உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یہاں مقیم 50 خاندان نہ سُن سکتے، نہ بول سکتے ہیں، لیکن اب ہندوستانی فوج نے خاموش بستی کو گود لیکر لوٹائی مسکراہٹ

    بتادیں کہ یہاں پہ مقیم 50 خاندان نہ سُن سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق آج تک ان کی خاموش آواز کو سننے والا کوئی نہیں تھا اور ان کی آنکھیں کسی مددگار کے انتظار میں تھیں۔ اب لگتا ہے کہ ان کی مشکلات ختم ہونگی۔

    بتادیں کہ یہاں پہ مقیم 50 خاندان نہ سُن سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق آج تک ان کی خاموش آواز کو سننے والا کوئی نہیں تھا اور ان کی آنکھیں کسی مددگار کے انتظار میں تھیں۔ اب لگتا ہے کہ ان کی مشکلات ختم ہونگی۔

    بتادیں کہ یہاں پہ مقیم 50 خاندان نہ سُن سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق آج تک ان کی خاموش آواز کو سننے والا کوئی نہیں تھا اور ان کی آنکھیں کسی مددگار کے انتظار میں تھیں۔ اب لگتا ہے کہ ان کی مشکلات ختم ہونگی۔

    • Share this:
    جموں کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں واقع ڈڈھکئی پنچایت جسے خاموش بستی کا نام دیا گیا ہے۔ یہاں پہ مقیم 50 خاندان نہ سُن سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق آج تک ان کی خاموش آواز کو سننے والا کوئی نہیں تھا اور ان کی آنکھیں کسی مددگار کے انتظار میں تھیں۔ اب لگتا ہے کہ ان کی مشکلات ختم ہونگی۔ کیونکہ اب ہندوستانی فوج کی چار راشٹریہ رائفلز نے اس گاؤں کو گود لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر مدد کرنے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ہے۔ ان کے لب خاموش ہیں ان کی آنکھیں اب ان کی زندگی بہتر ہونے کا خواب سجا رہی ہیں کیونکہ فوج نے اب اس گاؤں کو گود لے کر ان کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے اپنا قدم بڑھایا ہے۔ فوج نے سب سے پہلے ان کی بنیادی ضروریات کو دیکھتے ہوئے ان کے لئے کپڑے، کھانا اور ہیلتھ کیر جیسی سہولیات فراہم کی۔ اُس کے بعد فوج نے 18 جنوری 2022 کو ان میں high-tech specialised hearing aids تقسیم کئے۔ اس کے بعد یہاں کے بچوں کے لئے sign language classes سکھانے کے لئے ڈور ٹو ڈور کلاسز شروع کردی ہیں اور اس کے لئے sing language expert بھی تعنیات کیا گیا ہے۔تاکہ یہ بچے اپنا مستقبل سوار سکیں۔

    ڈڈھکئی گاؤں کی رہنے والی اسرا بانو جو نہ سن سکتی ہے نہ بول سکتی ہے اس نے sign language کے ذریعے ہمیں بتایا کہ وہ کافی خوش ہے کہ اس کو پڑھانے کے لئے استاد گھر آتا ہے۔ ہم بے صبری سے پین کاپی ہاتھوں میں لے کے اپنے استاد کا انتظار کرتے ہیں۔ فوج نے ہمیں یہ سہولت دے کے ہم کو زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لائق بنا رہے ہیں۔ فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جاری فلاحی اسکیم کے اگلے درجے میں ڈڈھکئی پنچایت میں ہی گونگے دیہاتیوں کے لیے ہاسٹل کی سہولت کے ساتھ اسکول فراہم کیا جائے گا۔

    قبائلی گجروں کے آباد اس گاؤں کے 50 خاندانوں میں سے ہر ایک کا کم از کم ایک رکن ہے جو نہ تو سن سکتا ہے اور نہ ہی بول سکتا ہے۔ پہلا رپورٹ شدہ کیس 1931 میں سامنے آیا تھا اور اب تعداد بڑھ کر 78 ہوگئی ہے۔اس علاقے کے بچوں نے ہندوستانی فوج سے یہ درخواست کی ہے انہیں سلائی مشین فراہم کریں تاکہ وہ اس کے ذریعے اپنا روزگار بھی شروع کر سکیں۔ ایک اور لڑکی ریشمہ بانو جو نہ سن سکتی ہے اور نہ بول سکتی ہے اس نے sign language کے ذریعے بتانے کی کوشش کی کہ فوج نے ان کے لئے sign language شروع کی ہے اور ہم فوج کا شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اور اگر فوج ہمیں سلائی مشین فراہم کریں تو اس سے ہم اپنے لیے روزگار بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ ہمیں کپڑے سینے کا بہت شوق ہے لیکن ہم سلائی مشین خریدنے کے قابل نہیں ہیں۔ اگر فوج ہمیں اس میں مدد کرے تو یہ ہمارے لئے ایک روزگار کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

    بی ڈی سی چیرمین بھلیسہ محمد حنیف نے بتایا گزشتہ دو دہائیوں سے کئی سرکاری اور این جی اوز نے اس گاؤں کا دورہ کیا لیکن ان کے لیے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا گیا۔ لیکن فوج نے عملی اقدامات شروع کیے ہیں جو یقیناً مصائب کے خاتمے کے لیے ایک طویل سفر طے کریں گے۔ ”ہم فوج کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس گاؤں کو گود لے کر ان بے بس لوگوں کا ہاتھ تھاما۔ ہمیں قوی امید ہے اس گاؤں کو گود لینے کے بعد اس خاموش گاؤں کی مشکلات کم ہونگی۔“ بی ڈی سی چیرمین محمد حنیف نے نیوز 18 کو جانکاری دی۔

    "جب بھی کوئی عورت حاملہ ہوتی ہے تو نہ صرف خاندان بلکہ پورا گاؤں مسلسل صدمے میں رہتا ہے، نہ کہ بچے کی جنس کی وجہ سے۔ لیکن ڈر یہ ہے کہ اگر اولاد گونگی اور بہری ہو جائے تو اس سے مسائل بڑھتے ہیں اور مصائب میں اضافہ ہوتا ہے، "محمد حنیف، بی ڈی سی کے چیئرمین بھلیسا اور دھکائی گاؤں کے رہنے والے نے کہا۔ وہ اس معذوری کا سامنا کر رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: