உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سرینگر میں 55 جوڑوں کی اجتماعی شادی کا اہتمام, نکاح کو آسان اور جہیز سے پاک بنانے پر علما کا زور

    جعفریہ کونسل کی جانب  سے سرینگر میں 55 جوڑوں کی اجتماعی شادی کا پروگرام منعقد کیا گیا ۔ اس موقعہ پر صاحب ثروت لوگوں پر مفلس افراد کی مدد کرنے اور نکاح کو آسان بنانے کی تاکید کی گئی

    جعفریہ کونسل کی جانب  سے سرینگر میں 55 جوڑوں کی اجتماعی شادی کا پروگرام منعقد کیا گیا ۔ اس موقعہ پر صاحب ثروت لوگوں پر مفلس افراد کی مدد کرنے اور نکاح کو آسان بنانے کی تاکید کی گئی

    جعفریہ کونسل کی جانب  سے سرینگر میں 55 جوڑوں کی اجتماعی شادی کا پروگرام منعقد کیا گیا ۔ اس موقعہ پر صاحب ثروت لوگوں پر مفلس افراد کی مدد کرنے اور نکاح کو آسان بنانے کی تاکید کی گئی

    • Share this:
    جعفریہ کونسل جموں کشمیر نے سرینگر میں 55 جوڑوں کی ایک ساتھ شادی کرادی۔ امر سنگھ کلب سرینگر میں منعقد اس اجتماعی شادی میں جن لڑکیوں کی شادی کرائی گئی ان میں سے 19 لڑکیاں یتیم ہیں ۔ کونسل کے چیئرمین حاجی مصدق کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اب جہیز کی بدعت زور پکڑ رہی ہے اور شادیوں پر بھاری خرچہ کے چلتے کئی بچیاں شادی کی عمر پار کرچکی ہیں اور ان کے والدین سخت پریشانی میں مبتلا ہیں لہذا ان کی مدد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    اس شادی کے دوران علما نے نکاح کی اہمیت بیان کی اور شادی میں اصراف سے پرہیز کرنے پر زور دیا۔ اس اجتماعی شادی کے دوران ان نئے جوڑوں کو ازواجی زندگی شروع کرنے کے لئے سامان بھی فراہم کیا گیا۔ عبدل مجید نامی ایک دُلہے نے کہا کہ ایسے اقدامات آج کے دور میں کافی اہم ہے ۔ انھوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ایسے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے ۔



    جعفریہ کونسل نے اجتماعی شادیوں کا یہ سلسلہ 2015 سے شروع کیا ۔ کونسل کے چیئرمین حاجی مصدق نے کہا کہ صاحب ثروت لوگوں کو اپنی بیٹیوں کی شادی کے وقت یہ دھیان رکھنا چاہئیے کہ آس پاس جو مفلس لوگ ہیں ان کی بیٹیوں کی شادیاں کیسے ہوں۔
    حاجی مصدق کے مطابق سال 2014 میں سیلاب کے دوران انھوں نے کئی ایسی لڑکیاں دیکھی جن کی شادی کا پورا سامان سیلاب کی نذر ہوا اور اس صورتحال نے انھیں جھنجھوڑ دیا اور یہ سلسلہ انھوں نے شروع کیا۔ اُنکے مطابق کووڈ کے چلتے پچھلے دو سال سے وہ یہ اجتماعی شادیاں نہیں کراسکے لیکن اب اس پروگرام کے ساتھ انھوں نے دوبارہ اپنا یہ سلسلہ بحال کیا اور مستقبل میں کئی ایسے پروگرام منعقد کئے جائیں گے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: