உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گلمرگ میں برف سے تراش کر بنایا گیا دنیا کا سب سے بڑا اِگلو کیفے، سیاحوں کا توجہ کابنا مرکز

    Youtube Video

    اس اِگلو کیفے میں برف سے بنائے گئے میز اور کرسی پر بیٹھ کر گاہکوں کو صرف کافی یا کشمیری قہوہ ہی نہیں بلکہ بیش قیمت لذیز اور ذائقہ دار کھانے بھی پیش کیا جائے گا۔ یہ میزیں اور کرسیاں برف سے تراشی گئی ہیں اور ان برف سے بنی کرسیوں پر نایاب بھیڑ کی کھال سے بنے میٹ بچھائے گئے ہیں جو اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتے ہے۔

    • Share this:
    دنیا کے اندر انسان ہمیشہ سے منفرد نظر آنے کی جستجو میں لگا رہتا ہے۔ اس کے لیے وہ کبھی اپنی شخصیت کو مسحور کن بنانے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی اپنی رہائش کو جاذب نظر بناتا نظر آتا ہے یا پھر اپنے مشاغل میں نت نئے پہلو شامل کرتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو قدرت کی دی ہوئی صلاحیتوں کواپنے تخیل سے ایسا منفرد روپ عطا کرتے ہیں کہ دیکھنے والا دم بہ خودرہ جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک یکتا اور حیرت انگیز شاہکار شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں موجود ایک نجی ہوٹل کہلائی گرین کی ٹیم نے تخلیق کیا۔جو دنیا کا سب سے بڑا فن پارہ بتایاجاتاہے ۔ چاروں جانب پہاڑ برف کی دوشالہ اوڑھے ہوئے اور برف سے بنا ہوا کیفے  ہی نہیں بلکہ کیفے کے اندر موجود ہر شے برف سے تراشی ہوئی ہے ، یہ دنیا کا سب سے بڑا تخلیقی  فن پارہ بتایا جاتاہے۔ ورلڈ ریکارڈ میں سوئٹزرلینڈ میں اب تک کا سب سے بڑا برف سے ایگلو بنایا گیا ہےجس کی پیمائش دس اعشاریہ پانچ میٹر لمبا اور اندرونی قطر بارہ عشایہ نو میٹر ہے یعنی بیالیس فٹ چار انچ ہے۔ تاہم اب سیاحتی مقام گلمرگ میں کہلائی گرین کی ٹیم کادعوی ہے کہ یہ ایک نیا عالمی  ریکارڈ قائم ہوا ہے۔

    کہلائی گرین کی ٹیم  کی طرف سے بنائے گئے  برف سے اگلوکی لمبائی سینتیس عشاریہ پانچ فٹ(یعنی گیارہ عشاریہ تینتالیس میٹر لمبا) اور چوالیس عشاریہ پچاس فٹ قطر ہے ۔گزشتہ سال اسی جگہ پر اسی ٹیم نےایشاء کا سب سے بڑا اگلو بنایا تھا۔کہلائی گرین کے مالک سید ویسم شاہ نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سوئٹرزلینڈ کی سیاحت کے دوران اِگلو کے آئیڈیا سے متاثر ہو کرگزشتہ برسوں سے یہ کام شروع کیا۔انہوں نے سوئیزرلینڈ میں اس طرح کے  فن پارے دیکھ کریہ خیال کیا کہ کیوں نہ اپنی سرزمین کشمیر پر اس طرح  کے تجربے تخلیق کئے جائیں۔ سید وسیم شاہ نےکہا،"یہ ایڈئیا خواتین سال پہلے آیاتھا جب میں سوئیزر لینڈ گیاتھاوہاں میں نے ایسا مجسمہ دیکھاتھاتو میں نے سوچا تھا کیوں نہ ہم ایسا ہی مجسمہ کشمیر میں بنائیں۔گزشتہ سال میں نے ایک تجربہ کیا جس میں میں نے ایشیاء کاسب سے بڑا ایگلو کیفے بنایا۔تو اس کی خوب پزیرائی ہوئی۔

    اس سال میں نے سوچا کیوں نہ میں دنیا کا سب سے بڑا ایگلو بناؤں تو ہم نے گزشتہ سال تین دسمبر کو شروع کیااس میں مکمل کرنے میں 64دن لگے ہیں۔یہ دنیا کا سب سے بڑا بنا ہے۔جو ورلڈ ریکارڈ اس سے تھا جو Guinness World recordمیں درج ہے وہ 33.80لمبا تھا اور چوڑائی 42.2تھا ہم نے  Guinness World records کو درخواست دی ہے کہ دس پندرہ دنوں میں گلمرگ آئیں گے اس ایگلو کا معائنہ کریں گے" سید وسیم نے کہاکہ اگلے برس وہ سوئیزر لینڈ کی طرح چھوٹے چھوٹے ہوٹل بھی بنائیں گے جہاں سیاح رات گزار سکتے ہیں۔ کہلائی گرین کے ایم ڈی مفتا مجید شاہ نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا،جب وہ باہر کے ممالک میں گئے وہاں جو کچھ نیا دیکھا وہ ان کے ذہن میں گونجتا رہا وہ چاہتے ہیں یہاں وہ سارے تجربات کریں جس سے یہاں کی سیاحت میں مزید فروغ حاصل ہوسکے۔

    سید وسیم شاہ نے بتایا کہ گلمرگ میں کہلائی گرین کی ٹیم نے اپنےساتھیوں کے ساتھ منفی درجہ حرارت میں  دن رات کام کرکے  چونسٹھ  دن کی محنت سے یہ  شاندار اگلو کیفے تعمیر کردیا جس کی دھوم دنیا بھر میں مچ گئی ہے۔تین دسمبر سے اس اگلو کیفے پرکام شروع کیاگیا آج تک سترہ سو مزدوروں نے کام کیا۔ اس میں بیک  وقت میں چالیس سیاح بیٹھ سکتے ہیں۔ اس اگلو کیفےکا مقصد سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرنا تھا۔اگلو کیفے میں موجود ہر چیز برف سے بنی ہے۔ اس اِگلو کیفے میں برف سے بنائے گئے  میز اور کرسی پر بیٹھ کر  گاہکوں کو صرف کافی یا کشمیری قہوہ ہی نہیں بلکہ بیش قیمت لزیز اور ذائقہ دار کھانے بھی پیش کیا جائے گا۔ یہ میزیں اور کرسیاں برف سے تراشی گئی ہیں اور ان برف سے بنی کرسیوں پر نایاب بھیڑ کی کھال سے بنے میٹ بچھائے گئے ہیں جو اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتے ہے۔ کیا میزاور کیا کرسی، سرنگ نما برفیلے کیفے نے اب سیاحوں کے ساتھ ساتھ ہر ایک  کو بھی دیوانہ بنا دیا ہے۔

    مقامی و غیر ریاستی سیاح اس انوکھے شاہکار کی خوب ستائش کررہے ہیں۔ایگلو کیفے میں مقامی اور ملکی سیاح خوب لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ سیاحوں نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گلمرگ میں برف سے بناہوا ایگلو دیکھ کر نیا تجربہ ہوا۔کہلائی گرین کی ٹیم نے کشمیری نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں اور ہنر کو دنیا کے سامنے لانے کا مشورہ دیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ایگلو کیفے نے کشمیریوں میں ایک نیا احساس پیدا کردیا ہے۔انہیں یورپ جیسا ماحول نظر آرہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگوں اور سیاحوں کیلئے ایک بہت بڑی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاحت کے فروغ کے لئے اس طرح کے فن پاروں  اور فنکاروں کو سرکاری سطح  پر  ستائش  اور حوصلہ افزائی ہونی چاہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: