உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وادی کشمیر میں سیاحت کی صنعت عروج پر، یہاں جانئے گزشتہ سال اور رواں برس کے اعدادوشمار

    وادی کشمیر میں سیاحت کی صنعت عروج پر ہے۔ رواں برس کے پہلے اٹھارہ ہفتوں میں گزشتہ سال کی کل تعداد کے مقابلے میں زیادہ سیاحوں نے ابھی تک کی وادی کی سیر کی ہے۔ 

    وادی کشمیر میں سیاحت کی صنعت عروج پر ہے۔ رواں برس کے پہلے اٹھارہ ہفتوں میں گزشتہ سال کی کل تعداد کے مقابلے میں زیادہ سیاحوں نے ابھی تک کی وادی کی سیر کی ہے۔ 

    وادی کشمیر میں سیاحت کی صنعت عروج پر ہے۔ رواں برس کے پہلے اٹھارہ ہفتوں میں گزشتہ سال کی کل تعداد کے مقابلے میں زیادہ سیاحوں نے ابھی تک کی وادی کی سیر کی ہے۔ 

    • Share this:
    جموں: وادی کشمیر میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور ہر روز ہزاروں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح سیرو تفریح کے لئے وارد کشمیر ہو رہے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں رواں سال ریکارڈ تعداد میں سیاح وادی کی سیر پر آرہے ہیں۔

    اعدادوشمارکے مطابق، رواں برس پہلی جنوری سے 15 مئی تک تقریباً 7 لاکھ سیاح سیرو تفریح کے لئے کشمیر پہنچے۔ ڈائریکٹر ٹورازم کشمیر ڈاکٹر جی این یتو کے مطابق، اس سال پہلے چار ماہ میں ہی 6 لاکھ 15 ہزار سے زائد سیاح کشمیرکی سیر کے لئے آئے جبکہ 2021 میں پورے سال میں 6 لاکھ 25 ہزار سیاح وارد کشمیر ہوئے تھے۔

    نیوز 18 اردو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جی این یتو نے کہا،"اس سال کافی تعداد میں سیاح کشمیر کی سیر پر آرہے ہیں اور 15 مئی تک کے اعداد وشمار کے مطابق تقریباً 7 لاکھ سیاحوں نے کشمیر کی سیر کی، جن میں غیر ملکی سیاحوں کی خاصی تعداد شامل ہے۔ گزشتہ کچھ ہفتوں سے تقریباً چالیس سے پچاس غیرملکی سیاح روزانہ کشمیر پہنچ رہے ہیں۔ بیرونی ممالک سے آنے والے زیادہ ترسیاحوں کی تعداد بنگلہ دیش، سنگاپور اور ملیشیا سے ہے جبکہ ملک کی دیگر ریاستوں سے آنے والے زیادہ تر سیاحوں کا تعلق ریاست مہاراشٹر، گجرات اور بنگال سے ہے"۔

    ڈاکٹر جی این یتو کا کہنا ہے کہ اس سال زیادہ ترسیاحوں نے گلمرگ کی سیرکی جبکہ پہلگام، سونہ مرگ اور سری نگر کے علاوہ دودھ پتھری میں بھی سیاحوں کی کافی تعداد دیکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سیاحوں کے قیام کے لئے محکمہ سیاحت اور اس صنعت سے منسلک افراد نے بھاری پیمانے پر قبل از وقت تیاریاں مکمل کرلی تھیں، جس کے طفیل سیاح وادی میں اپنے قیام کے دوران آرام دہ محسوس کررہے ہیں۔

    ڈاکٹر جی این یتو نے کہا کہ سیاحوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافے سے ہوٹل صنعت سے وابستہ افراد کافی مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا،"ہمارے پاس کشمیر میں روزانہ 58 ہزار سیاحوں کے لئے قیام کرنے کی سہولت دستیاب ہے اور ان دنوں ہوٹلوں و دیگر قیام گاہوں میں 80 سے 90 فیصد بکنگ ہے۔ ہماری یہ کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں سیاح کشمیر کا رُخ کریں تاکہ وہ یہاں کے قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوجائیں اور وادی میں قیام کے دوران انہیں کسی طرح کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے"۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے سے کترا رہی ہے بی جے پی: عمر عبداللہ کا الزام

    یہ پوچھے جانے پر رواں برس اتنی بھاری تعداد میں سیاحوں کے وارد کشمیر ہونے کا کیا راز ہے، جی این یتو نے کہا،"جیسا کہ آپ کو معلوم ہےکہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کووڈ وباء کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں ہی محصور ہوکر رہ گئے اور انہیں باہر گھومنے کا موقع نصیب نہیں ہوا اب جبکہ حالات میں بہتری واقع ہوئی ہے۔ لوگ سیر وتفریح کے لئے صحت افزاء مقامات کا رخ کرنے لگے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سال ملک کی زیادہ تر ریاستوں میں قبل از وقت ہی درجہ حرارت میں اضافہ دیکھنے کو ملا، لہٰذا لوگوں نے معتدل آب وہوا والے مقامات کا رخ کیا، جس میں کشمیر بھی شامل ہے اور میں آپ کو یہ بھی بتادوں کہ جموں وکشمیر کے محکمہ سیاحت نے ملک بھر میں اس صنعت سے وابستہ افراد کے ساتھ مل کر کئی تشہیری پروگرام منعقد کئے، جس کے نتیجے میں سیاحوں کی بھاری تعداد کشمیرکی سیر پر آنے کے لئے راغب ہوئے"۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    جموں وکشمیر کو لےکرحد بندی کمیشن کا حکم آج سے مؤثر

    محکمہ سیاحت کو امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک کے دیگر حصوں میں درجہ حرارت میں اضافہ ہونے اور تعلیمی اداروں میں گرمائی تعطیلات کے ساتھ ہی کشمیر کی سیر پرآنے والے سیاحوں کی روزانہ تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ گرچہ محکمہ کشمیرمیں ابھی تک سیاحوں کی بھاری آمد سے مطمئن ہے تاہم مزید سیاحوں کو وادی کی سیر پر راغب کرنے کی اس کی کوششیں جاری ہے۔

    اس سلسلے میں محکمہ کی جانب سے گولف ٹورازم کو فروغ دینے کے لئے تین روزہ گالف ٹورنا منٹ منعقد کرنے جا رہا ہے۔ ڈائریکٹر ٹورازم کشمیر کے مطابق، کشمیر میں فکی کے اشتراک سے سری نگر اور پہلگام میں ستائیس مئی سے تین روزہ گولف ٹورنا منٹ کا انعقاد کر رہا ہے، جس میں تقریباً 80 مشہور گالفیرس شریک ہوں گے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: