اپنا ضلع منتخب کریں۔

    Weekend Curfew ختم کرنے کے سرکار کے فیصلے کا جموں و کشمیر کے تجارت پیشہ افراد نے کیا خیر مقدم

    تجارتی سرگرمیاں معمول پر آجانے سے سرکار کو بھی ٹیکس کو صورت میں آمدنی حاصل ہوگی۔ کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچررس فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری بشیر کونگپوش نے بھی سرکار کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

    تجارتی سرگرمیاں معمول پر آجانے سے سرکار کو بھی ٹیکس کو صورت میں آمدنی حاصل ہوگی۔ کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچررس فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری بشیر کونگپوش نے بھی سرکار کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

    تجارتی سرگرمیاں معمول پر آجانے سے سرکار کو بھی ٹیکس کو صورت میں آمدنی حاصل ہوگی۔ کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچررس فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری بشیر کونگپوش نے بھی سرکار کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: جموں و کشمیر میں ویک اینڈ لاک ڈائون ختم کئے جانے کے سرکار کے فیصلے کا جموں و کشمیر کے تجارت پیشہ افراد نے خیر مقدم کیا ہے۔ جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر ارون گُپتا نے کہا کہ سرکار کا یہ فیصلہ قابل ستائیش ہے کیونکہ اس سے جموں کے تاجروں کو کافی راحت ملے گی۔ نیوز ایٹین اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاجر برادری ہمیشہ سرکار کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتی آئی ہے تاکہ عوام کے جان و مال کی حفاظت یقینی بن سکے ۔ گُپتا نے کہا، کووڈ وبا کی پہلی لہر سے لے کر آج تک تاجر پیشہ افراد نے سرکار کی طرفسے عائید کی گئی پابندیوں کو زمینی سطح پر عملانے کے لئے اپنا بھر پور تعاون پیش کیا حالانکہ لاک ڈائون کی وجہ سے تاجر طبقے کو کافی مالفی خسارے کا سمنا کرنا پڑا۔ تاہم عوام کے مفادات کو ملوحوظ رکتے ہوئے تاجروں نے لاک ڈائون پر سختی سے عمل کیا۔: ارون گُپتا نے کہا کہ اب جبکہ کووڈ کے مثبت کیسوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاجر انجمنوں نے سرکار سے مطالبہ کیا تھا کہ ویک اینڈ لاک ڈائون کو ختم کیا جائے جسکا سرکار نے مثبت جواب دیا جسکے لئے پوری تجارتی برادری سرکار کی مشکور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویک اینڈ لاک ڈائون ختم کئے جانے سے جموں و کشمیر میں روزمرہ کی تجارت ممکن ہوپائے گی جس سے نہ صرف تاجر طبقے کی مالی حالت میں سُدھار آجائے گا بلکہ عام لوگوں کو درپش مشکلات بھی کم ہو جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ تجارتی سرگرمیاں معمول پر آجانے سے سرکار کو بھی ٹیکس کو صورت میں آمدنی حاصل ہوگی۔ کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچررس فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری بشیر کونگپوش نے بھی سرکار کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ گفتگو کے دوران انہوں ے کہا کہ کشمیر کی تاجر برادری کو دو ہزار اُنیس اور کورونا وبا کو قابو کرنے کے لئے لگائے گئے لاک ڈائون سے کافی مالی خسارہ اٹھانا پڑا ہے لہذا ا س فیصلے سے تاجروں کو کافی راحت ملی ہے۔ رگھوناتھ بازار تریڈرس ایسو سی ایشن کے صدر سنجے گُپتا نے کہا کہ ویک اینڈ لاک ڈائون کی وجہ سے جموں کے تاجروں اور خریداروں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس فیصلے سے اب لوگوں نے چین کی سانس لی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انہیں اسبات کی خوشی ہے کہ سرکار نے واضح الفاظ میں کہ دیا ہے کہ اب ویک اینڈ لاک ڈائون نافذ نہں ہوگا۔ کیونکہ اس سے پہلے دکاندار اور دیگر تجارت پیشہ افراد اس مخصمے کا شکار رہتے تھے کہ آیا انہٰں ہفتے کے روز اپنی دکانیں کھُلی رکھنی ہے یا نہیں۔ جموں کے تاجر گوتم گُپتا نے سرکار کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تاجروں کی مشکلات میں کمی واقع ہوگی۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں کے روگھناتھ ب ازار علقے میں خریداری کرنے والے افراد ماتا ویشنو دیوی کی یاترا کرنے والے یاتریوں پعر مشتمل ہوتی ہے جو عام طور پر ویک اینڈ پر ہی بازاروں کا رُخ کرتے ہیں۔ویک اینڈ لاک ڈائون کی وجہ سے یہ یاتری جموں میں خریدیاری کرنے سے قاصر رہ جاتے تھے جس کی وجہ سے ہینڈی کرافٹس اور دیگر ایشیا کا کاروبار کرنے والے دکانداروں کو کافی نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔ تاہم اب اس فیصلے کے بعد انکا کاروبار رفتار پکڑ لے گا۔

    جموں کے سُریندر گُپتا نامی تاجر کا کہنا ہے کہ جموں خطے میں ان دنوں شادیوں کا دور ہے اور ایسے میں ویک اینڈ لاک ڈائون کی وجہ سے عام لوگوں اور دکانداروں کو مشکلات پیش آرہی تھیں . لیکن سرکار کے اس فیصلے نے ان مشکلات کو دور کیا ہے۔ واضح رہے کہ سرکار نے کووڈ معاملات میں کمی کے پیش نظر پوری یو ٹی میں ویک اینڈ بلاک ڈاون کو ختم کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر میں چھ فروری دو ہزار بائیس کو گیارہ سو اکاون کووڈ ے مثبت معاملے سامنے آئے تھے جن میں سے پانچ سو گیارہ جموں صوبے جبکہ چھ سو چالیس کشمیر صوبے سے تعلق رکھتے ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: