உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: این آئی اے نے پونچھ میں 9 مقامات پر چھاپہ ماری

    جموں وکشمیر: این آئی اے نے پونچھ میں 9 مقامات پر چھاپہ ماری کی۔ فائل فوٹو

    جموں وکشمیر: این آئی اے نے پونچھ میں 9 مقامات پر چھاپہ ماری کی۔ فائل فوٹو

    تحقیقیقاتی ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ معطل شدہ ایل او سی تجارت کی تحقیقات کے سلسلے میں این آئی اے نے اتوار کو جموں و کشمیر پولیس، سی آر پی ایف اور آئی ٹی بی پی کے ساتھ مل کر ضلع پونچھ میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      جموں: قومی تحقیقات ایجنسی (این آئی اے) نے اتوار کو جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔ تحقیقیقاتی ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ معطل شدہ ایل او سی تجارت کی تحقیقات کے سلسلے میں این آئی اے نے اتوار کو جموں و کشمیر پولیس، سی آر پی ایف اور آئی ٹی بی پی کے ساتھ مل کر ضلع پونچھ میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔ اس میں کہا گیا: 'این آئی اے نے 9 دسمبر 2016 کو یو اے پی اے کی دفعہ 17 کے تحت ایک مقدمہ درج کیا تھا۔ ایل او سی پر تجارت سال 2008 میں جموں و کشمیر اور پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے درمیان اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر شروع کی گی تھی'۔
      بیان میں کہا گیا کہ چھاپہ مار کارروائی کے دوران مشتبہ افراد کے گھروں یا دفاتر سے دستاویزات، ڈیجیٹل آلات اور دیگر ممنوعہ مواد برآمد کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا: 'یہ مقدمہ کیلیفورنیا بادام اور دیگر مصنوعات کی درآمد کے ذریعے بڑے پیمانے پر فنڈز کو پاکستان سے بھارت بھیجنے کا ہے۔ یہ تجارت بارہمولہ میں سلام آباد اوڑی اور پونچھ میں چکاں دا باغ ٹریڈ سینٹرز پر ہوتی تھی'۔
      این آئی اے کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ فنڈز جموں و کشمیر میں 'دہشت گردی' اور 'علاحدگی پسندی' کو فروغ دینے کے لئے استعمال کی جاتی تھی۔ اس میں کہا گیا ہے: 'تحقیقات کے دوران پایا گیا ہے کہ کچھ تاجر متذکرہ مصنوعات کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی ٹیرر تنظیموں کو منتقل کرتی تھیں اور ان میں سے کچھ کے ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط تھے'۔
      واضح رہے کہ 2019 کے اوائل میں ہونے والے ہلاکت خیز پلوامہ حملے کے بعد وزارت داخلہ نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت سلام آباد (اوڑی) اور چکاں دا باغ (پونچھ) کرسنگ پوائنٹس پر ہند – پاک دو طرفہ تجارت تاحکم ثانی معطل کیا گیا۔ حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ یہ تجارت غیر قانونی سرگرمیوں کے لئے استعمال کی جا رہی ہے۔ تب سے لے کر اب تک سری نگر – مظفر آباد اور پوچھ – راولا کوٹ بس سروسز بھی معطل ہی ہیں۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: