உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    رامبن کے کئی مقامات پر مٹی کے تودے گرنے سے ٹریفک کی آمدورفت بند، لوگ پریشان

    Youtube Video

    نجی تعمیراتی کمپنیوں نے انجینیرنگ کے تمام ضابط کو بالائے طاق رکھ کر کام جاری رکھا جسکی وجہ سے سڑک خستہ حال ہوگئی اور مٹی کے تودے گرنے کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس دوران ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئیں اور لوگ زخمی بھی ہوئے ۔

    • Share this:
    جموں سرینگر قومی شاہراہ ضلع رامبن Jammu Srinagar National Highway کے کئی مقامات پر مٹی کے تودے گرنے سے ٹریفک کی آمدورفت بند ہے۔ موسم میں آئی بہتری کے بعد تعمیراتی کمپنی کی جانب سے شاہراہ کی بحالی کا کام شروع کیا گیا جس کے بعد جموں سرینگر قومی شاہراہ پر درماندہ مسافر و مال بردار گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی گئی۔ قاضی گنڈ اور جھکینی ادھمپور میں درماندہ مسافر بردار گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی گئی جن میں اکثر ۔ٹریفک پولیس انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے ایمرجنسی صورتحال کے بغیر شاہراہ پر سفر کرنے سے گریز کریں۔
    وہیں قومی شاہراہ پر تعمیراتی کام کے دوران ہوئی ناقص کارکردگی پر بھی عوام سوال اٹھا رہی ہے اور حکومت کی جانب سے بے انتہا پیسہ خرچ کرنے کے باوجود زمینی سطح پر تصویر کے ابتر ہونے پر کانگریس لیڈر و سابق رکن اسمبلی رامبن اشوک کمار نے نیشنل ہائے کی کارکردگی پر سنگین سوال اٹھائے اور کہا کہ حکومت پروجیکٹ کی سروے بار بار تبدیلنجی تعمیراتی کمپنیوں کو فائیدہ پہنچانے کیلئے کام کار رہی ہے اسلئے سال دو ہزار انیس میں مکمل ہونے والا قومی شاہراہ کا فورلین پروجیکٹ ابھی تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی عوام کو سڑک کی خستہ حالی اور بڑھتے ہوئے سڑک حادثات میں انسانی جانوں کے زیاں کے علاؤہ کچھ میں ملا اور ایل۔جی انتظامیہ اسے روکنے میں ناکام ہے۔ واضح رہے کہ جموں کشمیر قومی شاہراہ کی کشادگی کیلئے 2015 سے کام شروع کیا گیا تھا جس میں سب سے پہلے ہندوستان کنسٹرکشن کمپنی اور گیمن انڈیا کو ٹھیکہ دیا گیا جس کے بعد کئی کمپنیوں کو تبدیل کیا گیا جس میں آشا پوار،سی پی پی ایل جیسی نجی کمپنیاں شامل تھی۔

    نجی تعمیراتی کمپنیوں نے انجینیرنگ کے تمام ضابط کو بالائے طاق رکھ کر کام جاری رکھا جسکی وجہ سے سڑک خستہ حال ہوگئی اور مٹی کے تودے گرنے کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔

    اس دوران ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئیں اور لوگ زخمی بھی ہوئے ۔ ایک بار پھر سے سال دو ہزار اکیس میں پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے سروے کو تبدیل کیا گیا اور پروجیکٹ میں ٹنل اور فلائی اوورز بنانے کیلئے نئے سرے سے رقم و اگزار کئی گئی اور اب ٹھیکہ دو اور نجی کمپنیوں۔ کو الاٹ کیا گیا جس میں سیگل انڈیابھی شامل ہے جو رامسو علاقے میں فلائی اور اور رامبن بانہال ٹنل بننے کا کام کریگی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: