உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں اقلیتوں کے Target Killing پر دائرعرضی پر سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار

    سپریم کورٹ میں کشمیر میں اقلیتوں کے ٹارگٹ کلنگ پر دائرعرضی پر سماعت کرنے سے عدالت کا انکار

    سپریم کورٹ میں کشمیر میں اقلیتوں کے ٹارگٹ کلنگ پر دائرعرضی پر سماعت کرنے سے عدالت کا انکار

    سپریم کورٹ نے اس عرضی پر غور کرنے سے انکار کر دیا، جس میں 1990 میں کشمیر میں کشمیری پنڈتوں اور سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کو انصاف کے لئے حکومت سے رجوع کرنے کا مشورہ بھی دیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
    جموں وکشمیر: سپریم کورٹ نے اس عرضی پر غور کرنے سے انکار کر دیا، جس میں 1990 میں کشمیر میں کشمیری پنڈتوں اور سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کو انصاف کے لئے حکومت سے رجوع کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ دہشت گردی کے متاثرین سمیت کشمیری مہاجرین نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت اب کارروائی کرے گی اور ایس آئی ٹی تشکیل دے گی تاکہ دہشت گردی کے متاثرین کو انصاف مل سکے۔
    کشمیری پنڈتوں کے قتل عام سے متاثر بُھوشن لال نامی شخص اس وقت جموں کے علاقے برنائی میں مقیم ہیں، لیکن اصل میں اس کا تعلق جنوبی کشمیر کے گاؤں نادی مرگ سے ہے، جس نے مارچ 2003 میں 24 کشمیری پنڈتوں کا قتل عام دیکھا۔ بُھوشن نے اپنے ماموں اور دیگر پانچ قریبی رشتہ داروں سمیت اپنے کئی رشتہ داروں کو کھو دیا۔ مذکورہ قتل عام میں رشتہ داردیگر دہشت گردی کے متاثرین کی طرح، بُھوشن لال کو بھی امید تھی کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت کرے گی۔ گرچہ ایسا نہیں ہوا، لیکن پھر بھی بُھوشن لال پُرامید ہیں کہ اب حکومت ہند ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ٹھوس قدم اٹھائے گی، تاکہ کشمیر میں 1990 سے لے کر آج تک ہونے والی اقلیتوں کے قتل کی گہرائی تک جانچ کی جاسکے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    ہندوستان آنے پر سب سے پہلے نظام الدین درگاہ جائیں گی بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ

    یہ بھی پڑھیں۔

    Jammu and Kashmir: سیکورٹی اہلکاروں کو ملی بڑی کامیابی، تصادم میں 2 دہشت گرد ہلاک

     

    بھوشن لال نے نیوز18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی کشمیرکی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے اور کشمیری پنڈتوں سے کشمیر سے نکلنے کے بعد اس طبقے کو کافی مصائب جھیلنے پڑے۔ بھوشن لال نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اس حوالے سے عرضی دائر ہونے سے یقینی طور پر ایک انصاف کی ایک امید جاگ اٹھی تھی، تاہم عدالت عظمیٰ نے اس عرضی کو قبول نہیں کیا، لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ عدالت نے حکومت کی جانب رجوع کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کی رو سے انصاف کا دروازہ دوبارہ کھلنے کی امیدیں جاگ اٹھی ہیں۔

    دوسری طرف کشمیری پنڈت برادری کے افراد کا بھی کہنا ہے کہ وہ بالکل مایوس نہیں ہیں۔ اس کے بجائے، وہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کو دوبارہ ان سے رجوع کرنے کے لیے کہہ کر اچھا کیا ہے اگر حکومت نے ان کی بات نہیں سنی اور ان کے مطالبات کو پورا نہیں کیا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: