ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

پلوامہ تصادم میں نوگام حملے میں ملوث 4 میں سے دو دہشت گرد ہلاک: آئی جی پی کشمیر

کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے کہا ہے کہ پلوامہ کے کاکہ پورہ علاقے میں ہونے والے تصادم میں نوگام حملے میں ملوث چار میں سے دو مبینہ دہشت گردوں کو مارا گیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 02, 2021 04:42 PM IST
  • Share this:
پلوامہ تصادم میں نوگام حملے میں ملوث 4 میں سے دو دہشت گرد ہلاک: آئی جی پی کشمیر
جموں وکشمیر: آئی جی پی کشمیر نے دعویٰ کیا ہے کہ پلوامہ تصادم میں نوگام حملے میں ملوث 4 میں سے دو دہشت گرد ہلاک کئے گئے ہیں۔ فائل فوٹو

سری نگر: کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے کہا ہے کہ پلوامہ کے کاکہ پورہ علاقے میں ہونے والے تصادم میں نوگام حملے میں ملوث چار میں سے دو مبینہ دہشت گردوں کو مارا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوگام میں ایک بی جے پی لیڈرکی رہائش گاہ پر ہونے والا حملہ، جس میں ایک پولیس اہلکار مارا گیا تھا اور اس کی سروس رائفل بھی چھینی گئی تھی، لشکر طیبہ اور البدر نامی دہشت گرد تنظیموں نے مشترکہ طور انجام دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ میں جس کے گھر میں تصادم ہوا، دہشت گردوں نے اسی کی گاڑی نوگام سے پلوامہ آنے کے لئے استعمال کی تھی، جس کو ضبط کیا گیا اور مالک مکان وگاڑی کو بھی گرفتارکیا جائے گا۔ آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کے روز یہاں پولیس کنٹرول روم میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ہے۔

کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے کہا: 'نوگام میں بی جے پی لیڈر کی رہائش گاہ پر لشکر طیبہ اور البدر نامی دہشت گرد تنظیموں نے مشترکہ طور حملہ کیا۔ اس حملے میں ملوث تین میں سے دو مبینہ دہشت گردوں سہیل نثار لون، جس نے نوگام حملے کے وقت نقاب پہنا تھا اور جنید ساکن پرچھو پلوامہ کو پلوامہ تصادم میں مارا گیا، یہ دونوں پلوامہ کے ہی تھے اور ان کا تعلق البدر سے تھا'۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے میں ملوث دو دہشت گرد عبید اور شاہد جن کا تعلق سری نگر سے ہے، ابھی بھی فرار ہیں، لیکن ان کو بھی بہت جلد پکڑا یا مارا جائے گا۔ وجے کمار نے کہا کہ پلوامہ میں جس کے مکان میں تصادم ہوا دہشت گردوں نے اسی کی آلٹو گاڑی کو نوگام سے پلوامہ آنے کے لئے استعمال کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس گاڑی کو ضبط کیا گیا ہے اور مالک گاڑی کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے 24 گھنٹوں کے اندر اندر ہی اس کیس کو حل کیا۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Apr 02, 2021 04:42 PM IST