உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مرکزی وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر میںVillage defence committees کو دوبارہ بحال کئے جانے کا دیا حکم

    Village defence committees: ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قدم سے جموں و کشمیر کے اندر نہ صرف دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے در اندازی کی کوششوں کو بروقت ناکام بنایا جاسکتا ہے۔

    Village defence committees: ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قدم سے جموں و کشمیر کے اندر نہ صرف دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے در اندازی کی کوششوں کو بروقت ناکام بنایا جاسکتا ہے۔

    Village defence committees: ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قدم سے جموں و کشمیر کے اندر نہ صرف دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے در اندازی کی کوششوں کو بروقت ناکام بنایا جاسکتا ہے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے جموں و کشمیر میں ولیج ڈفینس کمیٹیوں کو دوبارہ بحال کئے جانے کے فیصلے کا سلامتی امور سے متعلق ماہرین نے خیر مقدم کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قدم سے جموں و کشمیر کے اندر نہ صرف دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے در اندازی کی کوششوں کو بروقت ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ جموں و کشمیر کے سابق ڈی جی پی ایس پی وید نے مرکزی سرکار کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ خصوصی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس قدم سے دہشت گرد مخالف گرڈ کو مزید مظبوطی حاصل ہوگی۔ ایس پی وید نے کہا، مرکزی وزارت داخلہ کا یہ فیصلہ کافی اہم ہے کیونکہ ولیج ڈفینس کمیٹیوں کو مظبوط بنانے کا مقصد دہشت گرد مخالف گرڈ کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ ولیج ڈفینس کمیٹیوں نے ماضی میں بھی جموں و کشمیر بالخصوص جموں خطے کے چناب وادی ، اودھمپور،راجوری اور پونچھ اضلاع کے پہاڈی علاقوں میں دہشت گردی ختم کرنے میں ایک اہم رول نبھایا ہے۔ وی ڈی سی ممبران نے جموں کے میدانی علاقوں آر ایس پورہ، کٹھوعہ اور سانبہ میں دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے میں بھی کافی اہم رول ادا کیا ہے۔ لہذا ان کمیٹیوں کو مزید مظبوط بنانے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے قابل ستائش قدم ہے۔

    اس سوال کے جواب میں کہ کچھ غیر بی جے پی سیاسی پارٹیوں کا الزام ہے کہ اگر سرکار یہ دعوی کر رہی ہے کہ جموں و کشمیر میں حالات میں بہتری آئی ہے تو پھر وی ڈی سی کو دوبارہ فعال بنانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی، ایس پی وید نے کہا: پاکستان کبھی بھی اپنی ناپاک حرکتوں سے باز نہیں آئے گا اگر حالات بہتر ہوئے ہیں تو اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان مستقبل میں کوئی خُرافات نہیں کرے گا۔ لہذا وی ڈی سی ایز کو فعال بنانا دہشت گردی کے خلاف گرڈ کو مستحکم کرنے ، لوگوں کو اپنے علاقوں میں عوام اور اپنی حفاظت خود کرنے کے اہل بنانے نیز دراندازی کو ناکام بنانے کے لئے مواثر نظام قائیم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے: سابق ڈائیریکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ پہلی ولیج ڈفینس کمیٹی 1995 میں تشکیل دی گئی تھی جب دہشت گردوں نے اس وقت کے ضلع اودھمپور کے پہاڑی گائوں بھاگن کوٹ گائوں میں وہاں کے باشندوں پر اندھا دھُند گولیاں چلا کر عام لوگوں کو قتل کر دیا۔

    ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ وہ اسوقت اودھمپور ضلع کے ایس ایس پی عہدے پر تعینات تھے جب وہ موقع پر گئے تو لوگوں نے کہا کہ اگر انکے پاس ہتھیار ہوتے تو وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرکے دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے۔ جس کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا کہ ایسی کمیٹیاں تشکیل دی جانی چاہئے جو دور دراز علاقوں میں دہشت گردوں کا مقابلہ کر سکیں۔ سابق ڈی جی پی نے کہا کہ اسوقت کی سرکار نے یہ فیصلہ کیا کہ وی ڈی سی ایز کو ہتھیار اور تربیت فراہم کی جائے تاکہ عام لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے اور اسطرح جموں خطے کے کئی پہاڑی علاقوں میں ولیج ڈفینس کمیٹیاں قائیم کی گئیں جنہوں نے اپنے اپنے علاقوں میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر روک لگانے کے لئے مواثر کاروائی انجام دی۔

    چند سیاسی پارٹیوں کی جانب سے وی ڈی سی ایز کو دوبارہ فعال بنانے پر منفی رد عم ظاہر کئے جانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق ڈی جی پی نے کہا کہ اس معاملے پر سیاست کرنے سے گریز کیا جانا چاہئیے کیونکہ یہ ملک کی سلامتی اور عام لوگوں کی حفاظت سے جُڑا ہوا معاملہ ہے۔ واضح رہے کہ مرکزی سرکار نے ولیج ڈفینس کمیٹیوں کو ولیج ڈفینس گارڈ کے نام کے تحت دوبارہ فعال بنانے کا فیصلہ لیا ہے اور اسبارے میں باظابطہ حُکمنامہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

     
    Published by:Sana Naeem
    First published: