உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: لولاب میں ہندو مسلم بھائی چارہ کی بہترین مثال، پنڈت خاتون ریتا کی آخری رسومات مسلمانوں نے ادا کی

    جموں وکشمیر: لولاب میں پنڈت خاتون ریتا کی آخری رسومات مسلمانوں نے ادا کی

    جموں وکشمیر: لولاب میں پنڈت خاتون ریتا کی آخری رسومات مسلمانوں نے ادا کی

    جموں وکشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ کے لال پو رہ لو لا ب میں آج اس وقت ہندو مسلم بھائی چار ے کی جھلک دیکھنے کو ملی جب ایک پنڈت خاتون ریتا جی عرف ریتا ما سی کی آخری رسومات مقامی مسلمانوں نے انجام دی۔ تفصیلات کے مطابق کہ ریتا جی نامی یہ پنڈت خاتون یہاں ہی رہی جب سبھی پنڈت وادی چھوڑ گئے اور وہ مقامی مسلمانوں کے ہمراہ رہنے کو ترجیح دی تاہم گزشتہ روز ریتاماسی کا انتقال ہوگیا اور وہاں مقامی مسلمانوں نے زبردست رنج و غم کا اظہار کیا اور آخری رسومات کی انجام دینے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

    • Share this:
    لولاب: جموں وکشمیر کے سرحدی ضلع کپواڑہ کے لال پورہ لولاب میں آج اس وقت ہندو مسلم بھائی چارہ کی جھلک دیکھنے کو ملی، جب ایک پنڈت خاتون ریتا جی عرف ریتا ماسی کی آخری رسومات مقامی مسلمانوں نے ادا دی۔ تفصیلات کے مطابق، ریتا جی نامی یہ پنڈت خاتون یہاں ہی رہی جب سبھی پنڈت وادی چھوڑ گئے اور وہ مقامی مسلمانوں کے ہمراہ رہنے کو ترجیح دی۔ تاہم گزشتہ روز ریتا ماسی کا انتقال ہوگیا اور وہاں مقامی مسلمانوں نے زبردست رنج و غم کا اظہار کیا اور آخری رسومات کی انجام دینے  میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

    اس موقع پر پنڈت خاتون کے رشتے داروں نے مقامی مسلمان بھائیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں ہندو مسلم اتحاد برقرار ہے۔ ریتا کماری کا کنبہ نامساعد حالات میں بھی کشمیر میں رہا اور اپنا کاروبار مسلمانوں کے ساتھ انجام دے رہا تھا۔ پنڈت خاتون کے رشتے داروں کا کہنا تھا کہ  کشمیر فا اُلز نامی فلم بنانے والوں کے لئے یہ اتحاد آئینہ ہے کہ کس طرح سے مسلمان اور پنڈت ایک ساتھ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شامل رہتے ہیں، لہٰذا نفرت کی دیوار کھڑی کرنے کے بجائے محبت کی دیوار تعمیر کی جائے۔

    کپواڑہ کے لال پورہ لولاب میں آج اس وقت ہندو مسلم بھائی چارہ کی جھلک دیکھنے کو ملی، جب ایک پنڈت خاتون ریتا جی عرف ریتا ماسی کی آخری رسومات مقامی مسلمانوں نے ادا دی۔
    کپواڑہ کے لال پورہ لولاب میں آج اس وقت ہندو مسلم بھائی چارہ کی جھلک دیکھنے کو ملی، جب ایک پنڈت خاتون ریتا جی عرف ریتا ماسی کی آخری رسومات مقامی مسلمانوں نے ادا دی۔


    انہوں نے کہا کہ کشمیر فااُلز نامی یہ فلم ہمیں منظور نہیں۔ بلکہ وہ صرف نفرت پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر میں ہندو مسلم اتحاد برقرار رکھنے کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہتے ہیں۔ وہی مسلمان بھائیوں نے کہا کہ ہمیں وہ دن یاد آرہے ہیں، جب ہم کشمیری ہندو کے ہر دکھ سکھ میں شامل رہتے تھے۔

    ساتھ ہی  جب مسلمانوں کا کوئی تہوار ہوتا تھا تو مسلمان ان کے تہواروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور جب مسلمانوں کا کوئی بڑا دن ہوتا تھا تو کشمیری پنڈت اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ اور ہندو مسلم بھائی چارہ ہر وقت دکھائی دیتا تھا۔ تاہم مسلمانوں نے کہا کہ وہ آج بھی کشمیری پنڈتوں کی واپسی کیلئے استقبال کیلئے دل سے انتظار کرتے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: