உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: بھدرواہ میں پھولوں کو دیکھنے کیلئے نہیں پہنچے سیاح، سیاحتی سرگرمیاں نہ کے برابر

    J&K News: بھدرواہ میں پھولوں کو دیکھنے کیلئے نہیں پہنچے سیاح، سیاحتی سرگرمیاں نہ کے برابر

    J&K News: بھدرواہ میں پھولوں کو دیکھنے کیلئے نہیں پہنچے سیاح، سیاحتی سرگرمیاں نہ کے برابر

    Jammu and Kashmir : بھدرواہ سیاحت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔ سرسبز پہاڑ، صاف و شفاف قدرتی چشموں سے مالامال بھدرواہ علاقہ اپنی خوبصورتی خود بیان کرتا ہے۔ لیکن قدرت کے اس انمول تحفے کو محکمہ سیاحت اور بھدرواہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی دنیا کے سامنے لانے میں ناکامیاب رہی ہے۔

    • Share this:
    بھدرواہ : بھدرواہ سیاحت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔ سرسبز پہاڑ، صاف و شفاف قدرتی چشموں سے مالامال بھدرواہ علاقہ اپنی خوبصورتی خود بیان کرتا ہے۔ لیکن قدرت کے اس انمول تحفے کو محکمہ سیاحت اور بھدرواہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی دنیا کے سامنے لانے میں ناکامیاب رہی ہے۔ بھدرواہ میں جنگلی پھولوں کی وادی کو کوئی بھی سیاح ابھی تک دیکھنے نہیں آیا ہے، جس کی وجہ سے مقامی لوگ اور سیاحت سے وابستہ لوگ مایوس ہیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے متعلقہ محکمہ اس پھولوں کی وادی کو دنیا کے سامنے لانے میں ناکامیاب رہا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: رہبر کھیل، جنگلات اور زراعت کی پالیسی پر تنازعہ، انتظامیہ نے دی صفائی


    بھدرواہ میں گزشتہ تین سالوں میں محکمہ سیاحت بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کی وجہ سے اور 2020 اور 2021 میں کورونا وبا کی وجہ سے۔ لیکن آج جب حالات پوری طرح سے سازگار ہیں، پھر بھی سیاح اس وادی کا رخ نہیں کر رہے ہیں۔ بھدرواہ میں اونچے گھاس کے میدانوں میں اگنے والا جنگلی پھول جسے digitalis purpurea ( فوکس گلو) بھی کہتے ہیں، گزشتہ کئی سالوں سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا۔ لیکن اس سال ابھی تک کوئی بھی سیاح ان پھولوں کی وادی میں نظر نہیں آرہا۔

    سیاحت سے جڑے افراد نے یہ الزام لگایا کہ بھدرواہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی سیاحوں کو اس پھولوں کی وادی کی طرف راغب کرنے میں ناکامیاب رہی، جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کو پھر سے ایک بار مایوسی ہی ہاتھ آئی۔ ٹورزم ٹریول ٹریڈ اسوسی ایشن کے سیکٹری اسحاق شیخ نے بتایا کہ بھدرواہ میں ہنگا علاقہ جہاں پہ digitalis purpurea جنگلی پھول مئی کے شروعاتی دنوں میں پوری طرح سےکھل جاتا ہے۔ جب یہ پھول اپنے شباب پر ہوتا ہے تو ان پھولوں کو دیکھنے کے لئے دور دور سے سیاح آتے تھے اور یہاں سے ٹوریسٹ سیزن کی شروعات ہوتی تھی اور بی ڈی اے یہاں پہ ایک دن کے میلے کا انعقاد کرتی تھی، اس کے فوراً بعد سیاح ان پھولوں کی وادی کا بہاری تعداد میں رخ کرتے تھے، جس سے نہ صرف سیاحت سے وابستہ لوگوں کو فائدہ ہوتا تھا ، بلکہ جو سیاحت سے جڑا نہ ہو اس کو فائدہ پہنچتا تھا“۔

     

    یہ بھی پڑھئے: کشمیری پنڈت ملازمین کا احتجاج جاری، اب مظاہرین نے اپنایا یہ نیا طریقہ


    انہوں نے مزید کہا کہ لیکن اس بار بی ڈی اے اپنی گہری نیند سے نہیں جاگی اور اس پھولوں کی وادی کو فروغ دینے میں ناکامیاب ہوئی جس کا خمیازہ یہاں کے لوگوں کو بھگتنا پڑا اور ہمیں نہیں لگتا کہ ابھی بھی بی ڈی اے یہاں کے ٹورزم کو فروغ دینے میں دلچسپی دکھا رہی ہے۔ اگر ایسا ہی حال رہا تو بہت جلد بھدرواہ میں سیاحت کا تارا جو گزشتہ کئی سالوں سے عروج پہ تھا وہ بہت جلد غروب ہو جائے گا۔

    وہیں ڈی ڈی سی کونسلر ٹھاکر یودھویر سنگھ نے کہا کہ فوکس گلو پھول یا تو یورپ میں ہے یا بھدرواہ میں ہوتا ہے۔ ہر سال اس کے کھلنے کے بعد بی ڈی اے کی طرف سے میلہ لگایا جاتا ہے تاکہ سیاحوں کو زیادہ سے زیادہ اس وادی کی طرف راغب کیا جا سکے، لیکن ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہی ہے آخر کیا وجہ ہے کیوں اس بار اتھارٹی سیاحوں کو یہاں کی طرف راغب نہیں کر سکی۔ یہ بی ڈی اے کے اوپر سوالیہ نشان پیدا کرتا ہے ۔

    جبکہ ساجد میر نامی ایک مقامی باشندے نے کہا کہ مارچ مہینے میں ہندوستانی فوج کی جانب سے بھدرواہ کی جائی گھاٹی میں وینٹر کارنیوال کرکے بھدرواہ میں ٹورزم سیزن کی شروعات کی، لیکن بی ڈی اے اس چیز کا فائدہ نہیں اُٹھا سکی۔ جب یہ کارنیوال ہوا تو ہمیں لگا بھدرواہ کو جو گزشتہ تین سالوں سے سیاحتی شعبے کو جو نقصان اٹھانا پڑا ہے، شاید اس سال اس کی بھر پائی ہو، لیکن بی ڈی اے نے جو اس پھولوں کی وادی کو نظرانداز کیا اور اس کا بہت بڑا نقصان بھدرواہ کو ہوا۔

    وہیں جب اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ڈیویلپمنٹ کمشنر ڈوڈہ وکاس شرما سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم بہت جلد وہاں پہ ایک کیمپ رکھیں گے اور اُس علاقے کی prosperity کے لئے ڈیولپمنٹ ایکٹیویٹیز کو بڑھاوا دیں گے ۔ اس میں ہم بی ڈی اے کو بھی ساتھ میں لیں آئیں گے اور کوشش کی جائے گی کہ ہنگا علاقہ جہاں پہ یہ پھول بہت زیادہ تعداد میں اگتا ہے سیاحوں کے لئے کھول دیا جائے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: