ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

تین معصوم بچوں کے گہرے گڈھے میں گر جانے سے موت، علاقے میں ماتم کا ماحول

ان معصوم بچوں کی موت کی وجہ سے پورا علاقہ ماتم کدے میں تبدیل ہوگیا۔ چار سالہ سبزار احمد،تین سالہ بچی دعا جان اور دو سالہ ارشیمان بشیر صبح اپنے اپنے والدین کے ساتھ خوب ہنستے کھیلتے تھے والدین کو کیا پتہ تھا کہ یہ موت کی آغوش میں چلے جائیں گے۔

  • Share this:
تین معصوم بچوں کے گہرے گڈھے میں گر جانے سے موت، علاقے میں ماتم کا ماحول
ان معصوم بچوں کی موت کی وجہ سے پورا علاقہ ماتم کدے میں تبدیل ہوگیا۔

وسطی ضلع بڈگام بیروہ کے ناروارہ گاؤں میں ایک دلسوز حادثہ سے تین معصوم بچوں کی موت سے قیامت صغریٰ برپا ہوگئی۔ ان معصوم بچوں کی  موت کی وجہ سے پورا علاقہ ماتم کدے میں تبدیل ہوگیا۔ چار سالہ سبزار احمد،تین سالہ بچی دعا جان اور دو سالہ ارشیمان بشیر صبح اپنے اپنے والدین کے ساتھ خوب ہنستے کھیلتے تھے والدین کو کیا پتہ تھا کہ یہ موت کی آغوش میں چلے جائیں گے۔ کیا پتہ تھا کہ یہ ان کی والدین کے ساتھ آخری ملاقات ہوگی ۔


بتایا جاتاہے کہ تینوں بچے گھر کے نزدیک ایک گہرے گڑھے کے پاس کھیلتے تھے اسی دوران یہ تینوں اس گہرے گڑھے میں گر گئے جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔ اگر چہ لوگوں نے انہیں گہرے گھڑے  سے نکال کر فوراً بیروہ اسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے ان  تینوں کو مردہ قرار دیا۔ یہ خبر سنتے ہی ہر جانب آہ و فغاں کی صدائیں بلند ہوئیں ۔ان کے والدین غم سے نڈھال ہیں۔


والدین کاکہناہے وہ اپنے بچوں سے محروم ہوگئے ہیں۔لواحقین کے رشتہ داروں نے ان تینوں بچوں کی موت پر تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ان کا کہناہے کہ مکان کے پاس گڑھے سے صرف ایک بچے کی لاش ملی جبکہ دو بچوں کی لاشیں تھوڑی دور دھان کی کھیتی میں پڑی ہوئی تھی۔اقبال نامی ایک رشتہِ دار نے نیوز18اردو کو بتایا کہ گہرے گڑھے میں ایک ہی بچے کی لاش ملنے اور دو بچوں کی لاشیں دوسری جگہ ملنے سے شک وشبہات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے اس معاملے میں گہرائی سے جانچ کا مطالبہ کیا۔




ادھر لوگوں کا یہ بھی کہناہے کہ  گہرے گھڑے میں بچوں کا گرنا اور ان کی موت واقع ہوناہر ایک کے لئے انتہائی دلخراش اور سبق آموز ہے۔ہر ایک کو چاہے کہ اپنے گھروں پاس ایسے پر خطر گھڑے نہیں بنانے چاہے۔ساتھ ہی بچوں کی نگہداشت سنجیدگی کے ساتھ کی جانی چاہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ضلع بڈگام میں ایک ہی روز میں چھوٹے بچوں کے حادثات پیش آنے کا چوتھا واقعہ ہے۔

 

 
Published by: Sana Naeem
First published: May 27, 2021 10:24 PM IST