உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر میں کھانے پینے کی چیزوں میں بے تحاشہ رنگوں کے استعمال سے مضراثرات مرتب

    جموں وکشمیر میں کھانے پینے کی چیزوں میں بے تحاشہ رنگوں کے استعمال سے مضراثرات مرتب

    جموں وکشمیر میں کھانے پینے کی چیزوں میں بے تحاشہ رنگوں کے استعمال سے مضراثرات مرتب

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مٹھائیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیا میں مصنوعی رنگوں کے استعمال سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ حالیہ کچھ دنوں کے اندر جموں وکشمیر کے پلوامہ ضلع میں انفورسمنٹ ونگ کی جانب سے بازاروں اور مٹھائی کے کارخانوں پر چھاپے کے دوران مٹھائی اور بیکری بنانے والے کارخانون میں بھاری مقدار میں مصنوعی رنگ برآمد ہوئے، جس سے فوڈ سیفٹی اور محکمہ امور صارفین کے عہدیداراں میں تشویش پائی گئی۔

    • Share this:
    پلوامہ: ملک کے دیگر حصوں کی طرح ہی جموں وکشمیر میں بھی لوگوں کے کھان پان میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ رحن سحن کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی چیزوں میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ کھانے پینے کی اشیا میں مصنوعی رنگوں کے بے تحاشہ استعمال نے کئی بیماریوں کو جنم دیا ہے۔ دور جدید میں کھانے پینے کی چیزوں میں بڑے پیمانے پر مصنوعی رنگوں کا استعمال کرنے کے مضر اثرات پائے جارہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مٹھائیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیا میں مصنوعی رنگوں کے استعمال سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ حالیہ کچھ دنوں کے اندر جموں وکشمیر کے پلوامہ ضلع میں انفورسمنٹ ونگ کی جانب سے بازاروں اور مٹھائی کے کارخانوں پر چھاپے کے دوران مٹھائی اور بیکری بنانے والے کارخانون میں بھاری مقدار میں مصنوعی رنگ برآمد ہوئے، جس سے فوڈ سیفٹی اور محکمہ امور صارفین کے عہدیداراں میں تشویش پائی گئی۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    شمالی کشمیر: سعودی عرب میں 25 سالہ نوجوان محمد یونس سڑک حادثے میں ہلاک

    پلوامہ ڈسٹرکٹ اسپتال کے ماہر ڈاکٹر محمد یوسف ٹاک نے نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کھانے پینے کی اشیا میں مصنوعی رنگوں کے استعمال سے انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بازار میں ملنے والی کینڈی میں بھی مصنوعی رنگوں کا استعمال ہوتا ہے، جس سے بچوں کے صحت پر کافی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    ڈاکٹر ٹاک نے کہا کہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ ان چیزوں سے پرہیز کرے، جن میں مصنوعی رنگوں کا استعمال ہوتا ہے۔ دنیا میں نیدر لینڈ ایسا ملک ہے، جہاں پر مصنوعی رنگوں کی بات ہی نہیں بلکہ وہاں لوگ نمک اور چینی کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: