ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

پلوامہ میں سیکورٹی فورسیز کے سامنے البدر کے دو ملیٹنٹوں نے کی خود سپردگی 

سرنڈر کرنے والے ملیٹنٹوں کی شناخت لیلہ ہارا کاکہ پورہ پلوامہ عقیل احمد لون اور واصورہ پلوامہ کے روف شیخ کے بطور ہوئی ہے ۔ دونوں کے قبضے سے دو اے کے 47 رائفل اور کُچھ ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کئے گئے ہیں۔

  • Share this:
پلوامہ میں سیکورٹی فورسیز کے سامنے البدر کے دو ملیٹنٹوں نے کی خود سپردگی 
پلوامہ میں سیکورٹی فورسیز کے سامنے البدر کے دو ملیٹنٹوں نے کی خود سپردگی 

کشمیر کے پلوامہ میں سیکورٹی فورسیز کو بڑی کامیابی ملی ہے ۔البدر سے وابستہ دو ملیٹنٹوں نے انکاونٹر کے دوران سیکورٹی فورسس کے سامنے خودسپردگی کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع پلوامہ کے لیلہ ہارا کاکہ پورہ علاقے میں جمعہ کی شام کو فوج اور پولیس کے علاوہ سی آر پی ایف نے اُس وقت محاصرہ کیا جب اُنہیں علاقے میں ملیٹنٹوں کی

موجودگی کی اطلاع ملی۔ فورسس کی مشترکہ پارٹی کی جانب سے کیے گیے محاصرے کے دوران ایک رہائشی مکان میں چھپے ملیٹنٹوں نے فورسس پر فائرنگ کی۔


کافی دیر تک  ہوئی گولی  باری کے بعد سیکورٹی فورسس نے محاصرے میں پھنسے ملی ٹنٹوں کو ہتھیار چھوڑنے اور خود سُپردگی کرنے کی پیش کش کی۔ فورسس نے پوری رات گولیوں کا تبادلہ روک دیا تھا اور ملی ٹنٹوں کو سرنڈرکرنے کی

پیش کش رات بھر جاری رکھی ۔ اس دوران محاصرے میں پھنسے لیلہ ہارا کاکہ پورہ کے عقیل احمد لون کے والد کو بھی لایا گیا جس نے اپنے بیٹے کو خودسُپردگی کرنے کو کہا ۔ عقیل گولیوں کے  تبادلے میں زخمی بھی ہوا تھا ۔ آج صبح

تقریبا چھ بجے دونوں ملی ٹنٹوں نے ہتھیار سمیت فورسس کے سامنے سرنڈر کردیا۔

سرنڈر  کرنے والے ملیٹنٹوں کی شناخت لیلہ ہارا کاکہ پورہ پلوامہ عقیل احمد لون اور واصورہ پلوامہ کے روف شیخ کے بطور ہوئی ہے ۔ دونوں کے قبضے سے دو اے کے 47 رائفل اور کُچھ ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کئے گئے ہیں۔ ان دونوں نے 2020 میں ملیٹنسی کی راہ اختیار کرلی تھی ۔ تاہم عقیل کو زخمی حالت میں فورسیز نے جلد ہی فوجی اسپتال
سرینگر میں علاج معالجہ کے لیے منتقل کیا گیا۔

اس دوران پلوامہ میں گُزشتہ شام سے موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کی گئی ہیں۔ گُذشتہ12 گھنٹے کے دوران فورسیز کو ضلع پلوامہ میں دو الگ الگ آپریشنوں میں ملیٹنٹوں کے خلاف بڑی کامیابی ملی ہے۔ پلوامہ کے ترال میں فورسیز کے ساتھ
تین ملیٹنٹ مارے گئے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 30, 2021 12:17 PM IST