ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں کشمیرکی سرکاری تنصیبات پراب لہرایاجارہاہےترنگا۔ ڈی سی آفس اننت ناگ سے کی گئی پہل

جموں کشمیر کے ایل جی منوج سنہا نے یو ٹی میں قائم سبھی سرکاری دفاتر و تنصیبات پر قومی پرچم نصب کرنے کی ہدایت دی۔ جبکہ ڈی سی اننت ناگ سمیت کئی اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے اس حکم نامے کی رو سے اپنے متعلقہ اضلاع میں 15 دنوں کے اندر اندر سبھی سرکاری دفاتر و تنصیبات پر قومی پرچم لگانے کی ہدایت دی۔

  • Share this:
جموں کشمیرکی سرکاری تنصیبات پراب لہرایاجارہاہےترنگا۔ ڈی سی آفس اننت ناگ سے کی گئی پہل
سرکاری دفاتر و تنصیبات پر قومی پرچم نصب کرنے کی ہدایت

حالیہ سرکاری حکم نامے کے بعد اب جموں کشمیر کی سبھی سرکاری تنصیبات پر قومی پرچم لہرایا جا رہاہے اور اس سلسلے میں ڈی سی آفس اننت ناگ سے پہل کی گئی جہاں پر منگل کے روزترنگا نصب کیا گیا اور اب سے ڈی سی آفس میں داخل ہوتے ہی ترنگا ہواؤں میں لہراتا نظر آئے گا۔ اسکے ساتھ ساتھ میونسپل کمیٹی ڈورو و دیگر مقامات پر قائم سرکاری تنصیبات پر قومی پرچم نصب کیا گیا۔ دراصل کچھ دن پہلے جموں کشمیر کے ایل جی منوج سنہا نے یو ٹی میں قائم سبھی سرکاری دفاتر و تنصیبات پر قومی پرچم نصب کرنے کی ہدایت دی۔ جبکہ ڈی سی اننت ناگ سمیت کئی اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے اس حکم نامے کی رو سے اپنے متعلقہ اضلاع میں 15 دنوں کے اندر اندر سبھی سرکاری دفاتر و تنصیبات پر قومی پرچم لگانے کی ہدایت دی۔


جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے دن ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران کہا تھا کہ ترنگا ملک کی شان کے ہونے کے ساتھ ساتھ خوشحالی، امن و آشتی کی علامت بھی ہے جسکو سمجھنے کی بے حد ضرورت ہے اور اسی لئے جموں کشمیر میں ہر جگہ ترنگا لہراتا نظر آنا چاہیے۔ اجلاس میں جموں اور کشمیر کے صوبائی کمشنروں کے علاوہ سبھی اضلاع کے ڈی سی، ایس پی اور دیگر اعلیٰ سیکٹورل افسران بھی موجود رہے۔



واضح رہے کہ جموں کشمیر میں دفعہ 370 کے خاتمے سے پہلے یہاں پر ترنگے کے ساتھ ساتھ ایک اور جھنڈا لہرایا کرتا تھا۔ ہل والے اس جھنڈے کو جموں کشمیر کے قانون کی رو سے مجازیت حاصل تھی لیکن ملک میں یکساں سیول کوڈ اور ایک نشان کی مانگ کو لیکر ہل والا پرچم کئی بار تنازعات کا شکار رہا ۔ جسکے بعد دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد اب جموں کشمیر میں صرف اور صرف قومی پرچم کو ہی قانونی حیثیت حاصل ہوئی ہے اور اس پرچم کی شان کو عام کرنے اور لوگوں میں مزید بیداری لانے کےلئے اب سرکاری سطح پر تمام سرکاری تنصیبات پر ترنگا لہرانے کا حکم نامہ صادر ہوا ہے۔

ہم آپ کو بتادیں کہ اعجاز کئی وجوہات کی بناء پر پچھلے کئی دن سے سرخیوں میں رہے ہیں۔ اعجاز خان مشہور ٹی وی ریئلٹی شو بگ باس میں بھی حصہ لیے چکے ہیں ۔ اسمبلی انتخابات کے دوران اداکار اعجاز خان نے ممبئی کی بائی کلا نشست سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا ، حالانکہ انہیں نوٹا کے ووٹوں سے کم ووٹ ملے اور ان کی ضمانت ضبط ہوگئی۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Mar 31, 2021 12:40 PM IST