உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    غریب کنبہ سے وابستہ آٹھویں جماعت کے طالب علم عارف احمد آہنگرکا کارنامہ، انجکشن سرینجوں اور دیگر مواد سے بنائی جی سی بی

    عارف ایک مکینیکل انجینئر بن کر غریب خاندان ، گاؤں ، ریاست اور ملک کا نام روشن کرنا چاہتا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے عارف کے والد اور ان کی امیدیں بلند ہیں۔ انہوں نے یوٹی حکومت سے اپیل کی کہ انہیں مالی امداد اور حوصلہ افزائی کی جائے ۔

    عارف ایک مکینیکل انجینئر بن کر غریب خاندان ، گاؤں ، ریاست اور ملک کا نام روشن کرنا چاہتا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے عارف کے والد اور ان کی امیدیں بلند ہیں۔ انہوں نے یوٹی حکومت سے اپیل کی کہ انہیں مالی امداد اور حوصلہ افزائی کی جائے ۔

    عارف ایک مکینیکل انجینئر بن کر غریب خاندان ، گاؤں ، ریاست اور ملک کا نام روشن کرنا چاہتا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے عارف کے والد اور ان کی امیدیں بلند ہیں۔ انہوں نے یوٹی حکومت سے اپیل کی کہ انہیں مالی امداد اور حوصلہ افزائی کی جائے ۔

    • Share this:
    شمالی کشمیر کے ضلع  بارہمولہ کے سنگھ پورہ پٹن کے بونی ژکل کے ایک غریب کنبہ سے وابستہ آٹھویں جماعت کے طالب علم عارف احمد آہنگرکا کارنامہ ۔انجکشن سرینجوں اور دیگر مواد سے جی سی بی بنایا۔ عارف احمد آہنگر میکنکیل انجینئر بننے کا خواہاں ہے۔  شمالی کشمیر کے  ضلع بارہمولہ کے سنگھ پورہ پٹن کے بونی ژکل گاؤں میں رہنے والے آٹھویں جماعت کے طالب علم عارف احمد آہنگر نے روشن ذہانت کا ثبوت دیتے ہوئے گھر میں انجکشن سرینجوں اور دیگر غیر ضروری  مواد استعمال کرکے منی جے سی بی بنائی ہے۔ عارف سرکاری اسکول میں پڑھائی حاصل کرتے ہیں۔ عارف احمد آہنگر کا تعلق غریب گھرانے سے ہے اس کا والد مزدور اور تنہا روٹی کمانے والے ہیں۔ عارف نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے اپنے گاؤں میں ایک روز جے سی بی کو کام کرتے ہوئے دیکھا تووہ ایسی مشین بنانے پر غور وفکر کرنے لگے۔ بالآخر وہ منی جے سی بی بنانے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نےبتایا کہ وہ مزید چیزیں بنانے کے خواہاں ہیں۔ جن میں پنکھا ،ٹرک اور دیگر کچھ اور شامل ہیں۔

    عارف ایک مکینیکل انجینئر بن کر غریب خاندان ، گاؤں ، ریاست اور ملک کا نام روشن کرنا چاہتا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے عارف کے والد اور ان کی امیدیں بلند ہیں۔ انہوں نے یوٹی حکومت سے اپیل کی کہ انہیں مالی امداد اور حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ان کے اندر صلاحیتیں مزید پروان چڑھیں گی۔ عارف مزید چیزیں بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں ان کے والدین بھی عارف کی کامیابی پر کافی خوش ہیں۔ عارف کے والد نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کو چاہے کہ ایسے بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں ٹیکنکل انسٹچوٹس میں لیکر جاکر ان کی صلاحیتوں کو نکھارا جائے ۔

    ایک مقامی استاد نے نیوز18اردو کو بتایاکہ یہاں زیادہ تر سرکار اسکولوں سے متعلق یہ تاثردکھایا جاتاہے کہ ان اسکولوں کے بچے تعلیم میں کچھ حد تک کمزور ہوتے ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ کہنا غلط ہے کیونکہ سرکاری اسکولوں کے بچے بھی نجی اسکولوں سے کم نہیں ہوتے ہیں۔ان اسکولوں میں قابل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کرام ہوتے ہیں۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ بچوں کو صلاحیتوں کو ایسے ہی نکھارا جائے تاکہ کشمیر میں موجود ٹائلنت کو آگے بڑھایا جائے۔عارف کا جے سی بی نہ صرف فرد کی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچے کسی بھی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں ۔ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں میں بھی صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے جو بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: