உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں۔کشمیر: کئی علاقوں میں جنگلی جانوروں نے انسانی آبادیوں کی طرف کیا رخ، عوام میں پھیلی دہشت  

    جنگلاتی علاقوں کو وایلڈ لایف کےتحت دینے اور فینسنگ کا لوگوں نے کیا مطالبہ۔ 

    جنگلاتی علاقوں کو وایلڈ لایف کےتحت دینے اور فینسنگ کا لوگوں نے کیا مطالبہ۔ 

    ۔ جنوبی ضلع اننت ناگ کے مضافات کوکاگنڈ ویری ناگ میں آج اس وقت سنسنی پھیل گئی جب علاقے میں اچانک تین ریچھ نمودار ہوگئے۔ جس کے بعد مقامی لوگوں نے ریچھوں کا تعاقب کیا اور تینوں ریچھ سفیدے کے درختوں پر چڑھ گئے۔

    • Share this:
    جموں کشمیر: سردیوں کے آغاز کے بعد وادئ کشمیر کے کئ علاقوں میں جنگلی جانوروں نے انسانی آبادیوں کی جانب رخ کرنا شروع کیا ہے، جس کی وجہ سے عام لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول طاری ہو گیا ہے۔ جنوبی ضلع اننت ناگ کے مضافات کوکاگنڈ ویری ناگ میں آج اس وقت سنسنی پھیل گئی جب علاقے میں اچانک تین ریچھ نمودار ہوگئے۔ جس کے بعد مقامی لوگوں نے ریچھوں کا تعاقب کیا اور تینوں ریچھ سفیدے کے درختوں پر چڑھ گئے۔ اس دوران مقامی لوگوں نے فوری طور پر وایلڈ لائف محکمہ کو مطلع کیا۔ وائلڈ لایف اہلکاروں نے فوری کاروائ کے تحت ایک ریچھ کو نشہ آور اینجیکشنوں سے قابو میں کیا اور ایک پنجرے میں بند کر کے اسے وایلڈ لایف پارک میں رہا کر دیا گیا۔

    لوگوں کے مطابق گزشتہ دنوں میں لگ بھگ آدھا درجن ریچھوں اور تیندووں کو علاقے میں دیکھا گیا۔ جبکہ اس دوران کئ لوگوں کو جنگلی جانوروں نے زخمی بھی کیا۔ لوگوں کے مطابق موسم سرما کے آغاز سے ہی جنگلی جانوروں کا اس طرح سے انسانی بستیوں کی جانب رخ کرنا باعث تشویش ہے۔ جبکہ پوری آبادی اس وجہ سے خوف و دہشت میں مبتلا ہوئی ہے۔

    لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بارہا اس بارے میں وایلڈ لایف کو مطلع کیا اور ہمیشہ وایلڈ لایف اہلکاروں نے لوگوں کی جان بچانے کے لیے بروقت اقدامات اٹھائے تاہم جنگلاتی رقبے کو وائلڈ لایف دایرے میں لانے کے لوگوں کے مطالبے کو انتظامیہ نے نظر انداز کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جنگلاتی اراضی کو اگر تار بند کیا جائے گا تو جنگلی جانوروں کے انسانی بستیوں میں داخلے پر مکمل روک لگے گی اور عام لوگوں کے جان و مال کا تحفظ بھی ممکن ہوگا۔

    وہیں ادھر کشمیر کے متعدد علاقوں سے جنگلی جانوروں کا انسانی آبادیوں کی جانب رخ کرنے کی لگاتار اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور حکام نے لوگوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: