ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کووڈ وبا کی تیسری لہر کے خدشات کے پیش نظر جموں کشمیر انتظامیہ کے مختلف سطح پر اقدامات

پہلگام ہوٹل اینڈ گیسٹ ہائوس اوونرس سوسائیٹی کے صدر مشتاق پہلگامی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو اس حکم نامے میں ترمیم کرنی چاہئیے۔

  • Share this:
کووڈ وبا کی تیسری لہر کے خدشات کے پیش نظر جموں کشمیر انتظامیہ کے مختلف سطح پر اقدامات
پہلگام ہوٹل اینڈ گیسٹ ہائوس اوونرس سوسائیٹی کے صدر مشتاق پہلگامی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو اس حکم نامے میں ترمیم کرنی چاہئیے۔

کووڈ وبا کی تیسری لہر کے خدشات کے پیش نظر جموں کشمیر jammu and kashmir انتظامیہ مختلف سطح پر اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں عوامی مقامات پر لوگوں کی بھیڑ کو کم کرنے اور کووڈ سے بچائو کے لئے لازمی تمامم احتیاطی تدابیر عملانے پر خصوصی توجع دی جارہی ہے۔ وادی کشمیر کے مختلف صحت افزا مقامات پر لوگوں کی بھیڑکو کم کرنے کے لئے جمعہ کے روز وادی کے کئی اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے علحیدہ علحیدہ حکم نامے جاری کرکے پہلگام، گلمرگ اور سونہ مرگ کو ہفتے کے روز اور اتوار کو دن بھر کے لئے آنے والے سیاحوں کے لئے بند کرنے کا اعلان کیا۔ حکم نامے میں بتیا گیا کہ ہفتے کے ان دو مخصوص دنوں پر صرف وہی افراد ان مقامات کی سیر پر جاسکتے ہیں جنہوں نے وہاں کے مقامی ہوٹلوں میں قیام کرنے کے لئے پہلے سے ہی بکنگ کی ہو۔ حکم نامے میں وضاحت کی گئی کہ یہ فیصلہ گزشتہ دنوں ان مقامات پر لوگوں کی بھاری بھیڑ جمع ہونے کے پیش نظر لیا گیا ہے تاکہ کورونا وبا کو ایک بار پھر پھیلنے سے روکا جاسکے۔

اس فیصلے پر وادی کےعام لوگوں کا ملا جُلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ کئی مقامی لوگ مانتے ہیں کہ یہ فیصلہ لوگوں کی صحت کو درپیش خطرات کے مد نظر اٹھایا گیا ایک صیح فیصلہ ہے جبکہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ سنیچر اور اتوار دو ایسے دن ہیں جب وہ صحت افزا مقامات کی سیر کرسکتے ہیں کیونکہ بقیہ دنوں وہ اپنے کام کاج میں مصروف رہتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ دن بھر کے لئے سیر پر جانے والے سیاحوں پر مکمل پابندی کے بجائے انتظامیہ کو چاہئیے کہ وہ مقررہ تعداد میں مقامی سیاحوں کو ان صحت افزا مقامات کی سیر پر جانے کی اجازت دے۔ جاوید احمد شاہ نامی ایک مقامی باشندے نے نیوز ایٹین اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر لوگ ہفتے میں پانچ دن معمول کے کام کاج میں مصروف رہتے ہیں اور سنیچر بلخصوص اتوار کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ کسی صحت افزا مقام کی سیر کرتے ہیں تاکہ انکے زہن کو سکون مل سکے تاہم اس حکم نامے کے بعد فلحال ابھی ایسا ممکن نہیں ہے۔

ادھر پہلگام میں سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ گلمرگ مارکیٹ ایسو سی ایشن کےت صدر غلام نبی نے نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس حکم نامے سے گلمرگ کے کاروباری طبقے پر منفی اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پابندی عئید کرنے کے بجائے کووڈ ایس او پیز کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جانے چاہئیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکم کے بعد بیرون یو ٹی سے گُلمرگ آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوگی کیونکہ سیاحوں کی خاصی تعداد گلمرگ کے ہوٹلوں میں ٹھہرنے کے بجاے دن بھر کی سیر کرنے کے لئے گلمرگ کا رُخ کرتے ہیں۔گھوڑے بانوں کی ایسوسوی ایشن کے صدر طاریق احمد کا کہنا ہے کہ کووڈ صورتحال میں بہتری آنے کے بعد اگرچہ گلمرگ میں سیاحوں کا آنا شروع ہوچکا ہے تاہم ابھی کم تعداد میں ہی باہر کے سیاح گلمرگ وارد ہورہے ہیں۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں ے کہا کہ سنیچر اور اتوار کے روز وادی کے مختلف حصوں سے کافی تعداد میں مقامی لوگ گلمرگ کی سیر پر آتے ہیں جس سے گھوڑے بانوں اور سیاحت سے وابستہ دیگر افراد کا کاروبار چلتا ہے۔


پہلگام ہوٹل اینڈ گیسٹ ہائوس اوونرس سوسائیٹی کے صدر مشتاق پہلگامی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو اس حکم نامے میں ترمیم کرنی چاہئیے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلگام میں زیادہ تر سیاحتی سرگرمیاں موسم گرما کے دوران ہی ہوتی ہیں اور اگلے دو ماہ کے بعد کافی کم سیاح پہلگام کا رُخ کریں گے لہذ اس حکم نامے سے مقامی افراد کا روزگار متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ جلد از جلد اس حکم میں ترمیم کرے تاکہ دن بھر کی سیر کرنے والے سیاح بھی سنیچر اور ایتوار کو پہلگام آسکیں۔ سیاحت سے جُڑے افراد کی نگاہیں اب انتظامیہ پر ٹکی ہیں کہ وہ کب اس حکم نامے میں تریم کرے۔

Published by: Sana Naeem
First published: Jul 17, 2021 03:19 PM IST