உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and kashmir: جموں و کشمیر کے لیے یکساں تعلیمی کیلنڈرکا آغاز، کہیں مخالفت تو کہیں حمایت

    دریں اثنا تعلیمی ماہرین نے بھی اس فیصلے کو طلبہ کے مستقبل کے لیے غلط قرار دیا۔

    دریں اثنا تعلیمی ماہرین نے بھی اس فیصلے کو طلبہ کے مستقبل کے لیے غلط قرار دیا۔

    Jammu and kashmir: دوسری جانب پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے صدر جی این وار نے اس فیصلے کو نامکمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے فیصلہ سنایا ہے لیکن جن لوگوں نے فیصلے پر عمل درآمد کرنا ہے انہیں کمیٹی میں نہیں رکھا گیا

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammalamadugu | Jammu | Delhi | Hyderabad | Mumbai
    • Share this:
    ملک کے دیگر حصوں کی طرح اب کشمیر میں بھی دسویں اور بارہوں جماعت کے امتحانات مارچ میں منعقد ہوں گے۔ اس سلسلے میں جموں و کشمیر انتظامیہ نے یکساں تعلیمی کیلنڈر کا حکم جاری کیا ہے۔ حالانکہ یہ امتحانات کشمیر میں پہلے اکتوبر اور نومبر میں ہوتے تھے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن نے بدھ کو ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اپریل میں اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور کمیٹی کی سفارشات کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا کہ بورڈ کے امتحانات کشمیر میں بھی مارچ میں منعقد کیے جائیں گے۔

    تاہم حکومت نے نویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے۔ اس حوالے سے کئی سوالات ہیں۔ ایک طرف ماہرین تعلیم اسے غلط فیصلہ قرار دے رہے ہیں تو دوسری جانب پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سروس پرووائیڈرز کو آن بورڈ نہیں لیا گیا۔

    نیوز 18 نے کچھ طلبہ سے بات کی اور نئے آرڈر پر ان کی رائے حاصل کی۔ دسویں جماعت کے طلبہ اس فیصلے سے مطمئن نظر آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب انہیں امتحانات کی تیاری کے لیے کافی وقت مل جائے گا اور جو لوگ امتحانات کے بعد سردیوں میں گھر بیٹھتے تھے اب اس دوران امتحانات کی تیاری کریں گے۔

    ایک طالب علم نے کہا کہ یہ کافی اچھا فیصلہ ہے اور اب ہم امتحانات کی اچھی تیاری کریں گے، حالانکہ سردیوں میں ہم گھر پر بیٹھ کر نتائج کا انتظار کرتے تھے اور اب ایسا نہیں ہوگا۔ دستیوں جماعت کے طالب علم مزمل کہتے ہیں۔ ہم مارچ میں امتحان دیں گے اور سردیوں میں اچھی تیاری کریں گے۔‘‘ وہیں بارہویں جماعت کے طلبہ نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے ہدف یہ ہے کہ بارہویں کے بعد وہ نیٹ (NEET) اور دیگر داخلہ کورسیس میں امتحانات کی تیاری کرتے تھے، لیکن اب ہمیں داخلہ امتحانات کی تیاری کے لیے کم وقت ملے گا۔

    دریں اثنا تعلیمی ماہرین نے بھی اس فیصلے کو طلبہ کے مستقبل کے لیے غلط قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر طلبہ مارچ میں امتحان دیتے ہیں تو وہ پورا سال گھر بیٹھے رہیں گے، کیونکہ کشمیر میں سخت سردی ہے اور تین ماہ تک سب گھر پر ہی رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب طلبہ مارچ میں امتحان دیں گے اور پھر وہ جون تک گھر پر دوبارہ نتائج کا انتظار کریں گے، تو وہ کب پڑھیں گے؟ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ پر کوئی برا اثر نہیں پڑا۔

    جب نیوز 18 نے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے پرنسپل سکریٹری برائے حکومت آلوک کمار سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بچوں کے روشن مستقبل کے لیے لیا گیا ہے۔ یکسانیت ہوگی اور امتحانات ایک ساتھ ہوں گے، طلبہ کو وقت بھی ملے گا اور ساتھ ہی ٹسٹ میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کو دو سو دن سے زائد کلاس روم اسٹڈیز کے لیے بھی وقت ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ موسم سرما میں بچوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے تعلیم دی جائے گی کیونکہ کووڈ کے دوران ہر ایک کو ڈیجیٹل طور پر تربیت دی گئی ہے۔ جب ان سے لوگوں کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ جو لوگ حکومت کے فیصلوں سے خوش نہیں ہیں وہ مخالفت کریں گے اور ایسا کرنا ان کا کام ہے اور اگر وہ اپنے بچوں کے صحیح مستقبل کا سوچیں گے۔ وہ مخالفت نہیں کریں گے۔

    یہ بھی پڑھیں: 

    Swiggy, Zomato جیسے ایپ سے آن لائن کھانا منگانا 60 فیصد تک مہنگا؟ سروے سے بڑا انکشاف

    یہ بھی پڑھیں: 

    مرد اس خاتون کو گڑیا کے طور پر سمجھتے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں نہیں رکھنا چاہتا کوئی رشتہ، جانئے پورا ماجرا

    دوسری جانب پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے صدر جی این وار نے اس فیصلے کو نامکمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے فیصلہ سنایا ہے لیکن جن لوگوں نے فیصلے پر عمل درآمد کرنا ہے انہیں کمیٹی میں نہیں رکھا گیا، مارچ کے اجلاس میں کشمیر میں موسم کی خرابی کی وجہ سے کافی پریشانی ہوگی۔ چونکہ بجلی اور دیگر سہولیات کی کمی ہوگی اس لیے حکومت کو اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لینا چاہیے تھا تاکہ ایک اچھا فیصلہ لیا جا سکتا۔
    Published by:Mohammad Rahman Pasha
    First published: