اپنا ضلع منتخب کریں۔

    کشمیر میں حالیہ برف باری کے بعد چندن واڑی میں سیاحوں کا رش، سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد میں خوشی

    کشمیر میں حالیہ برف باری کے بعد چندن واڑی میں سیاحوں کا رش، سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد میں خوشی

    کشمیر میں حالیہ برف باری کے بعد چندن واڑی میں سیاحوں کا رش، سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد میں خوشی

    Jammu and Kashmir : کشمیر میں حالیہ برف باری کے بعد سیاحوں میں کافی خوشی کا ماحول ہے۔ جبکہ حالیہ برف باری سے سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد کی نئی امیدیں بھی جاگ اٹھی ہیں۔ ایسے میں یہ لوگ چاہتے ہیں کہ کشمیر میں زیادہ سے زیادہ سیاحوں کی آمد ہو تاکہ ان کا روزگار مزید فروغ پا سکے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Jammu | Srinagar
    • Share this:
    جموں و کشمیر:  کشمیر میں حالیہ برف باری کے بعد سیاحوں میں کافی خوشی کا ماحول ہے۔ جبکہ حالیہ برف باری سے سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد کی نئی امیدیں بھی جاگ اٹھی ہیں۔ ایسے میں یہ لوگ چاہتے ہیں کہ کشمیر میں زیادہ سے زیادہ سیاحوں کی آمد ہو تاکہ ان کا روزگار مزید فروغ پا سکے۔  چندن واڑی پہلگام میں برف پوش وادیوں کے دلفریب نظاروں سے لطف اٹھاتے سیاحوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ ان سیاحوں میں سے بیشتر ایسے لوگ ہیں، جنہوں نے پہلی مرتبہ برفیلے نظارے دیکھے اور کئی سیاحوں کیلئے اکتوبر کے مہینے میں برف دیکھنا کسی اجوبے سے کم نہیں ہے۔ سیاحوں کا کہنا ہے کہ چندن واڑی کے برفیلے نظاروں سے انہیں ایسے منفرد تجربات حاصل ہوئے ہیں، جو تاحیات ان کے ساتھ رہیں گے۔ ملک کی مختلف ریاستوں سے آئے ان سیاحوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی کشمیر آنے کا پلان مرتب کیا تھا اور وہ یہاں پہنچ کر کافی خوش ہوئے۔ جبکہ ان کی خوشی میں مزید اضافہ تب ہوا جب یہاں کے پہاڑی علاقوں میں موسم کی پہلی برف باری ہوئی اور انہیں اکتوبر کے مہینے میں ہی کشمیر کی برف باری کا منفرد تجربہ حاصل ہوا۔

    مغربی بنگال سے آئی آرتی گوش نامی سیاح کا کہنا ہے کہ وہ کشمیر پہلی مرتبہ آئی ہیں اور انہیں اس بات کا بالکل بھی احساس نہیں تھا کہ کشمیر میں اکتوبر میں ہی انہیں برف دیکھنے کو ملے گی۔ آرتی نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف انہیں کشمیر میں برف دیکھنے کو ملی بلکہ موسم کی پہلی برف باری میں گھومنے پھرنے کا بھی موقع نصیب ہوا۔ ممبئی سے آئے ایک اور سیاح وشو ناتھ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ان کا ٹور پہلے ہی ایک کامیاب ٹور ثابت ہوا تھا اور جب چندن واڑی کے برفیلے نظاروں کو روبرو دیکھا گیا تو یقین ہوا کہ کشمیر واقعی طور پر زمین پر جنت کا ایک نمونہ ہے۔

    ملک کے مختلف حصوں سے آئے ان سیاحوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں آکر برفیلے نظاروں کے ساتھ ساتھ انہیں یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی بھی دیکھنے کو ملی۔ جبکہ کشمیر میں آکر ان کے تمام تر خدشات غلط بھی ثابت ہوتے ہیں۔ جسے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ کشمیر سیاحوں کیلئے محفوظ اور موافق مقام ہے۔ ارون کمار نامی اتراکھنڈ کے سیاح نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے کشمیر آنے کا فیصلہ لیا تو ان کے دوست و رشتہ داروں نے انہیں کشمیر نہیں جانے کی صلاح دی، جس کہ وجہ سے ان کے دل و دماغ میں طرح طرح کے خدشات پیدا ہو گئے۔ ارون کمار نے کہا لیکن کشمیر آنے کے بعد ان کے تمام تر خدشات غلط ثابت ہوۓ اور انہیں اس بات کاا احساس ہوا کہ کشمیر سیاحوں کےلیے نہ صرف خوبصورت اور موافق جگہ ہے بلکہ یہ دنیا کہ محفوظ ترین مقام بھی ہے۔

    یہ بھی پڑھئے: ترقی کے کاموں میں جموں و کشمیر آخر کیوں پچھڑ رہا؟ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہی یہ بات


    یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر:باندی پورہ میں فوجی گاڑی کو اڑانے کی سازش ناکام، دہشت گردوں کی تلاش میں چلی مہم


    رواں برس کے دوران کشمیر میں ریکارڈ توڑ سیاحوں کی تعداد وارد ہوئی۔ جبکہ پہلگام میں اب تک اس برس 8 لاکھ کے قریب سیاح ریکارڈ ہوئے ہیں۔ جو یہاں کی سیاحتی صنعت کیلئے کافی سود مند تصور کیا جاتا ہے ۔ سردیوں میں سیاحوں کی اس طرح کی آمد سے سیاحتی صنعت سے جڑے افراد میں بھی خوشی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ سیاحوں کی زیادہ سے زیادہ آمد کے منتظر ہیں تاکہ ان کے روزگار میں مزید اضافہ ہو سکے۔ عارف نامی ایک شخص کا کہنا ہے کہ کشمیر کے لوگ کھلے دل سے  سیاحوں کا استقبال کر رہے ہیں اور یہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ سیاح کشمیر آئے کیونکہ آبادی کا ایک کثیر حصے کا روزگار سیاحتی صنعت پر ہی انحصار رکھتا ہے۔

    پہلگام جہاں سرمائی سیاحت کیلئے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے تو وہیں اس خوبصورت علاقے میں سرمائی سیاحت کا کافی مادہ بھی موجود ہے۔ ایسے میں متعلقین پہلگام کو ونٹر پرائم ڈسٹنیشن بنانے کیلئے بھی کوشاں ہیں تاکہ یہاں کی معشیت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: