ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: نئے بزنس رولز کےتحت ایل جی کے پاس رہیں گے اہم اور زیادہ اختیارات، مچ گیا سیاسی گھمسان

جموں وکشمیر میں نئے بزنس رولز کے تحت یو ٹی کے ایل جی کے پاس نہ صرف زیادہ اختیارات ہوں گے، بلکہ امور داخلہ اور آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کے تبادلے اور تقرری کا اختیار بھی لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہی رہے گا۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: نئے بزنس رولز کےتحت ایل جی کے پاس رہیں گے اہم اور زیادہ اختیارات، مچ گیا سیاسی گھمسان
جموں وکشمیر: نئے بزنس رولز کےتحت لیفٹننٹ گورنر کے پاس رہیں گے اہم اور زیادہ اختیارات

جموں و کشمیر یو ٹی کے لئے مرکز کی جانب سے نئے بزنس رولز جاری کرنے کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ان نئے بزنس رولز کے حوالے سے نوٹفیکیشن جاری کرنے کے بعد یوٹی میں ایک سیاسی طوفان مچ گیا ہے۔ واضح رہے کہ نئے بزنس رولز کے تحت یو ٹی کے ایل جی کے پاس نہ صرف زیادہ اختیارات ہوں گے، بلکہ امور داخلہ  IPS اور IAS افسران کے تبادلے اور تقرری کا اختیار بھی ایل جی کے پاس ہی رہے گا۔ یہاں تک کہ انسداد رشوت خوری کے لئے بنائے گئے اداروں کا کنٹرول بھی ایل جی کے پاس ہی رہیں گے۔


نئے بزنس رولز کے تحت اگرچہ یو ٹی کے وزیر اعلیٰ کے پاس بھی کئی محکموں کا کنٹرول رہےگا۔ تاہم یہ وہ محکمے ہیں، جن کی کوئی خاص اہمیت یا افادیت نہیں ہے۔ جانکار حلقوں کے مطابق نئے بزنس رولز کے تحت ایک وزیر اعلی ایک پولیس اہلکار کا تبادلہ بھی عمل میں نہیں لا سکےگا۔ کل ملا کر نئے بزنس رولز کے تحت ایل جی یو ٹی کا مختار کُل ہوگا جب کہ ایک اختیارات کے معاملے میں  وزیر اعلی کو ایک کونسلر کے درجے تک پہچایا گیا ہے۔ دوسری جانب نئے بزنس رولز کو لے کر اپوزیشن جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔


نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر جموں دویندر سنگھ رانا کا کہنا ہے کہ نئے بزنس رولزکو لیکر انہیں کوئی تعجب نہیں ہے۔ دویندر سنگھ رانا کا کہنا تھا کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے دوران ہی یہ واضح ہوگیا تھا کہ بی جے پی جموں کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کو لے کرسنجیدہ نہیں ہے۔ دویندر سنگھ رانا کے مطابق ایک جانب بی جے پی ریاست کا درجہ بحال کرنے کو لے کر بہت زیادہ باتیں کرتی ہے، مگر دوسری جانب ایسے بزنس رولز بنا کر یوٹی کے وزیر اعلیٰ کو ایک کٹھ پتلی بنا کر رکھ رہی ہے۔ دویندر سنگھ رانا کے مطابق نئے بزنس رولز کے تحت ایک وزیر اعلی کی حثیت ایک میونسپل کونسلر جیسی ہوگی۔ دویندر سنگھ رانا کا مزید کہنا تھا کہ نئے بزنس رولز کو سامنے لا کر یہی لگتا ہےکہ مرکزی حکومت کو جموں وکشمیر یو ٹی کو ریاست کا درجہ دینے کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں ہے۔ دویندر سنگھ رانا کے مطابق اگرچہ وزیر اعظم نے 15 اگست کو لال قلعہ سے یہ کہا تھا کہ یوٹی کو ریاست کا درجہ دوبارہ دیا جائےگا، لیکن نئے بزنس رولز کو سامنے لانےکے بعد یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اعلان بھی صرف ایک کھوکھلا دعوی تھا۔


دویندر سنگھ رانا کا مزید کہنا تھا کہ بی جے پی نئی حد بندی جلد از جلد مکمل کرکے یہاں اپنا وزیر اعلی بٹھانا چاہتی ہے۔  دویندر سنگھ رانا نے اس سارے عمل کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اسے جمہوریت کا قتل قرار دیا۔ دوسری جانب کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر رمن بھلا کا کہنا تھا کہ نئے بزنس رول جمہوریت کے نام پر ایک مذاق ہے۔ رمن بھلا کے مطابق یہاں جموں وکشمیر ایک گلدستے کے مانند تھا۔ اس کی اپنی ایک شناخت تھی اور یہ خطوں پر مشتمل ہونے کے باوجود بھی آپسی بھائی چارے اور میل ملاپ کے لئے جانا جاتا تھا۔ تاہم دفعہ 370 ہٹانے کے بعد ریاست کا درجہ چھین لینا بی جے پی کے منشور میں نہیں تھا۔ رمن بھلا کے مطابق وزیر اعظم سے لے کر دوسرے پارٹی لیڈران اگرچہ آئے روز ریاست کے درجے کی بحالی کو لے کر باتیں کرتے ہیں، لیکن دوسری جانب نئے بزنس رولز کی آڑ میں وزیر اعلی کے اختیارات کو کم کرکے ایک مذاق بنایا جارہا ہے۔

جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری کا بھی کہنا تھا کہ نئے بزنس رولزکے تحت نا ہی وزیر اعلی کے پاس کوئی اختیار ہوگا اور خاص کر یہاں کی اسمبلی کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ الطاف بخاری کا مطابق 370 کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ تاہم الطاف بخاری کا کہنا تھا کہ وہ روز اول سے ہی ریاست کے درجے کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں اور مطالبہ کرتے رہیں گے۔ الطاف بخاری کا مزید کہنا تھا کہ عوام کی رسائی بیورو کریسی تک نہیں ہے اور مرکزکو چاہئےکہ وہ ریاست کا درجہ فوری طور پر بحال کرے۔ تاکہ یہاں ایک مضبوط اور با اختیار اسمبلی پھر سے بنے۔ دوسری جانب نئے بزنس رولز کو لےکر پی ڈی پی کا کہنا تھا کہ  بی جے پی دوغلی پالیسی اپنا رہی ہے اور اس کو جموں وکشمیر کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ بلکہ بی جے پی اپنے اقتدار کے لئے یہ سب کچھ کر رہی ہے۔

پینتھرس پارٹی کے صدر پروفیسر بھیم سنگھ نے بھی بزنس رولز کو ایک مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کی اپنی ایک ایک اہمیت وآئینی افادیت ہوتی ہے اگرچہ جموں کشمیر یوٹی کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کو لے کر بی جے پی کے اندر سے بھی آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ تاہم پارٹی کے اکثر لیڈران اس معاملے پر کھل کر بات نہیں کرتے جبکہ یو ٹی میں پارٹی کے صدر رویندر رینا کا کہنا تھا کہ تمام تو یوٹی میں نظم و نسق چلانےکےلئے اسی طرح بزنس رولز بنائے جاتے ہیں اور مرکزی حکومت نے تمام تر پہلووں کو دھیان میں رکھ کر ہی یہ بزنس رول ترتیب دیئے ہوں گے جبکہ بی جے پی کے سابق نائب وزیر اعلی کویندر گپتا اس مسلے پر بڑی بیباکی سے کام لے کر کہہ رہے ہیں کہ جموں و کشمیر یو ٹی کو ریاست کا درجہ فوراً واپس ملنا چاہئے کیونکہ یہ تمام لوگوں کا مطالبہہے۔ اس طرح نئے بزنس رولزکو لے کر یوٹی میں اس وقت بیان بازی کا دور پھر شروع ہوا ہے اور نئے اختیارات کو لے کر سیاسی حلقوں میں ایک کھلبلی سی مچ گئی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 06, 2020 10:28 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading