ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر میں حد بندی سے متعلق سیاست گرم، نیشنل کانفرنس  کے تین پارلیمنٹ ممبران نے حد بندی کمیشن کی میٹنگ کا کیا بائیکاٹ

جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے تین اراکین پارلیمنٹ نے حال ہی میں حدبندی کمیشن کی پہلی میٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔ یہ میٹنگ دہلی میں ہوئی۔ حالانکہ جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے ممبران نے اس میں شرکت کی۔

  • Share this:
جموں وکشمیر میں حد بندی سے متعلق سیاست گرم، نیشنل کانفرنس  کے تین پارلیمنٹ ممبران نے حد بندی کمیشن کی میٹنگ کا کیا بائیکاٹ
نیشنل کانفرنس  کے تین پارلیمنٹ ممبران نے حد بندی کمیشن کی میٹنگ کا کیا بائیکاٹ۔ فائل فوٹو

جموں: جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے تین اراکین پارلیمنٹ نے حال ہی میں حدبندی کمیشن کی پہلی میٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔ یہ میٹنگ دہلی میں ہوئی۔ حالانکہ جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے ممبران نے اس میں شرکت کی۔ نیشنل کانفرنس کے تینوں ممبران فاروق عبداللہ، محمد اکبر لون اور اننت ناگ کے ممبر پارلیمنٹ جسٹس حسنین مسعودی نے اس میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ بائیکاٹ کے اعلان کے ساتھ ہی نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس میٹنگ کا بائیکاٹ اس لئے کیا کیونکہ وہ مانتے ہیں کہ حدبندی کا مطلب تب تک  نہیں رہتا ہے، جب تک آرٹیکل 370 کو  دوبارہ نافذ نہیں کیا جائے گا،  تب تک اس حد بندی کمیشن کا ہونا کوئی مطلب نہیں رکھتا ہے۔


نیشنل کانفرنس کے اس فیصلےسے نہ صرف اپوزیشن پارٹیاں بلکہ این سی کے اندر ہی اس پارٹی کےکئی لیڈران پارٹی کے اس فیصلے سے ناخوش نظر آتے ہیں۔ این سی کے سابق وزیر سید بشارت بخاری نےکہا کہ وہ پارٹی کے اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کو ہر ایک صوبے کا خیال رکھنا چاہئے اور حد بندی کمیشن کی ہر ایک میٹنگ میں شامل ہونا چاہئے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کل جاکے کمیشن اپنی رپورٹ پیش کرتی ہے تو اس میں اگر کسی بھی صوبے  کے کسی بھی حصے کو نظر انداز کیا گیا تو اس وقت نیشنل کانفرنس کے پاس کیا جواب ہوگا۔


بشارت بخاری نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس کو اس فیصلے میں اپنی رائے رکھنی چاہئے اور جو درپیش مسائل ہیں اور پارٹی کا جو فیصلہ ہے، اسے حد بندی کمیشن کے سامنے رکھنا چاہئے۔ یہاں نہ صرف بشارت بخاری بلکہ جموں صوبہ سے بھی تعلق رکھنے والے  این سی کے کئی سینئر لیڈران کا کہنا ہے کہ وہ پارٹی کے اس فیصلے سے متفق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کو سمجھنا چاہئے کہ کل اگر اسمبلی انتخابات کرانے ہیں تو اس سے پہلے حد بندی کمیشن کے رپورٹ کو اور سیٹوں کی تقسیم پر سرخم کرکے تسلیم کرنا پڑے گا کیونکہ مرکزی سرکار باربار یہ کہہ رہی تھی کہ جب تک کمیشن رپورٹ نہیں دے گی، تب تک جموں وکشمیر کے انتخابات میں تاخیر ہوگی۔


دوسری جانب اپوزیشن پارٹیاں بھی نیشنل کانفرنس کے اس فیصلے سے برہم ہیں جموں وکشمیر کے اپنی پارٹی کے نائب صدر غلام حسن میر کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس اب بے نقاب ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این سی نے ایک تو ڈی ڈی سی انتخابات میں حصہ لیا۔ دوسری جانب حد بندی کمیشن  کی میٹنگوں کا بائیکاٹ کیا۔ اس سے اس پارٹی کا دوہرا معیار سامنے آتا ہے۔ غلام حسن میر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے پاس نہ کوئی اسٹینڈ ہیں، نہ ہی کوئی پالیسی ہے اورپارٹی صر ف لوگوں کو بے قوف بنانے پر تلی ہوئی ہے۔

بی جے پی کے سینئر لیڈر کویندر گپتا نے بھی این سی پر الزام لگایا کہ وہ سیٹو ں کی حد بندی نہیں چاہتے ہیں۔ انہوں کہا کہ وہ فاروق عبداللہ ہی تھے جنہوں نے 2024 کی حد بندی کی روک تھام کے لئے قانون لائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہمیشہ لوگوں کے جذباتی مفاد کے خلاف کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت ساری ایسی سیٹیں ہیں، جن میں جموں کا گاندھی نگر ہو یا کشمیر میں گاندربل ہو، جہاں بہت زیادہ ووٹر ہیں، ان مقامات پر سیٹوں کے لئے نئی حد بندی کی ضرورت ہے۔
دوسری طرف کانگریس  بھی این سی کے اس فیصلے سے ناراض ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ این سی کو اس میٹنگ میں شامل ہونا چاہئے۔انہوں نےکہا کہ پھر ڈی ڈی سی انتخابات میں این سی نے کیوں حصہ لیا۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ این سی کو حد بندی کمیشن کے سامنے اپنا موقف رکھنا چاہئے تھا، جہاں انہیں کچھ غلط لگ رہا ہے وہ اس کی نشاندہی کریں۔ تاکہ سرکار بھی اس سے واقف ہوسکے۔ دسری طرف اس مسئلے پر خوب سیاست گرم ہوگئی ہے۔ ایسا یہ بھی کہا جارہاہے کہ حد بندی کمیشن  ستمبر-اکتوبر سے پہلے ہی اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور اس کے بعد یہاں انتخابات کرائے جائیں گے۔ اس طرح اب سب کی نظریں اسمبلی انتخابات پر ٹکی ہوئی ہیں تاکہ یہاں عوامی سرکار بنے گی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 22, 2021 06:58 PM IST