உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: مذہبی ہم آہنگی کی مثال ہے بابا حیدر ریشی کشمیرکی یہ درگاہ

    جموں وکشمیر کے اننت ناگ میں حضرت بابا حیدر ریشی رح کا پانچ روزہ عرس مبارک اختتام پذیر پوا۔ عرس کے دوران ہزاروں کی تعداد میں بلا امتیاز مذہب وملت لوگوں نے شرکت کی۔

    جموں وکشمیر کے اننت ناگ میں حضرت بابا حیدر ریشی رح کا پانچ روزہ عرس مبارک اختتام پذیر پوا۔ عرس کے دوران ہزاروں کی تعداد میں بلا امتیاز مذہب وملت لوگوں نے شرکت کی۔

    جموں وکشمیر کے اننت ناگ میں حضرت بابا حیدر ریشی رح کا پانچ روزہ عرس مبارک اختتام پذیر پوا۔ عرس کے دوران ہزاروں کی تعداد میں بلا امتیاز مذہب وملت لوگوں نے شرکت کی۔

    • Share this:
      اننت ناگ: جموں وکشمیر کے اننت ناگ میں حضرت بابا حیدر ریشی رح کا پانچ روزہ عرس مبارک اختتام پذیر پوا۔ عرس کے دوران ہزاروں کی تعداد میں بلا امتیاز مذہب وملت لوگوں نے شرکت کی۔ عرس کے دوران جنوبی کشمیر کے علاقوں میں گوشت اور مچھلی کے پکوان ترک ہوتے ہیں اور ہمیشہ یہاں سے مذہبی بھائی چارے اور قیام امن کا پیغام عام کیا جاتا ہے۔

      مذہبی ہم آہنگی کی مثال ہے بابا حیدر ریشی کشمیر کی یہ درگاہ، بابا حیدر ریشی کے عرس کے دوران ہند اور مسلم گوشت و مچھلی کے پکوان کرتے ہیں ترک۔
      وادی کے بلند پایہ صوفی بزرگ اور ریشیت کے اہم ستون حضرت بابا حیدر ریشی کا پانچ روزہ عرس مبارک اننت ناگ میں اختتام پذیر ہوا۔ آپ کی سوانح حیات بچپن سے پاکیزگی اور نورالٰہی کی ایک زندہ تصویر رہی ہے اور تصوف اور روحانیت کی منزلوں کو آپ نے اس قدر طے کیا کہ محبوب العالم شیخ ہمزہ مخدوم بذات خود شرف ملاقات بخشنے کے لئے اننت ناگ وارد ہوئے اور آپ کو روحانیت کی مزید منزلیں عطا کیں۔

      کہا جاتا ہے کہ بابا حیدر ریشی پیشے سے لوہار تھے اور مزدوری ہی انکا ذریعہ معاش تھا۔ حالانکہ وہ ایک بڑے زرعی رقبے کے مالک تھے لیکن انہوں نے اپنی ساری جائداد انسانی خدمات میں صرف کی۔ جبکہ رضاۓ الہی کےلیے آپ نے اپنی تمام جایداد چھوڑ دی اور انسانیت کے کاموں میں مشغول رہے۔

      بابا ریشی جنہیں عرف عام میں ریشی مؤل کہا جاتا ہے نے دینی خدمات کے علاوہ بقاۓ انسانیت کےلیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ بلا امتیاز مزہب لوگوں کی بڑی تعداد ہمیشہ آپکی زیارت سے فیض پاتے ہیں۔ عرس کے دوران آج بھی کشمیری پنڈتوں کے ساتھ ساتھ یہاں کے سکھ فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بڑی تعداد میں اس زیارت پر حاضری دیتے ہیں۔

      اس عرس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جنوبی کشمیر کے کئ علاقوں میں لوگ گوشت اور مچھلی کے پکوان ترک کرتے ہیں اور بازاروں میں بھی اکثر اس طرح کے کھانے غائب ہوتے ہیں۔ کیونکہ بابا حیدر ریشی نے روحانیت کی بلندیوں پر قابض ہونے کے لئے تاعمر اس طرح کے کھانے ترک کئے۔

      بابا حیدر ریشی کی تعلیمات پر چلنے کی آج کے دور میں عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے، جہاں آج لوگ جہالت اور نفرتوں کی آگ کو ہوا دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے ہیں۔ وہیں بابا حیدر ریشی جیسے اولیائے کرام کے عرس ان دورویوں کو مٹانے اور امن قائم کرنے کا ایک اہم وسیلہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: