உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں حجاب پر تنازعہ، محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ بولے ہماری لڑکیاں اپنی مرضی کا لباس پہننے کا حق نہیں چھوڑیں گی

    عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ کیا اس اسکول کو یہ خیال کرناٹک میں حجاب پر پابندی کے بعد سمجھ میں آیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ملک میں بی جے پی کو مسلمانوں کی ہر چیز سے پریشانی ہے۔ وہ کھانے، پینے سے لیکر پہناوے پر صرف مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ کیا اس اسکول کو یہ خیال کرناٹک میں حجاب پر پابندی کے بعد سمجھ میں آیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ملک میں بی جے پی کو مسلمانوں کی ہر چیز سے پریشانی ہے۔ وہ کھانے، پینے سے لیکر پہناوے پر صرف مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ کیا اس اسکول کو یہ خیال کرناٹک میں حجاب پر پابندی کے بعد سمجھ میں آیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ملک میں بی جے پی کو مسلمانوں کی ہر چیز سے پریشانی ہے۔ وہ کھانے، پینے سے لیکر پہناوے پر صرف مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    • Share this:
    jammu and kashmir: کشمیر میں بھی اب حجاب کو لیکر تنازعہ چھڑ گیا۔ شمالی کشمیر کے بارہمولہ علاقے میں واقع ڈیگر پریوار اسکول کی پرنسپل کی طرف سے کل ایک سرکیولر جاری کیا گیا جس میں اساتذہ کو حجاب پہننے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ اسکول اسپیشل بچوں کا اسکول ہے۔ پرنسپل کی جانب سے جاری اس سرکیولر میں بتایا گیا تھا کہ کلاس میں ان اسپیشل بچوں کے ساتھ اساتذہ کا اچھا تعلق بنے اور بچوں کو کوئی ہچکچاہٹ نہ ہو اس غرض سے کلاس میں حجاب نہ پہنا جائے ۔  وہیں اب اس معاملے پر وضاحت پیش کی گئی ہے کہ  حجاب کی جگہ اساتذہ کو کلاس کے دوران نقاب ہٹانے کے لئے کہا تاکہ اسپیشل بچے انھیں ٹھیک سے سمجھ سکیں۔ ترمیم شدہ سرکیولر میں صاف کردیا گیا ہے کہ یہ سرکیولر اس غرض سے جاری کیا گیا ہے کہ جسمانی طور پر ناخیز بچے اشارات اور چہرے کے تاثرات سے اچھی طرح سیکھ سکیں۔

    ادھر اس معاملہ پر پہلے ہی سوشل میڈیا پر تبصرے ہونے لگے اور اب سیاسی لیڈر اس سرکیولر پر سخت ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ پہلے جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی (Mehbooba Mufti) نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر سخت بیان جاری کیا۔ انھوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وہ اس فرمان کی مذمت کرتی ہیں۔ محبوبہ نے لکھا ۔ کہ "جموں کشمیر میں بھلے ہی بی جے پی کی حکومت ہو لیکن یہ ملک کی دیگر ریاست کی طرح بالکل نہیں۔ جہاں وہ اقلیتی طبقے کے گھر توڑ دیں گے۔ ہماری لڑکیاں اپنی مرضی کا لباس پہننے کا حق نہیں چھوڑیں گی۔"

    محبوبہ مفتی کے بیان کے کچھ گھنٹے بعد ہی سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے بھی اس معاملہ پر اسکول انتظامیہ اور حکومت کو گھیر لیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ سب اس ملک کو مشکلات میں ڈال دے گا۔ عمر عبداللہ نے سرینگر میں میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ بی جے پی اب کرناٹک کے بعد کشمیر میں لوگوں کے کھانے، پینے اور پہننے کے انکے حقوق پر شب خون مار کر ملک میں اپنی سیاست کی دکان چمکا رہی ہے۔


    عمر عبداللہ (Omar Abdullah) سے جب پوچھا گیا کہ تنازعہ میں گھری اسکول انتظامیہ اسے بچوں کی آسائش کے ساتھ جوڑ رہی تو عمر نے سخت لہجے میں کہا کہ ایسا کرناٹک کے واقعات کے بعد ہی کیوں کوریا ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا اس اسکول کو یہ خیال کرناٹک میں حجاب پر پابندی کے بعد سمجھ میں آیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ملک میں بی جے پی BJP کو مسلمانوں کی ہر چیز سے پریشانی ہے۔ وہ کھانے، پینے سے لیکر پہناوے پر صرف مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں: حجاب کے بہانے القاعدہ سرغنہ ایمن الظواہری نے اگلا زہر، 'اللہ اکبر' کا نعرہ لگانے والی مسکان خان کو بتایا بہن، ویڈیو جاری کرکے پڑھی کویتا


    مزید پڑھئے:  Virat Kohli کی خراب پرفارمنس کو سدھارنے کیلئے روی شاستری بولے، IPL سے ہٹ جاؤ

    عمر عبداللہ نے کیا کہ یہ وہ سیکولر ہندوستان اب نہیں رہا جس کے ساتھ جموں کشمیر کے عوام نے جڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کہا جارہا ہے کہ تنازعہ میں گھیرا ڈیگر پریوار اسکول آرمی کی مدد سے ایک غیر مقامی این جی او چلا رہی ہے۔ اسکول انتظامیہ پر یہ سرکیولر واپس لینے پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور امکان ہے کہ وہ اس سرکیولر کو واپس لیں گے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: