உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: ڈاکٹر نے بچی کو مردہ قراردیا، قبر میں زندہ ملی نوزائیدہ، جموں و کشمیر میں حیران کردینے والا معاملہ آیا سامنے

    J&K News: ڈاکٹر نے بچی کو مردہ قراردیا، قبر میں زندہ ملی نوزائیدہ، جموں و کشمیر میں حیران کردینے والا معاملہ آیا سامنے

    J&K News: ڈاکٹر نے بچی کو مردہ قراردیا، قبر میں زندہ ملی نوزائیدہ، جموں و کشمیر میں حیران کردینے والا معاملہ آیا سامنے

    Jammu and Kashmir : جموں و کشمیر کے بانیہال میں پیدا ہونے کے کچھ دیر بعد ہی اسپتال کے ڈاکٹروں نے جس بچی کو مردہ قرار دیا تھا ، وہ تدفین کے تقریبا ایک گھنٹے بعد قبر سے زندہ نکلی۔ افسران نے یہ جانکاری دی ۔

    • Share this:
      بانیہال : جموں و کشمیر کے بانیہال میں پیدا ہونے کے کچھ دیر بعد ہی اسپتال کے ڈاکٹروں نے جس بچی کو مردہ قرار دیا تھا ، وہ تدفین کے تقریبا ایک گھنٹے بعد قبر سے زندہ نکلی۔ افسران نے یہ جانکاری دی ۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے بچی کو ان کے قبرستان میں تدفین کی  مخالفت کی تھی اور اس کے خاندانی قبرستان میں دفن کرنے پر زور دیا تھا ۔ افسران نے بتایا کہ کرشماتی طریقہ سے بچی کے زندہ ملنے کے بعد اس کے رشتے داروں نے سرکار کے خلاف احتجاج کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس پر نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ نے زچگی محکمہ میں کام کررہے دو ملازمین کو معطل کردیا ہے اور جانچ کا حکم دیا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: شمالی کشمیر کے پٹن میں سرپنچ کے قتل کا معاملہ حل، تین ملی ٹینٹس گرفتار، اسلحہ و گولہ بارود برآمد


      مقامی سرپنچ منظور الیاس وانی نے بتایا کہ بچی بشارت احمد گجر اور ثمینہ بیگم کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سب ڈسٹرکٹ اسپتال میں پیر کو بچی کی پیدائش نارمل ڈیلیوری سے ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ جوڑا رام بن ضلع کے بانیہال سے تین کلو میٹر دور بنی کوٹ گاوں کا رہنے والا ہے ۔ وانی نے الزام لگایا کہ بچی کو مردہ قرار دیا گیا اور اسپتال میں اس کو دو گھنٹے تک کسی ڈاکٹر نے نہیں دیکھا جس کے بعد کنبہ نے اس ہوللان گاوں میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا ۔

      یہ بھی پڑھئے: رہبر کھیل، جنگلات اور زراعت کی پالیسی پر تنازعہ، انتظامیہ نے دی صفائی


      انہوں نے بتایا کہ جوڑا جب اسپتال سے لوٹا تو کچھ مقامی لوگوں نے قبرستان میں بچی کو دفن کرنے کی مخالفت کی ۔ اس کی وجہ سے کبنہ کو تقریبا ایک گھنٹے کے بعد بچی کو قبر سے نکالنا پڑا ۔ وانی نے کہا کہ جب بچی کو قبر سے نکالا گیا تو وہ زندہ ملی ، جس کے بعد اہل خانہ اس کو لے کر اسپتال پہنچے ۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی علاج کے بعد بچی کو ماہر ڈاکٹروں سے علاج کرانے کیلئے سری نگر ریفر کردیا گیا ہے ۔

      وہیں گجر لیڈر چودھری منصور جو خود پنچ ہیں، نے اسپتال اہلکاروں پر لاپروائی کا الزام لگایا ۔ اس واقعہ کے بعد اہل خانہ اور دیگر لوگوں نے اسپتال احاطہ میں ڈاکٹروں اور اسپتال کے اسٹاف کے غیر پیشہ ور رویہ کے خلاف احتجاج کیا ۔ بانیہال بلاک کی بی ایم او ڈاکٹر رابعہ خان نے بتایا کہ معاملہ کی جانچ کا حکم دیا گیا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: