உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر موضوع پر محبوبہ مفتی کو مرکزی وزیر کا جواب، جتیندر سنگھ نے پوچھا- دہشت گردی کے درمیان بات چیت کیسے ممکن

    Union Minister Jitendra Singh reacts on Mehbooba mufti: جموں وکشمیر کے موضوع سے متعلق پاکستان اور وادی کے لوگوں سے بات چیت کی پیروی کرنے والی محبوبہ مفتی کو بی جے پی نے جواب دیا ہے۔ مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کیا بی جے پی اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ بات کرے گی یا کسی اور ملک کے ساتھ؟ دہشت گردی کے درمیان بات چیت ممکن نہیں ہوسکتا۔

    Union Minister Jitendra Singh reacts on Mehbooba mufti: جموں وکشمیر کے موضوع سے متعلق پاکستان اور وادی کے لوگوں سے بات چیت کی پیروی کرنے والی محبوبہ مفتی کو بی جے پی نے جواب دیا ہے۔ مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کیا بی جے پی اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ بات کرے گی یا کسی اور ملک کے ساتھ؟ دہشت گردی کے درمیان بات چیت ممکن نہیں ہوسکتا۔

    Union Minister Jitendra Singh reacts on Mehbooba mufti: جموں وکشمیر کے موضوع سے متعلق پاکستان اور وادی کے لوگوں سے بات چیت کی پیروی کرنے والی محبوبہ مفتی کو بی جے پی نے جواب دیا ہے۔ مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کیا بی جے پی اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ بات کرے گی یا کسی اور ملک کے ساتھ؟ دہشت گردی کے درمیان بات چیت ممکن نہیں ہوسکتا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: جموں وکشمیر کے موضوع (Jammu-Kashmir Issue) پر پاکستان اور وادی کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کی پیروی سے متعلق محبوبہ مفتی (Mehbooba Mufti) پر بی جے پی نے تنقید کی ہے۔ پی ڈی پی سربراہ کے اس بیان پر مرکزی وزیر جتیندر سنگھ (Union Minister Jitendra Singh) نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا بی جے پی اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ بات کرے گی یا کسی اور ملک کے ساتھ؟ دراصل ہفتہ کے روز محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ کشمیر وادی میں تب تک امن قائم نہیں ہوگا، جب تک کہ ہندوستانی حکومت پاکستان اور وادی کے لوگوں کے ساتھ بات چیت نہیں کرتی۔

      پی ڈی پی سربراہ کے بیان پر مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا بی جے پی اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ بات کرے گی یا کسی اور ملک کے ساتھ؟
      پی ڈی پی سربراہ کے بیان پر مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا بی جے پی اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ بات کرے گی یا کسی اور ملک کے ساتھ؟


      نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مرکزی حکومت اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ بات کرے گی یا دوسرے ملک کے ساتھ۔ ویسے دوطرفہ بات چیت کا نوٹس لینے کا اختیار وزارت خارجہ کو ہے، لیکن جب تک وادی میں گولی اور گولہ باری نہیں رکے گی تب وہ بات چیت نہیں ہوسکتی ہے۔ کیونکہ دہشت گردانہ دھماکوں کی آواز میں بات چیت کمزور پڑ جاتی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Jammu and Kashmir کے بڈگام میں دہشت گردانہ حملہ، ایس پی او کا گولی مار کر قتل

      وہیں محبوبہ مفتی کے بیان پر شیو سینا نے تنقید کی تھی۔ تاہم پارٹی رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے محبوبہ مفتی کے ساتھ ساتھ بی جے پی کو بھی گھیرا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی سربراہ آج جو بھی بول رہی ہیں، اس کے لئے بی جے پی بھی ذمہ دار ہے۔ کیونکہ انہوں نے پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کرکے جموں وکشمیر میں حکومت چلائی ہے۔

      پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی حکومت سے پاکستان اور جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کی اپیل دوہراتے ہوئے ہفتہ کے روز کہا کہ جب تک کشمیر موضوع حل نہیں ہوگا، تب تک امن وامان نہیں قائم ہوگی۔ کشمیر گزشتہ 70 سالوں سے حل کا انتظار کر رہا ہے۔ جب تک کشمیر موضوع حل نہیں ہوجاتے، تب تک اس علاقے میں امن نہیں قائم ہوگا اور اس کے لئے پاکستان اور جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت ضروری ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: