உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عوامی رابطہ مہم کے تحت مرکزی وزرا کی جموں و کشمیر میں آمد کا سلسلہ جاری، جانئے کیا ہے مقصد

    عوامی رابطہ مہم کے تحت مرکزی وزرا کی جموں و کشمیر میں آمد کا سلسلہ جاری، جانئے کیا ہے مقصد

    عوامی رابطہ مہم کے تحت مرکزی وزرا کی جموں و کشمیر میں آمد کا سلسلہ جاری، جانئے کیا ہے مقصد

    Jammu and Kashmir News : عوامی رابطہ مہم کا دوسرا مرحلہ شروع ہوچکا ہے اور گزشتہ کئی دنوں میں کئی مرکزی وزراء نے جموں وکشمیر بالخصوص کشمیر وادی کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے پنچایتی راج اداروں کے نمائندوں اور عام لوگوں سے گفت وشنید کی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    جموں وکشمیر میں مرکز کی طرف سے چلائی جارہی مختلف فلاحی اسکیموں کی بنیادی سطح پر عمل آوری اور عوام کو درپیش مشکلات کا بر سر موقع جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے کابینی ساتھیوں کو ہدایت دی کہ جموں وکشمیر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے بنیادی سطح پر ترقی کو یقینی بنانے کے لیے لوگوں کی رائے جاننے کی کوشش کریں ۔ عوامی رابطہ مہم کا دوسرا مرحلہ شروع ہوچکا ہے اور گزشتہ کئی دنوں میں کئی مرکزی وزراء نے جموں وکشمیر بالخصوص کشمیر وادی کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے پنچایتی راج اداروں کے نمائندوں اور عام لوگوں سے گفت وشنید کی۔ نو ہفتے تک جاری رہنے والی اس عوامی رابطہ مہم کے تحت ستر مرکزی وزراء جموں وکشمیر کادورہ کریں گے تاکہ یہاں ترقی کا ایک نیا باب شروع کیا جائے۔

    وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت پر جاری اس عوامی رابطہ مہم کے بارے میں جموں وکشمیر کی مختلف سیاسی پارٹیوں نے علاحدہ علاحدہ در عمل ظاہر کیا ہے۔ جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید الطاف بخاری نے وزیر اعظم مودی کی طرف سے اٹھائے گئے اس قدم کا خیر مقدم کیا۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا کہ مرکزی وزراء کی طرف سے جموں وکشمیر کے دور دراز علاقوں میں دورے کرنے سے بنیادی سطح پر عام لوگوں کو درپیش دشواریوں اور مسائل کا برسر موقع جائزہ لینے اور ان کا حل تلاش کرنے کے اس اقدام کا جموں و کشمیر کے عوام کافی دیر سے منتظر تھے ۔ الطاف بخاری نے تاہم کہا کہ اس قدم سے جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ انتظامیہ کے افسران عام لوگوں کی شکایتوں کا ازالہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزراء کے یہ دورے عوام کو درپیش مشکلات کا حل ڈھونڈ نکالنے میں ثمر آور ثابت ہوں گے ۔

    جموں وکشمیر کانگریس کے صدر جی اے میر کا کہنا ہے کہ مرکزی وزراء کے یہ دورے محض سیاسی فوائد حاصل کرنے کی بی جے پی کی یہ کوشش ہے۔ انہوں نے اس عمل کو مشن یوپی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اترپردیش میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے مدنظر وزراء کو جموں وکشمیر کے دورے پر بھیج رہی ہے۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے جی اے میر نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ اس کے پاس لوگوں کو دکھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے ، لہذا وہ جموں و کشمیر کا سہارا لیکر اتر پردیش میں الیکشن جیتنے کی تگ ودو میں ہے۔ میر نے کہا کہ فی الوقت مرکز اور جموں وکشمیر میں بی جے پی ہی سرکار چلا رہی ہے لہذا اسے جموں وکشمیر کی ترقی کے لیے از خود کام کرنے کی زمہ داری ہے ۔

    میر نے بی جے پی سے سوال کیا کہ کیا مرکزی وزراء نئی دہلی میں رہ کر جموں وکشمیر میں بنیادی سطح پر لوگوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں جانکاری نہیں حاصل کرپاتے۔ میر نے کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ وزراء جموں وکشمیر کے اپنے دوروں پر کروڑوں روپے صرف کرنے کی بجائے نئی دہلی سے ہی یہ کام انجام دے دیتے ۔ تاکہ ان دوروں پر صرف ہونے والی رقومات عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کی جاتیں۔ جی اے میر نے کہا کہ مرکز کو گزشتہ سال اسی طرح کی عوامی رابطہ مہم کے تحت وزراء کی جانب سے پہلے دورے کے دوران لوگوں کی طرف سے اٹھائے گئے عوامی بہبود سے متعلق معاملات اور ان کے ازالے کے لئے کئے گئے اقدامات کی جانکاری عوام کو فراہم کرنی چاہئے ۔ تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ آیا اس طرح کے دوروں سے عوام کو کیا فائدہ ملا ہے ۔

    جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ ریٹائرڈ جسٹس حسنین مسعودی نے اس عوامی رابطہ عمل کے بارے میں رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں ترقی کی رفتار کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر ٹھوس اور مثبت اقدامات کرنا لازمی ہے ۔ تاکہ یہاں امن کی بحالی اور ترقی ممکن ہوسکے۔ نیوز18 اردو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جسٹس حسنین مسعودی نے کہا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن بحال کرنے کی سمت میں اقدامات سے ہی ایسے فیصلے فائدہ مند ثابت ہوں گے ۔ ریٹائرڈ جسٹس حسنین مسعودی نے دعویٰ کیا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن منسوخ کرنے کے بعد یوٹی میں حالات مزید بگڑ گئے ہیں اور جموں وکشمیر میں آئے دن ملی ٹینسی کی وارداتیں رونما ہورہی ہیں ۔ جب اس نمائندے نے حسنین مسعودی سے پوچھا کہ کیا دفعہ تین سو ستر اور پینتیس اے کے باوجود جموں وکشمیر میں ملی ٹینسی کے واقعات پیش نہیں آتے تھے ؟ جسٹس مسعودی نے کہا کہ مین اسٹریم جماعتیں اس وقت ریاست کی خصوصی پوزیشن اور اختیارات کا ذکر کرکے جموں وکشمیر میں امن قائم کرنے کی کوششیں کرتی تھیں ۔ تاہم خصوصی پوزیشن ختم ہوجانے کے بعد اب یہاں کی سیاسی جماعتوں کے پاس جموں وکشمیر میں ملی ٹینسی کو قابو کرنے کے لیے عوام کو بتانے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا ہے ، جس کی وجہ سے ملی ٹینسی کے واقعات اب بھی جاری ہیں ۔

    بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر کا کہنا ہے کہ اس رابطہ مہم کا مقصد سرکار کو عوام کی دہلیز پر لانا ہے ۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے الطاف ٹھاکر نے کہ اس مہم کے دوران مرکز کی طرف سے چلائی جارہی مختلف ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لیا جارہا ہے اور کئی نئے ترقیاتی پروجیکٹوں کا آغازکیا جاتا ہے۔ تاکہ جموں وکشمیر میں ترقی کو ممکن بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وزراء اپنے دوروں کے دوران موقع پر ہی عوامی شکایات کا ازالہ بھی کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سال دو ہزار بیس میں جنوری ماہ کے دوران چھتیس مرکزی وزراء نے عوامی رابطہ مہم کے پہلے مرحلے کے تحت جموں وکشمیر کا دورہ کیا تھا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: