ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی 6 سالہ عمر فاروق کے قتل کی دوسری برسی پر گھر میں پھر ماتم

چنانچہ گذشتہ روز معصوم عمر فاروق کی دوسری برسی کے موقع پر پھر لواحقین اور رشتہ دار زار وقطار روتے دیکھے گئے اور معصوم کی پانچ بہنیں اور اس کی ماں خون کے آنسو روتے رہے

  • Share this:
جموں وکشمیر: پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی 6 سالہ عمر فاروق کے قتل کی دوسری برسی پر گھر میں پھر ماتم
پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی 6 سالہ عمر فاروق کے قتل کی دوسری برسی پر گھر میں پھر ماتم

سرحدی ضلع کپواڑہ کے گلگام بگھت محلہ میں دو سال قبل آج ہی کے روز ایک آٹھ سالہ معصوم عمر فاروق ولد فاروق احمد کو نا معلوم افراد نے اغوا کے کئی روز بعد ایک مسخ شدہ لاش ایک پل کے نیچے دریا کے نزدیک پھینک دی تھی اور لاش کا ایک بازو بھی غائب تھا۔ اس دلدوز سانحے کی خبر پورے ضلع میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ چونکہ مذکورہ معصوم بچہ اپنی پانچ بہنوں کا واحد اکلوتا بھائی تھا اور ماں باپ کے لئے ایک ہی آنکھ کی روشنی سمجھاجارہا تھا ، چنانچہ اس واقعے کو لیکر ہر سو کہرام مچ گیا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس ہلاکت کو لیکر سڑکوں پر آگئے اور ہزاروں کی تعداد میں خواتین ومرد گلگام میں کرناہ کپوارہ سڑک پر کئی روز تک دھرنے پر بیٹھ گئے جس کے دوران ضلع انتظامیہ نے انہیں یقین دلایا کہ اس واقعے کی جانچ کی جائےگی اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائےگا۔


چنانچہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی اور اس سلسلے میں پولیس کی ایک خصوصی ٹیم ایس آئی ٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔ اس ہلاکت کو لیکر سیاسی لیڈران بھی معصوم کے گھر پہنچ گئے اور انہوں نے اس دلدوز سانحے اور سفاک قتل کی پر زو ر مذمت کرتے ہوئے قاتل کو ڈھونڈ نکالنے کا مطالبہ کیا ۔چنانچہ پولیس کی جانب سے جاری تحقیقات کے دوران کئی ایک افراد کی پوچھ تاچھ بھی کی گئی لیکن اس بیچ ایک سال گذرنے کے باوجود بھی جب اس کیس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا تو لواحقین نے ایک مرتبہ پھر پہلی برسی پر احتجاج شروع کر دیا جس کو دیکھتے ہوئے معاملے کی نوعیت پھر بگڑ گئی اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس واقعے کو لیکر پولیس کی تحقیقات پر سوالیہ اٹھانے لگے۔ چنانچہ اس کے بعد معاملے کو کرائم برانچ کے سپرد کر دیاگیا اور کرائم برانچ نے اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور تحقیقات میں تیزی لانے کا عندیہ دیا جس کے دوران باریک بینی کےساتھ تحقیقاتی عمل شروع ہونے لگا اور اس بات کی امیدیں بڑھنے لگیں کہ شاید قاتل بہت جلد گرفتار کرلیا جائیگا اور اس وقت کے کرائم برانچ کے سربراہ نے بھی گلگام علاقے میں لواحقین کےساتھ ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ اس واقعے کو لیکر انصاف فراہم کرنے کی پوری پوری کوشش کی جائےگی۔


چنانچہ ایسے میں لواحقین کی امیدیں بھی اب کرائم برانچ پر ٹک گئیں جس کو دیکھتے ہوئے کئی ایک افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان سے پوچھ تاچھ کا عمل جاری رہا لیکن اب کرائم برانچ کو کیس ہاتھ میں لئے ایک سال بیت گیا لیکن نہ ہی قاتل کا کوئی سراغ مل رہا ہے اور نہ ہی کیس کو کسی نتیجہ پر پہنچانے کی کوشش ہورہی ہے۔ چنانچہ گذشتہ روز معصوم عمر فاروق کی دوسری برسی کے موقع پر پھر لواحقین اور رشتہ دار زار وقطار روتے دیکھے گئے اور معصوم کی پانچ بہنیں اور اس کی ماں خون کے آنسو روتے رہے جس کے دوران پھر ایک مرتبہ  معصوم عمر فاروق کے قاتلوں کا سراغ لگانے کا بھر پور مطالبہ دہرایا گیا۔  معصوم کی والدہ نے نیوز ایٹین کو بتایا کہ وہ ہر برسی پر اس کے قاتل تک پہنچنے کی امید کرتی رہتی ہے کیونکہ ان کے دل میں اب ایک ہی ارمان رہ گیا ہے کہ وہ اپنے لخت جگر کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچتا دیکھیں تاکہ کسی حد تک اس کے زخمی دل کو کچھ لمحوں کا سکون تو ملے۔  ایسے میں اس کے والد نے بھی اسی طرح کے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگر قاتل کی تلاش میں مزید وقت لگا تو یہ کنبہ اجتماعی خود کشی کرنے کےلئے بھی تیار ہے کیونکہ ان کے پاس اب کچھ نہیں رہا ہے ۔چنانچہ ایک بار پھر دوسری برسی پر پورے گھر میں ماتم چھا گیا اور یہ سلسلہ ہر گزرنے والے سال کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 20, 2020 08:30 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading