ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں ایئربیس پر ڈرون حملے کے چشم دیدوں نے کیا بڑا انکشاف، پاکستان پر گہرا ہوا شک

Jammu Kashmir Drone Attack: جموں کے سرحدی علاقے میں کم ازکم 30 ڈرون دیکھے جانے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستانی فضائیہ کے اڈے پر ہوئے حملے سے متعلق بھی چشم دیدوں نے اہم جانکاری شیئر کی ہے۔

  • Share this:
جموں ایئربیس پر ڈرون حملے کے چشم دیدوں نے کیا بڑا انکشاف، پاکستان پر گہرا ہوا شک
جموں ایئربیس پر ڈرون حملے کے چشم دیدوں نے کیا بڑا انکشاف، پاکستان پر گہرا ہوا شک

سری نگر/ نئی دہلی: جموں وکشمیر (Jammu & Kashmir) میں ہندوستانی فضائیہ (Indian Airforce) کے اڈے پر ڈرون حملے میں دو ڈرونس کا استعمال ہوا تھا۔ حادثہ کے چشم دیدوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملے کی جانچ میں شامل ایجنسیوں کا شک پاکستان پر گہرا ہوگیا ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق، حملے کی جانچ کر رہی قومی تفتیشی جانچ ایجنسی (این آئی اے) سے چشم دیدوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے دو ڈرون کا استعمال کیا۔ ڈرونس ہندوستان - پاکستان سرحد (India Pakistan Border) کی سمت میں مغرب کی طرف بڑھ رہے تھے۔


دوسری جانب، فورنسک انالیسس کے مطابق، حملے میں استعمال کیا گیا دھماکہ خیز آر ڈی ایکس (RDX) تھا۔ جانچ سے جڑے ایک فوجی افسر نے کہا، ’دھماکہ خیز اشیا ایک عام سامان لگتا ہے، لیکن زمین کے رابطے میں آتے ہی اس کا اثر تیز نظر آیا۔ دوسری طرف، بھلے ہی ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ڈرون کہاں سے اڑے یا کہاں واپس لوٹ گئے۔


جموں وکشمیر پولیس کے ایک افسر نے کہا کہ گزشتہ کئی معاملوں کے جانچ سے یہ اشارہ ملا کہ ہتھیار گرانے کے لئے اسی طرح کے ڈرون کا استعمال سرحد پار سے کیا گیا۔ گزشتہ ہفتے پولیس نے کمشنر میں شوپیاں کے پاس سے ندیم اور طالب الرحمن کو گرفتار کیا تھا۔ دونوں پر الزام ہے کہ دونوں لوگ 5 کلو گرام دھماکہ خیز آلات لگانے کی سازش رچ رہے تھے۔ دونوں بنیہال ٹنل کے پاس پکڑے گئے تھے۔


ڈرون کے ذریعہ سرحد پار سے آئے دھماکہ خیز اشیا

پولیس افسر نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ ندیم اور طالب الرحمٰن کے پاس سے برآمد دھماکہ خیز ڈرون کے ذریعہ سرحد پار سے لایا گیا تھا۔ ایک خفیہ افسر نے نیوز 18 کو بتایا، بنیہال کی سازش کا پتہ را کے ذریعہ شیئر کی گئی خفیہ جانکاری کی بنیاد پر لگایا گیا تھا۔ پہلے ڈرون آپریشن میں شامل لشکر طیبہ اکائی کی نگرانی کر رہا تھا۔ افسر نے کہا، ’یہ واضح طور پر کہنا مشکل ہے کہ اس حملے میں وہ یونٹ شامل تھی یا نہیں، یہ ابھی جانچ کا موضوع ہے‘۔

گزشتہ ماہ جموں کے سرحدی علاقے میں کم از کم 30 ڈرون دیکھے جانے کی اطلاع ملی ہے۔ حالانکہ حال کے کچھ معاملے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ ہائی الرٹ پر موجود جوانوں نے زمین کے قریب گھوم رہے سیٹلائٹس کو یا پلینٹس کو ڈرون سمجھنے کی غلطی کردی۔ حالانکہ اس بات کے ثبوت ہیں کہ کچھ معاملوں میں ڈرون کے ذریعہ ہتھیار اور دھماکہ خیز اشیا گرائے گئے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 05, 2021 11:44 AM IST