உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: قدیم سوریہ مندر سے دیا گیا بھائی چارہ کا پیغام، سناتن دھرم کے پرچار کا دہرایا عزم

    جموں وکشمیر: قدیم سوریہ مندر سے دیا گیا بھائی چارہ کا پیغام

    جموں وکشمیر: قدیم سوریہ مندر سے دیا گیا بھائی چارہ کا پیغام

    کشمیر کے قدیم مندروں کی شان رفتہ بحال کرنے اور ان مندروں میں سناتن دھرم کی تشہیر کرانے کی غرض سے مٹن کے سوریہ مندر اور قدیم مارٹنڈ مندر میں مہا یگیہ اور خصوصی پوجا کا اہتمام ہوا۔ ان تقاریب میں ورندھاون کے سادھوؤں اور آشرم کے سو سے زائد شاگردوں نے شرکت کی۔

    • Share this:
    جموں کشمیر: کشمیر کے قدیم مندروں کی شان رفتہ بحال کرنے اور ان مندروں میں سناتن دھرم کی تشہیر کرانے کی غرض سے مٹن کے سوریہ مندر اور قدیم مارٹنڈ مندر میں مہا یگیہ اور خصوصی پوجا کا اہتمام ہوا۔ ان تقاریب میں ورندھاون کے سادھوؤں اور آشرم کے سو سے زائد شاگردوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر کشمیر سے امن اور بھائی چارے کا پیغام دیا گیا۔

    کشمیر کے قدیم مندروں میں مذہبی تقاریب کی بحالی کی غرض سے اتر پردیش کے راشٹریہ آنند سرو پیٹھ کے سادھوؤں اور شاگردوں پر مشتمل وفد نے جنوبی کشمیر کے پراچین مندروں کا دودہ کیا۔ اس دوران معروف سوریہ مندر اور راجا للتا دتیہ کے تعمیر کردہ قدیم مارٹنڈ مندر میں مہا یگیہ اور خصوصی پوجا کا اہتمام ہوا۔ دو دنوں کے دورے کے دوران کشمیر میں نامساعد حالات کی زد میں آکر مارے گئے بے گناہ افراد کے حق میں بھی خاص یگیہ کیا گیا۔
    اس موقع پر سوامی گرو ردھرا ناتھ نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ کئی برسوں سے کشمیر کے مندروں اور تیرتھ استھانوں میں مذہبی تقاریب میں خاصی کمی واقع ہوگئی ہے۔ جبکہ کشمیر زمانہ قدیم سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے، اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر میں علم کی روانی کو دوبارہ بحال کیا جائے اور اس جنت نما خطے کو دوبارہ امن کا گہوارہ بنانے میں مقامی لوگ بھی کلیدی رول ادا کرے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    جموں وکشمیر: کولگام انکاونٹر میں لشکر طیبہ سے وابستہ پاکستانی دہشت گرد سمیت دو ہلاک

    دوسری جانب، مقامی پنڈتوں نے اس طرح کی تقاریب کا خیر مقدم کیا۔ جبکہ کشمیر سے پیام امن کے ساتھ ساتھ مذہبی بھائی چارے اور ملک میں پھیلتی نفرتوں کی دیوار کو ختم کرنے کا پیغام بھی بلند ہوا۔ جبکہ شاردھا پیٹھ تک عام عقیدت مندوں کی رسائی ممکن بنانے کے لئے بھی مطالبہ کیا گیا۔ سوامی گرو رودراناتھ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم اور جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر شاردھا پیٹھ کے راستے کو کھولنے میں ٹھوس اقدامات اٹھائے تاکہ پورے ہندوستان سے عقیدت مند وہاں درشن کے لئے جا سکیں۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    جموں وکشمیر: پلوامہ میں پولیس کی کارروائی، اغوا کیس کو 24 گھنٹے کے اندر حل کردیا گیا
    مارٹنڈ پروہت سبھا کے صدر اشوک کمار سدھا نے کہا کہ ورندھاون سے آئے اس وفد کے آنے سے انہیں بے حد خوشی حاصل ہوئی ہے۔ اشوک سدھا نے کہا کہ سوریہ مندر پورے بھارت میں مذہبی اور تاریخی لحاظ سے کافی اہم ہے۔ جبکہ یہ مقام مذیبی ہم آہنگی اور انسانی بھائی چارہ کے لئے بھی کافی اہم ہے۔ اس لئے ملک بھر سے یہاں پر عقیدت مند آتے رہے ہیں اور نامساعد حالات کے باوجود بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔

    کشمیر میں نامساعد حالات کی وجہ سے گزشتہ برسوں میں اس طرح کی تقاریب میں نمایاں کمی کو دور کرنے کے لئے ان سادھوؤں اور گیانیوں نے تمام مندروں کی تجدید نو کا بھی مطالبہ کیا جبکہ یہاں کے لوگوں سے دوریوں کو مٹانے میں کلیدی رول ادا کرنے کی بھی تلقین کی گئی۔ واضح رہے کہ مٹن کا معروف سوریہ مندر مذہبی اور تاریخی لحاظ سے کافی اہمیت کا حامل ہے۔ جبکہ مارٹنڈ مندر بھی کشمیر کی قدیم ترین فن تعمیر اور ثقافت کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ ایسے میں اس طرح کی تقاریب اس میراث کو دنیا کے سامنے لانے میں بھی کافی کارگر ثابت ہو سکتی ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: