உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر انتظامیہ ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے و داغدار اہلکاروں کی فہرست کر رہی ہے تیار

     چیف سیکرٹری کے دفتر کے ایک سینئر اہلکار نے بتایاکہ محکموں اور انسداد بدعنوانی کے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں اور مبینہ طور پر بدعنوانی کے معاملات میں ملوث ہونے والوں کی فہرست پیش کریں۔

    چیف سیکرٹری کے دفتر کے ایک سینئر اہلکار نے بتایاکہ محکموں اور انسداد بدعنوانی کے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں اور مبینہ طور پر بدعنوانی کے معاملات میں ملوث ہونے والوں کی فہرست پیش کریں۔

    چیف سیکرٹری کے دفتر کے ایک سینئر اہلکار نے بتایاکہ محکموں اور انسداد بدعنوانی کے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں اور مبینہ طور پر بدعنوانی کے معاملات میں ملوث ہونے والوں کی فہرست پیش کریں۔

    • Share this:
    حکومت ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اور داغدار اہلکاروں کی فہرست بھی تیار کر رہی ہے جنہیں ان کی خدمات سے برخاست کیے جانے کا امکان ہے۔ چیف سیکرٹری کے دفتر کے ایک سینئر اہلکار نے بتایاکہ محکموں اور انسداد بدعنوانی کے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں اور مبینہ طور پر بدعنوانی کے معاملات میں ملوث ہونے والوں کی فہرست پیش کریں، حال ہی میں جموں و کشمیر انتظامیہ نے محکمہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ (HUDD) کے آٹھ ملازمین کو جموں و کشمیر سول سروسز ریگولیشنز، جموں و کشمیر کی محکمانہ کمیٹیوں کے آرٹیکل 226(2) کے تحت بدعنوانی کے الزام میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا حکم دیا۔

    اس سے قبل بھی کئی افسران کو اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں معطل بھی کیا گیا۔ جموں وکشمیر سیول سروسز ریگولیشنز، 1956 کا آرٹیکل 226(2) سرکاری ملازمین کو 22 سال کی اہلیت کی خدمت مکمل کرنے یا 48 سال کی عمر تک پہنچنے پر "عوامی مفاد" میں ریٹائر ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ اسی طرح حکومت نے محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر ماہ ماہانہ پروگریس رپورٹ ایل جی کے دفتر میں جمع کرائیں۔ عہدیدار نے کہا کہ حکومت نے منصوبوں میں تاخیر کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کابھی فیصلہ کیا ہے۔
    چیف سیکریٹری کے ایک سینئر اہلکار نے مزید بتایا کہ حکومت کی طرف سے محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ حکومت کو فنڈز کے ضائع ہونے پر تشویش ہے کیونکہ ملازمین فنڈز کا بروقت استعمال نہیں کر رہے تھے۔ حکام کی عدم سنجیدگی کے نتیجے میں فنڈز لیپس ہو گئے۔ "اگر فنڈز جاری کیے جاتے ہیں، تو متعلقہ اہلکار کسی بھی کوتاہی کے ذمہ دار ہوں گے،" ۔

     


    محکموں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ فنڈز کے ذرائع معلوم کرنے کے لیے محکمہ پلاننگ اینڈ فنانس سے مناسب منظوری لے کر ترقیاتی کام شروع کیے جائیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اے سی بی اور جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سے کہا ہے کہ وہ جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کریں اور بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے نئے معیارات قائم کرنے کے لیے باہمی تعاون سے کام کریں۔ جے اینڈ کے ری آرگنائزیشن ایکٹ کے کام کرنے کے بعد، اینٹی کرپشن بیورو سنٹرل ویجیلنس کمیشن کی طرز پر کام کرتا ہے۔ وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر اسٹیٹ ویجیلنس کمیشن ایکٹ 2011 کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔ ان میں کئی ایسے بیوروکریٹس بھی ہیں جنہیں غلط کاموں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے باوجود حکومت نے بیر پوسٹنگ دی ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: