உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر میں پھر بدامنی پھیلانے کی فراق میں آئی ایس آئی، اودھم پور حملے کے دہشت گردوں سے پوچھ گچھ میں بڑا انکشاف

    اودھم پور حملے کے دہشت گردوں سے پوچھ گچھ میں بڑا انکشاف

    اودھم پور حملے کے دہشت گردوں سے پوچھ گچھ میں بڑا انکشاف

    اعلیٰ ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ اودھم پور دھماکہ معاملے میں گرفتار دہشت گردوں سے پوچھ گچھ میں واضح طور پر پتہ چلا ہے کہ پاکستان کشمیر میں تشدد پھیلانے کے لئے زیادہ سے زیادہ ہتھیار اور گولہ بارود سرحد پار بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Udhampur, India
    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان کی جاسوسی ایجنسی آئی ایس آئی سردیوں سے پہلے کشمیر میں زیادہ سے زیادہ دہشت گردوں کی دراندازی کرانے کی فراق میں ہے۔ تاکہ وہ دنیا کے سامنے کشمیر وادی میں غیر استحکام کا موضوع اچھال سکے۔ اعلیٰ خفیہ ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ اودھم پور دھماکہ معاملے میں گرفتار دہشت گردوں سے پوچھ گچھ میں واضح طور پر پتہ چلا ہے کہ پاکستان کشمیر میں تشدد پھیلانے کے لئے زیادہ سے زیادہ ہتھیار اور گولہ بارود سرحد پار بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ تشدد یہ بتانے کے لئے ہے کہ مقامی لوگ دہلی کی قیادت کو وادی می قبول نہیں کر رہے ہیں۔

      ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان ٹارگٹ کلنگ، دھماکہ اور ہائی برڈ قتل سمیت سبھی طرح کی کوششیں کر رہا ہے۔ سری نگر اور اس کے آس پاس تقریباً 300 چھوٹے ہتھیار پہلے سے ہی تیار ہیں۔

      جموں وکشمیر پولیس نے کہا ہے کہ اودھم پور میں حالیہ دوہرے دھماکوں کے پیچھے پاکستان واقع لشکر طیبہ دہشت گرد تنظیم کا ہاتھ تھا۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ہائی پروفائل یاترا سے ٹھیک پہلے یہ دھماکے یہ پیغام دینے کے لئے کئے گئے کہ جموں وکشمیر میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔

      پولیس ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے کہا تھا، ’پاکستان ترقی کا دشمن اور تباہ کاری کا دوست ہے۔ گزشتہ 30 سالوں میں انہوں نے یہی کیا ہے۔ وہ نہیں چاہیں گے کہ کوئی ترقی ہو۔ یقینی طور پر پاکستان اور اس کی ایجنسیاں یہ یقینی بناتی رہی ہیں کہ وادی میں امن نہیں بلکہ بدامنی بنی رہے۔ اب چیزیں بہتر ہو رہی ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سدھار ہو رہا ہے‘۔

      واضح رہے کہ 28 ستمبر کی رات تقریباً ساڑھے دس بجے ڈومیل چوک پر ایک پٹرول پمپ کے پاس ایک بس میں ہوئے پہلے دھماکے میں دو لوگ زخمی ہوگئے۔ دوسرے دھماکہ میں کوئی نقصان نہیں ہوا، جو پرانی بس اسٹینڈ میں کھڑی بس کو چیرتے ہوئے پھٹ گیا۔ پولیس نے کہا کہ ڈوڈا ضلع کے باشندہ لشکر طیبہ کے مشتبہ دہشت گرد محمد امین بھٹ عرف خبیب نے 21 ستمبر کو بسنت گڑھ کے اسلم شیخ سے رابطہ کیا تھا اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے دورے سے پہلے اسے دھماکے کو انجام دینے کی ذمہ داری دی تھی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: