உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: دو بھائیوں نے اپنے ہی والد کا قتل کرکے لاش کو ڈل جھیل میں پھینک دیا

    دو بھائیوں نے اپنے ہی والد کا قتل کرکے لاش کو ڈل جھیل میں پھینک دیا

    دو بھائیوں نے اپنے ہی والد کا قتل کرکے لاش کو ڈل جھیل میں پھینک دیا

    سری نگر میں ایک گھناؤنے جرم کا پولیس نے پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس نے اپنے ہی باپ کے قتل کے معاملہ میں دو بیٹوں کو گرفتار کیا ہے، جنہوں نے پولیس کے مطابق اپنے باسٹھ سالہ والد کا قتل کرکے ان کی لاش ڈل جھیل میں پھینک دی۔ تفصیلات کے مطابق 7 اپریل کو آخون محلہ سری نگر کے قریب ڈل جھیل میں ایک لاش مقامی لوگوں نے دیکھی۔ لاش جھیل سے باہر نکال دی گئی اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو اپنی تحویل میں لیا۔

    • Share this:
    سری نگر: سری نگر میں ایک گھناؤنے جرم کا پولیس نے پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس نے اپنے ہی باپ کے قتل کے معاملہ میں دو بیٹوں کو گرفتار کیا ہے، جنہوں نے پولیس کے مطابق اپنے باسٹھ سالہ والد کا قتل کرکے ان کی لاش ڈل جھیل میں پھینک دی۔ تفصیلات کے مطابق 7 اپریل کو آخون محلہ سری نگر کے قریب ڈل جھیل میں ایک لاش مقامی لوگوں نے دیکھی۔ لاش جھیل سے باہر نکال دی گئی اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو اپنی تحویل میں لیا۔

    پوچھ گچھ کے بعد پتہ چلا کہ یہ لاش الہی باغ صورہ سری نگر کے باسٹھ سالہ شخص غلام نبی توتہ کی ہے۔ مارے گئے شخص کے جسم پر پولیس کو زخم کے نشان نظر آئے اور پولیس نے اسی زاویے سے تحقیقات شروع کردی۔  پولیس اسٹیشن نگین نے پہلے ہی ایف آئی آر درج کی تھی اور میڈیکل جانچ کے بعد لاش لواحقین کے حوالے کردی۔ لاش پر زخموں کے نشان سے پولیس نے پہلے ہی اس کے پیچھے کسی سازش کو بھانپ لیا تھا۔ دفعہ 302 سمیت کئی دفعات کے اندر معاملہ درج کرلیا گیا۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    Jammu and Kashmir: غیر ملکی دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ باعث تشویش: دفاعی ماہرین

    لواحقین نے غلام نبی کی لاش پہنچنے پرخوب آہ وزاری کی، لیکن جب پولیس کی تحقیقات آگے بڑھی اور سی سی ٹی فوٹیج اور دیگر شواہد جمع کئے گئے تو یہ بڑا انکشاف ہوا۔ غلام نبی توتہ کو اپنے ہی دو بیٹوں نے قتل کرکے ڈل جھیل میں پھینک دیا تھا۔ پولیس کے مطابق مرحوم کا قتل پانچ اپریل کو کیا گیا تھا اور ایک دن تک لاش گھر میں چھپانے کے بعد اسے سات اپریل کو ڈل جھیل میں پھینک دیا گیا تاکہ ایک حادثاتی موت قرار دی جائے یا پھر قتل کے معاملہ میں ان پر شک کی انگلی نہ اٹھے۔

    حالانکہ خون ناحق نے پکار لگادی اور دونوں ملزمین پولیس کی گرفت میں ہیں اور ساتھ ہی ایک گاڑی بھی پولیس نے برآمد کی، جس میں لاش کو الہی باغ سے ڈل جھیل تک لایا گیا۔ قتل کے اس معاملے کی مزید تفصیلات پر ابھی پولیس نے روشنی نہیں ڈالی۔ یعنی آخر ان بھائیوں نے اگر اپنے والد کا قتل کیونکر کیا؟
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: