پورہ انکاؤنٹر میں مارے گئے ضلع رامبن کے سیری پورہ ، سنگلدان علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان کے والد نے پولیس کے اُس دعوے کی تردید کی ہے جس میں محمد عامر ماگرے کو ملیٹںٹ قرار دیا گیا تھا ۔ انہوں لاش کو واپس دینے اور اس واقع کی تحقیقات کا مطالبہ کیاہے۔ پولیس کا کہنا ہیکہ محمد عامر ماگرے دہشت گردوں کا ساتھی تھا اور تصادم میں مارا گیا۔

    سرینگر انکاؤنٹر  میں مارے گئے نوجوان 24 سالہ نوجوان محمد عامر ماگرے کے والد محمد لطیف ماگرے نے منگل کے روز نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے 06 آگست 2005 میں ایک دہشت گرد محمد یاسر بٹ کو پتھروں سے مار دیا تھا اور آج پولیس اور فوج نے ان کے بیٹے کو مار کر لاش کو بھی اپنی تحویل میں لیکر ہندوستانی ہونے کا بدلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کو مارنے کے ردعمل میں میرے چیچیرے بھائی عبدالقیوم کو دہشت گردوں نے ہلاک کیا تھا جبکہ میں اور میری بہن کو گولیاں مار کر زخمی کیا گیا تھا۔ محمد لطیف ماگرے نے کہا کہ دہشت گرد کو مارنے کے بعد انہیں سابقہ گورنر این این ووہرا ، پولیس اور فوج کے ہاتھوں انعام و اعزازات سے نوازا گیا تھا ۔
    انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کو پتھروں سے مار گرانے کے بعد وہ اپنے گاؤں سے ہجرت کرکے لادہمپور چلے گئے اور 2011 میں ہم حفاظتی حصار میں واپس اپنے گاؤں سنگلدان واپس آگئے۔
    انہوں نے کہا کہ آج بھی پولیس کے اہلکار ان کی حفاظت پر تعینات ہیں اور ان کے گھر پر ایک پولیس پکٹ آج بھی موجود ہے ۔ محمد لطیف ماگرے نے سوال کیا کہ کیا یہ قوم پرست ہونے اور ایک عسکریت پسند کو اپنے ہاتھوں سے مارنے کا انعام ہے؟

    انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی اپیل ہے تاکہ ان کے خاندان کو "انصاف" فراہم کیا جائے اور ان کے بیٹے کی لاش تدفین کیلئے واپس کی جائے۔ اس دوران ضلع انتظامیہ رامبن نے سیری پورہ اور سنگلدان کے علاقوں میں دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان کیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھا جائے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: