உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانگریس سے مستعفٰی ہونے اور آزاد کے ساتھ سیاسی لیڈران کا شامل ہونے کا سلسلہ جاری

    یہ لیڈران غلام نبی آزاد کے کانگریس سے کنارہ کرنے کے بعد آزاد کی حمایت میں کانگریس کو چھوڑ رہے ہیں اور غلام نبی آزاد کا ساتھ دینے کیلئے آگے آ رہے ہیں  اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آزاد کا وژن جموں اور کشمیر کے لیے ایک نئے اور روشن مستقبل کی تشکیل کرے گا

    یہ لیڈران غلام نبی آزاد کے کانگریس سے کنارہ کرنے کے بعد آزاد کی حمایت میں کانگریس کو چھوڑ رہے ہیں اور غلام نبی آزاد کا ساتھ دینے کیلئے آگے آ رہے ہیں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آزاد کا وژن جموں اور کشمیر کے لیے ایک نئے اور روشن مستقبل کی تشکیل کرے گا

    یہ لیڈران غلام نبی آزاد کے کانگریس سے کنارہ کرنے کے بعد آزاد کی حمایت میں کانگریس کو چھوڑ رہے ہیں اور غلام نبی آزاد کا ساتھ دینے کیلئے آگے آ رہے ہیں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آزاد کا وژن جموں اور کشمیر کے لیے ایک نئے اور روشن مستقبل کی تشکیل کرے گا

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Srinagar | Delhi
    • Share this:
    جموں کشمیر:- سابق نائب وزیر اعلیٰ جموں کشمیر تارا چند سمیت کانگریس کے 70 سینئر لیڈروں نے منگل کے روز غلام نبی آزاد کی حمایت میں پارٹی سے استعفیٰ دے دیا اور اسطرح سے کانگریس سے لیڈران اور کارکنان کا نکلنا بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ یہ لیڈران غلام نبی آزاد کے کانگریس سے کنارہ کرنے کے بعد آزاد کی حمایت میں کانگریس کو چھوڑ رہے ہیں اور غلام نبی آزاد کا ساتھ دینے کیلئے آگے آ رہے ہیں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آزاد کا وژن جموں اور کشمیر کے لیے ایک نئے اور روشن مستقبل کی تشکیل کرے گا، منگل کے روز کانگریس کے ان لیڈران نے پارٹی صدر سونیا گاندھی کو مشترکہ استعفیٰ پیش کیا۔
    تارا چند نے کانگریس کے سینیر لیڈران و سابق وزراء عبدالمجید وانی، منوہر لال شرما، گھارو رام اور سابق ایم ایل اے بلوان سنگھ سمیت دیگر لیڈران کے ہمراہ اپنا استعفیٰ کانگریس صدر سونیا گاندھی کو پیش کیا۔ لیڈران نے اس بات کا خلاصہ جموں میں انکی جانب سے منعقدہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ جموں کشمیر میں اس وقت سیاسی اتھل پتھل پیدا ہوگئ جب جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے قدآور رہنما غلام نبی آزاد نے جمعہ کو کانگریس کے ساتھ اپنی پانچ دہائیوں کی رفاقت ختم کردی اور اس کے بعد کانگریس سے لیڈران کے نکلنے کا دور شروع ہوا جو اب بھی جاری ہے۔
    آزاد نے پارٹی کو 'جامع طور پر تباہ' قرار دیا اور اس کے پورے مشاورتی طریقہ کار کو 'منہدم' کرنے کے لیے راہل گاندھی پر تنقید کی۔ آزاد کا کہنا تھا "حالات اور کانگریس پارٹی میں قیادت کے بحران کی وجہ سے، جہاں پارٹی ہائی کمان کے ارد گرد ایک گروہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ انداز میں نظام چلا رہا ہے اور پارٹی کو برباد کر رہا ہے"۔

    بلوان سنگھ نے پڑھتے ہوئے کہا، "ہم سب کی دہائیوں پر وابستہ محیط پارٹی کے ساتھ بہت طویل وابستگی تھی اور جموں و کشمیر میں پارٹی کو وسعت دینے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل وقف کر دیے تھے لیکن بدقسمتی سے ہم نے پایا کہ ہمارے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے وہ ذلت آمیز تھا۔" جموں صوبے کے 64 رہنماؤں اور سینئر عہدیداروں کے دستخط شدہ مشترکہ استعفیٰ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ "ہمارے رہنما اور سرپرست غلام نبی آزاد نے آپ (سونیا گاندھی) کو لکھے گئے خط میں اس معاملے پر پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے، ہمیں یقین ہے کہ ہمیں بھی کانگریس سے باہر آنا چاہیے تاکہ تعمیر میں کوئی قابل قدر حصہ ڈالا جا سکے۔" ایک مثبت سیاسی معاشرہ جہاں لوگوں کی بات سنی جاتی ہے اور جواب بھی دیا جاتا ہے۔"

    واضح رہے کہ آزاد جلد ہی جموں و کشمیر سے قومی سطح کی پارٹی کا آغاز کریں گے۔ لیڈران کا میزد کہنا ہے کہ وہ سب آزاد کی حمایت کرتے ہیں اور وہ جموں و کشمیر کو روشن مستقبل کی طرف لے جانے کے سفر میں ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔ انہوں نے استعفیٰ کے خط میں دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو ایک منتخب حکومت کی غیر موجودگی میں ایک بے مثال بحران کا سامنا ہے۔ بلوان سنگھ نے کہا کہ آزاد کا یہاں سے قومی سطح کی پارٹی شروع کرنے کا فیصلہ امید اور نئے عزم کو تحریک دے گا تاکہ حالات ہمیشہ کے لیے درست ہو جائیں۔ انہوں نے کہا ہمیں یقین ہے کہ آزاد کی قیادت میں جموں و کشمیر تین سال کے وقفے کے بعد دوبارہ ریاست کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ وہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت اور قبل از وقت انتخابات کے لیے واحد اور سب سے طاقتور آواز ہیں۔"

    سستا ہوسکتا ہے ہوائی سفر! آج سے ہٹ جائے گی ٹکٹوں کے کرائے پر لگی 27 ماہ پرانی حد

    غلام نبی آزاد جموں۔کشمیر میں بنائیں گے اپنی پارٹی، کانگریس کے سابق MLA اور وزیر کا بیان




    سنگھ نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے خطوں اور برادریوں کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کے لیے ایک ہمیشہ کی امید ہے۔ "ہمیں یقین ہے کہ ان کا (آزاد کا) وژن جموں و کشمیر اور اس کے افسردہ عوام کو مایوسی کے تاریک سائے سے باہر آنے اور جموں و کشمیر کے لیے ایک نئے اور روشن مستقبل کی تشکیل میں مدد دے گا۔" کانگریس کے ایک درجن سے زیادہ سرکردہ لیڈران بشمول سابق وزراء اور قانون سازوں کے علاوہ سینکڑوں پنچایتی راج ادارے کے ارکان بھی آزاد کے دامن تھامنے کےلیے کانگریس سے پہلے ہی نکل گۓ ہیں اور آنے والے وقت میں مزید لیڈران کی آزاد اتحاد میں شامل ہونے کا خدشہ جتایا جا رہا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: