உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: پلوامہ میں مسلح تصادم، دو مقامی مبینہ دہشت گرد ہلاک

    جموں وکشمیر: پلوامہ میں مسلح تصادم، دو مقامی مبینہ دہشت گرد ہلاک۔ فائل فوٹو

    جموں وکشمیر: پلوامہ میں مسلح تصادم، دو مقامی مبینہ دہشت گرد ہلاک۔ فائل فوٹو

    جنوبی ضلع پلوامہ کے کھریو پانپور میں ایک شبانہ مسلح تصادم کے دوران سکیورٹی فورسز نے دو مقامی مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ جموں و کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ ضلع پلوامہ کے کھریو پانپور علاقے میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو ہونے والے ایک مسلح تصادم کے دوران حزب المجاہدین سے وابستہ دو مقامی مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      سری نگر: جنوبی ضلع پلوامہ کے کھریو پانپور میں ایک شبانہ مسلح تصادم کے دوران سکیورٹی فورسز نے دو مقامی مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ جموں و کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ ضلع پلوامہ کے کھریو پانپور علاقے میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو ہونے والے ایک مسلح تصادم کے دوران حزب المجاہدین سے وابستہ دو مقامی مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہلوک مبینہ دہشت گردوں کی شناخت مصیب مشتاق ساکن کھریو اور مزمل احمد راتھر ساکن چکورہ پلوامہ کے طور پر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا: 'مصیب مشتاق لرگام میں جاوید احمد ملک کی ہلاکت میں ملوث تھا۔ یہ حزب المجاہدین کا ایک ہٹ اسکارڈ تھا، جو جنوبی کشمیر میں شہری ہلاکتوں میں ملوث تھا'۔
      ترجمان نے مزید کہا کہ مسلح تصادم کی جگہ سے اسلحہ وگولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔ نیز علاقے میں آپریشن جاری ہے۔ سری نگر میں تعینات دفاعی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل عمران موسوی نے کہا کہ مہلوک مبینہ دہشت گردوں کے قبضے سے ایک اے کے 47 رائفل، ایک پستول اور دیگر جنگی ساز و سامان برآمد کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کھریو میں جنگجو مخالف آپریشن جموں و کشمیر پولیس کو ملنے والی خفیہ اطلاعات کی بنا پر شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصیب مشتاق تشدد کے کئی واقعات بشمول سرکاری ملازم جاوید احمد ملک کی ہلاکت میں ملوث تھا۔

      سرکاری ذرائع نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کھریو پانپور میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پرجموں وکشمیر پولیس، فوج کی راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف نے جمعرات کی رات دیر گئے مذکورہ علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مشتبہ جگہ کی جانب پیش قدمی کے دوران وہاں موجود جنگجوئوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے درمیان باضابطہ طور تصادم شروع ہوا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ محاصرے میں پھنسنے والے جنگجوئوں کو خودسپردگی اختیار کرنے کی پیشکش کی گئی جو انہوں نے مسترد کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آخری اطلاعات ملنے تک مسلح تصادم میں دو جنگجوئوں کو مارا جا چکا تھا جن کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: