உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کورونا کے دور میں یتیم ہوئے بچوں کی فروخت کے معاملے میں وادی کشمیر میں مختلف مقامات پر یتیم ٹرسٹوں اور دیگر اداروں کی تحقیقات

    جموں  کشمیر کے پانپور میں کورونا وائرس سے یتیم ہوئے بچوں کو ایک این جی او کی جانب سے مبینہ طور پر فروخت کرنے کے معاملے سے پوری وادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وادی میں مختلف مقامات پر یتیم ٹرسٹوں اور دیگر اداروں کی تحقیقات  شروع کر دی گئی ہے۔

    جموں  کشمیر کے پانپور میں کورونا وائرس سے یتیم ہوئے بچوں کو ایک این جی او کی جانب سے مبینہ طور پر فروخت کرنے کے معاملے سے پوری وادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وادی میں مختلف مقامات پر یتیم ٹرسٹوں اور دیگر اداروں کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔

    جموں  کشمیر کے پانپور میں کورونا وائرس سے یتیم ہوئے بچوں کو ایک این جی او کی جانب سے مبینہ طور پر فروخت کرنے کے معاملے سے پوری وادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وادی میں مختلف مقامات پر یتیم ٹرسٹوں اور دیگر اداروں کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔

    • Share this:
    جموں کشمیر کے پانپور میں کورونا وائرس سے یتیم ہوئے بچوں کو ایک این جی او کی جانب سے مبینہ طور پر فروخت کرنے کے معاملے سے پوری وادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وادی میں مختلف مقامات پر یتیم ٹرسٹوں اور دیگر اداروں کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ گزشتہ روز جنوبی کشمیر کے پانپور میں کورونا وائرس سے یتیم ہوئے بچوں کو ایک این جی او کی جانب سے مبینہ طور پر فروخت کرنے کے معاملے سے پوری وادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ وادی میں مختلف یتیم ٹرسٹوں اور دیگر اداروں کی جانچ شروع کردی گئی۔

    اس معاملے کے پیش نظر مختلف مقامات پر سیول انتظامیہ اور جموں وکشمیر پولیس نے مشترکہ طور پر دارلعلوم اور یتیم ٹرسٹوں کا دورہ کرکے ان کے کام کاج اور ان اداروں میں موجود بچوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران افسران نے ان اداروں کے کاغذات اور بچوں کی فہرست کابھی جائزہ لیا۔ شمالی کشمیر کے پٹن میں ایس ڈی ایم پٹن سید فہیم بیہقی اور ایس ایچ او پٹن نثار احمد نے سنگھ پور اور پٹن کے مختلف علاقوں میں چلائے جارہے مختلف دارالعلوم اور یتیم ٹرسٹوں کا دورہ کیا ایس ڈی ایم نے کہاکہ یہ دورہ اس مقصد سے کیاگیا کہ وہاں موجود طلباء کو دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا جا سکے۔ایس ڈی ایم پٹن نے بتایا کہ یہ دورہ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے کیا گیا کہ طلباء کوان اداروں کی جانب سے مناسب سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور ان اداروں کے پانچ سال تک کے ریکارڈ کی بھی جانچ پڑتال کی گئی۔ ساتھ ہی بچوں کے بارے میں جانکاری حاصل کرنی ہے کہ ان بچوں کو کس طرح رکھا جارہاہے۔

    انہوں نے کہاکہ بنیادی اور مناسب سہولیات کے فقدان پر متعلقہ اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایس ڈی ایم نے بتایا کہ ان اداروں میں اس بات کا بھی پتہ لگایا جاسکے کہ یہاں قیام پزیر اور زیر تعلیم بچوں کو کس آگے چل کیسے ان کے والدین کے حوالے کیاجاتاہے۔انہوں نے کہاکہ جن کے والدین نہیں ہونگے انہیں کس طرح ان کے سرپرستوں کے حوالے کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان اداروں میں گزشتہ کئی برسوں کے ریکارڈ کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز جوں ہی یہ خبر پھیلی کہ پانپور میں کورونا وائرس سے ہلاک ہوئے افراد کے بچوں کو ایک این جی او فروخت کررہی ہیں تو ہر جانب تشویش کی لہر دوڑ گئی اور لوگوں نے اس سنجیدہ معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کرنے کی اپیل کی ۔

    ایک سماجی کارکن غلام حسن بابا نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جوں ہی انہوں نے یہ خبر سنی وہ شش و پنج میں پڑ گئے کہ وہ سوچنے لگے کہ انسان اتنا گر گیا کہ وہ انسانیت کو شرمسار کرنے لگے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکار اور پولیس کو ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے اور ایسے معاملات کی روک تھام کی اشد ضرورت ہے اور یتیم بچوں کی زندگیوں کو بچانے کے لئے ہر زندہ انسان کو آگے آنا چاہیے۔

    قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: