உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مالی بدحالی کی وجہ سے مائیگرینٹ گزشتہ ڈیڑھ سال سے کر رہے ہیں مظاہرہ، لیکن حکومت کی آنکھیں موند

     سرکار کی اور سے کوئی بھی عہدیدار اور نہ ہی کوئی لیڈر ان مائیگرنٹوں کو دلاسہ دینے یا ان کی مانگیں سُننے کے لئے اس ڈیڑھ برس کے دوران ان سے ملنے نہیں آیا جس وجہ سے یہ مائیگرنٹ موجودہ سرکار سے کافی خفا ہیں۔

    سرکار کی اور سے کوئی بھی عہدیدار اور نہ ہی کوئی لیڈر ان مائیگرنٹوں کو دلاسہ دینے یا ان کی مانگیں سُننے کے لئے اس ڈیڑھ برس کے دوران ان سے ملنے نہیں آیا جس وجہ سے یہ مائیگرنٹ موجودہ سرکار سے کافی خفا ہیں۔

    سرکار کی اور سے کوئی بھی عہدیدار اور نہ ہی کوئی لیڈر ان مائیگرنٹوں کو دلاسہ دینے یا ان کی مانگیں سُننے کے لئے اس ڈیڑھ برس کے دوران ان سے ملنے نہیں آیا جس وجہ سے یہ مائیگرنٹ موجودہ سرکار سے کافی خفا ہیں۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: گزشتہ تیس برس سے کشمیری مائیگرینٹ اپنے گھر بار چھوڑ کر جموں اور ملک کے مختلف مقامات پر رہائش پذیر ہیں۔ ان مائیگرنٹس کو گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان میں سے اکثر کنبے سرکار کی طرف سے دی جانے والی ماہانہ ریلیف سے ہی اپنی روزمرہ کی ضروریات پورا کر رہے ہیں لیکن آج کل کے مہنگائی کے دور میں انہیں اپنی ضروریات پورا کرنے میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سرکار کی طرف سے ماہانہ فی کنبہ قلیل تیرہ ہزار کی امداد تو دی جاتی ہے تاہم اس قلیل رقم سے گھر کے اخراجات اور ساتھ میں بچوں کی تعلیم کے خرچے پورا کرنا ناممکن ہے جس وجہ سے یہ مائیگرنٹ کسم پرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
    جموں کے مختلف مائیگرینٹ کیمپوں میں  رہائش پذیر یہ مائیگرینٹ برسوں سے واپس اپنے گھروں کو لوٹنے کے انتظار میں ہے تاہم موجودہ اور ماضی کی سرکاروں نے ان کی گھر واپسی کے حوالے سے صرف وعدے ہی کئے اور زمینی سطح پر کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا جس کے سبب یہ مائیگرینٹ اپنے گھروں کو لوٹ سکتے تھے۔ سرکار کے وادی کشمیرکے حالات میں بہتری آنے کے دعوے بھی اسوقت کھوکھلے ثابت ہوئے جب وہاں دہشت گردوں نے اقلیتی فرقے سے وابستہ افراد کو چُن چُن کر ہلاک کرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ گزشتہ اکتوبر سے دہشت گردوں نے اقلیتی فرقے کے کئی افراد کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ ایسے میں خصوصی ایمپلائیمینٹ پیکیج کے تحت وادی کشمیر میں کام کر رہے مائیگرینٹ ملازمیں پھر ایک بار خوف زدہ ہوگئے ہیں اور ان میں سے بیشتر ملامین واپس جموں آگئے ہیں۔ ان ملازمین کو تحفظ دینے میں سرکار کی ناکامی صاف نظر آتی ہے۔ ایسے میں مائیگرنٹوں کا واپس گھروں لوٹنے کا خواب ٹوٹ رہا ہے او ر وہ مختلف مائیگرنٹ کیمپوں میں کسم پرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
    مالی بدحالی کی وجہ سے یہ مائیگرینٹ گزشتہ ڈیڑھ سال سے جگتی کے مائیگرینٹ کیمپ میں دھرنے پر بیٹھے ہیں اور سرکار سے ان کے ماہانہ ریلیف میں اضافہ کرنے کی مانگ کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے سرکار کی اور سے کوئی بھی عہدیدار اور نہ ہی کوئی لیڈر ان مائیگرنٹوں کو دلاسہ دینے یا ان کی مانگیں سُننے کے لئے اس ڈیڑھ برس کے دوران ان سے ملنے نہیں آیا جس وجہ سے یہ مائیگرنٹ موجودہ سرکار سے کافی خفا ہیں اور سرکار سے انکے تئیں سرد مہری اپنانے کی وجہ پوچھ رہے ہیں۔ مائیگرنٹ لیڈر شادی لعل پنڈتا کا کہنا ہے کہ سرکار نے مائیگرنٹوں کو بھگوان کے بھروسے چھوڑ دیا ہے اور انکی حالت کو سُدھارنے یا انہیں واپس اپنے گھروں میں بسانے کے لئے سرکار کوئی قدم نہیں اٹھارہی ہے۔ نیوز ایٹین اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری مائیگرنٹوں نے ملک کے لئے قربانی دی ہے اور اپنے گھر بار چھوڑ کر کسم پرسی کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن سرکار انکی طرف کوئی توجع نہیں دے رہی ہے جس وجہ سے یہ مائیگرنٹ تشویش میں مبتلاہوگئے ہیں۔ ایک اور مائیگرنٹ اومکار ناتھ نے نیوز ایٹین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قلیل سرکاری امداد ملنے کی وجہ سے انکے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہورہی ہے جس وجہ سے مائیگرنٹ پریشان حال ہیں۔

    اگرچہ گزشتہ دنوں ریلیف کمشنر مائیگرنٹس جموں اشوک کمار پنڈتا نے مائیگرنٹوں کو یہ یقین دلایا ہے کہ ان کے ماہانہ امداد میں اضافے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں تاہم مائیگرنٹوں کا کہنا ہے کہ ایسے وعدے تو ان کے ساتھ بہت کئے گئے لیکن زمینی سطح پر کچھ نہیں کیا گیا۔ ریلیف کمشنر کا کہنا ہے کہ ریلیف کارڈوں میں شفافیت لانے کے لئے مائیگرنٹ کنبوں کو کنبے کے ہر فرد کا آدھار کارڈ کوانٹر میں جمع کرنے کے لئے کہا گیا ہے اور یہ عمل مکمل ہونے کے بعد ریلیف میں بڑھوتری کی جائے گی۔ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے وزارت داخلہ سے مائیگرنٹوں کا ماہانہ ریلیف فی کنبہ بیس ہزار کرنے کی سفارش کی ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: