உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹی-20 عالمی کپ: میچ کے بعد کشمیر میں لگے ہندوستان مخالف نعرے، طلبا پریو اے پی اے کے تحت ایف آئی آر درج

    ٹی-20 عالمی کپ: میچ کے بعد کشمیر میں لگے ہندوستان مخالف نعرے، طلبا پریو اے پی اے کے تحت ایف آئی آر درج

    ٹی-20 عالمی کپ: میچ کے بعد کشمیر میں لگے ہندوستان مخالف نعرے، طلبا پریو اے پی اے کے تحت ایف آئی آر درج

    India vs Pakistan T20 Match: پولیس نے سری نگر (Srinagar) واقع دو میڈیکل کالج کے ہاسٹل وارڈن، منیجمنٹ اور طلبا کے خلاف یو اے پی اے اور دیگر دفعات میں ایف آئی آر درج کی ہیں۔ الزام ہے کہ پاکستان کے خلاف ہندوستان کی شکست کے بعد طلبا نے ملک مخالف قابل توہین نعرے بازی کی تھی۔

    • Share this:
      سری نگر: دبئی (Dubai) میں اتوار کو منعقدہ ہندوستان - پاکستان ٹی-20 عالمی کپ (T20 World Cup) میچ کے بعد جموں وکشمیر (Jammu-Kashmir) میں ہندوستان مخالف نعرے بازی کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ اسے لے کر پولیس نے سری نگر (Srinagar) واقع دو میڈیکل کالج کے ہاسٹل وارڈن، منیجمنٹ اور طلبا کے خلاف یو اے پی اے اور دیگر دفعات میں ایف آئی آر درج کی ہیں۔ پاکستان کے خلاف ہندوستان کی شکست کے بعد طلبا نے ملک مخالف قابل توہین نعرے بازی کی تھی۔ ساتھ ہی اس دوران ان طلبا نے جم کر ہنگامہ بھی کیا تھا۔ حادثہ کے ویڈیو بھی وائرل ہوئے تھے۔

      سری نگر کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اور شیرکشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے کئی ویڈیو سامنے آئے تھے، جن میں کچھ طلبا پاکستان کے حامی اور ہندوستان کی مخالفت میں نعرے لگا رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ معاملہ تب سامنے آیا، جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ تین دنوں کے دورے پر مرکز کے زیر انتظام ریاست میں تھے۔ آرٹیکل 370 ہٹنے کے بعد وہ پہلی بار جموں وکشمیر پہنچے تھے۔

      جموں وکشمیر پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا، ’سری نگر شہر کے سورہ اور کرن نگر پولیس اسٹیشن میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی دفعہ 13 اور تعزیرات ہند کے 505 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ہماری جانچ جاری ہے۔ ہم اس معاملے کے ذریعہ مثال قائم کریں گے‘۔ فی الحال، پولیس ویڈیو کے بارے میں جانکاری حاصل کر رہی ہے اور اتوار رات کو ان سرگرمیوں میں شامل رہے طلبا کی پہچان کے لئے کالج اسٹاف سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

      پولیس ذرائع نے بتایا، ’ہم سبھی ویڈیو کی توسیع کی جانچ کر رہے ہیں۔ سامنے آئے زیادہ تر ویڈیو پرانے ہیں اور سال 2017 کے ہیں۔ اس لئے ہمیں بہت محتاط رہنا ہوگا۔ جی ایم سی اور ایس کے آئی ایم ایس کے کچھ ویڈیو اتوار رات کے ہیں۔ جانچ سب کچھ واضح کردے گی‘۔ معاملے کے سامنے آںے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی صارفین کی ناراضگی شروع ہوگئی ہے۔ لوگوں نے جموں وکشمیر حکومت اور پولیس سے میڈیکل طلبا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جی ایم سی طلبا نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر کہا، ’ایسے ڈاکٹرس انسانیت کے لئے خطرہ ہیں۔ خدا جانے یہ کشمیر میں تعینات فوجیوں کا علاج کیسے کریں گے‘۔ خبر لکھے جانے تک کوئی بھی گرفتاری نہیں ہوئی تھی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: