உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں میں پھر ہورہا ہے Coronavirus کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ

     بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ لوگ اسے ہلکے میں لے رہے ہیں اور مناسب احتیاطی تدابیر نہیں کر رہے ہیں ۔ کووڈ کیسوں میں گزشتہ دنوں کے دوران اضافے کے باوجود لوگ اسے ہلکے میں لے رہے ہیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔

    بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ لوگ اسے ہلکے میں لے رہے ہیں اور مناسب احتیاطی تدابیر نہیں کر رہے ہیں ۔ کووڈ کیسوں میں گزشتہ دنوں کے دوران اضافے کے باوجود لوگ اسے ہلکے میں لے رہے ہیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔

    بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ لوگ اسے ہلکے میں لے رہے ہیں اور مناسب احتیاطی تدابیر نہیں کر رہے ہیں ۔ کووڈ کیسوں میں گزشتہ دنوں کے دوران اضافے کے باوجود لوگ اسے ہلکے میں لے رہے ہیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔

    • Share this:
    جموں: گزشتہ کئی روز سے جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے معاملات میں بدستور اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کیس جموں صوبے سے سامنے آرہے ہیں جس وجہ سے انتظامیہ بھی متحرک ہوگئی ہے اور لوگوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی صلاح دے رہے ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ لوگ اسے ہلکے میں لے رہے ہیں اور مناسب احتیاطی تدابیر نہیں کر رہے ہیں ۔ کووڈ کیسوں میں گزشتہ دنوں کے دوران اضافے کے باوجود لوگ اسے ہلکے میں لے رہے ہیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ جموں صوبے میں اگرچہ کیسوں میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے اور کئی مریض ہسپتالوں میں بھی بھرتی ہورہے ہیں پھر بھی لوگوں کی طرف سے غفلت برتی جارہی ہے جس وجہ سے اس مرض کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ جموں و کشمیر میں کل کورونا مریضوں ے پانچ سو پانچ کیس سامنے آئے جن میں سے دو سو ستتھر جموں صوبے کے ہیں۔ ان میں سے دو سو معاملے صرف جموں ضلع میں ہی سامنے آئے ہیں جبکہ اودھمپور میں پچیس کیس اور کٹھوعہ میں تیرہ کیس سامنے آئے ہیں۔

    کووڈ کے بڑھتے کیسوں کے مد نظر جموں کے ڈپٹی کمیشنر نے کچھ روز پہلے ہی لوگوں کو ماسک پہننے اور دو گز کی دوری کو یقینی بنانے کی اگرچہ ہدایات بھی جاری کیں تاہم زمینی سطح پر ان ہدایات پر کوئی عمل دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ لوگ طرھ طرح کے بہانے بناکر ماسک نہ لگانے کی وجہ بتا رہے ہیں۔

    شہر کے مختلف بازاروں میں نہ تو دکاندار اور نہ ہی انکے گاہک ماسک پہنے کے دکھائی دے رہے ہیں۔ سبھی لوگ سرکاری احکامات کی دھجیاں اڑاتے دیکھے جارہے ہیں اور سرکاری ایجنسیاں بھی تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ جموں کے رہنے والے اشوک کمار نے ماسک گھر میں ہی بھول جانے کا بہانہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب آگے ضرور ماسک کا استعمال کریں گے۔ ایک اور شخص جو جموں کے بوڑی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں نے ابھی لوگوں کو یہ سمجھنے میں وقت لگے گا کہ بیماری دوبارہ پھیل رہی ہے اور اسکے بعد ہی سبھی لوگ ماسک کا استعمال شروع کریں گے۔

    جموں شہر میں ان دنوں امرناتھ یاتریوں اور سیاحوں کی کافی بھیڑ دیکھنے کو مل رہی ہے جس وجہ سے اس بیماری کے دوبارہ پھیلنے کا خطرہ لاحق ہے۔ ایسے میں بیشتر یاتری اور سیاح ماسک کے بغیر ہی بازاروں میں دیکھے جارہے ہیں۔ جب نیوز ایٹین اردو نے امرناتھ یاتریون اور جموں آئے سیاحوں سے ماسک نہ لگانے کی وجہ پوچھی تو انکا کہنا تھا کہ انہیں یہاں جاری کئے گئے سرکاری ہدایات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

    میرٹھ سے آئے امرناتھ یاتری سوہن لعل نے ماسک نہ لگانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ہوٹل میں ہی اپنی ماسک بھول آئے ہیں اور یہ بھی ہے کہ انہیں اسبات کی بھی جانکاری نہیں کہ یہاں کے انتظامیہ نے ماسک پہننے کے ہدایات جاری کئے ہیں۔ ایک اور یاتری آشیش گوئیل کا کہنا تھا کہ انہیں اسبا ت کا علم نہیں ہے کہ جموں میں یہ بیماری دوبارہ پھیل رہی ہے۔اگرچہ ماسک نہ پہننے والوں کی تعداد زیادہ ہے تاہم کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو پوری طرح سے محکمہ ہیلتھ کی ہدایات پر عمل کرکے ماسک کا استعمال کرتے ہوئے دو گز کی دوری کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    ایسے لوگون کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہوں نے ویکسین بھی لگائے ہیں تاہم احتیاط کرنا لازمی ہے اور سب لوگون کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہئیے تاکہ اس بیماری کو دوبارہ پھیلنے سے روکا جاسکے۔ واضح رہے جموں میڈیکل کالج کی پرنسپل ڈاکٹر ششی سودھن شرما نے کل ہی نیوز ایٹین اردو سے بات کرتے ہوئے لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ کورونا کی بیماری دوبارہ جموں میں پیر پسار رہی ہے لہذا لوگ ماسک پہننے اور دو گز کی دوری کو یقینی بنائیں تاکہ اس بیماری کو دوبارہ پھیلنے سے روکا جاسکے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: