உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: خصوصی پوزیشن کا درجہ منسوخ کئے جانے کے تین سال مکمل، حکومت نے کیا یہ بڑا دعویٰ

    جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو منسوخ کئے جانے کے آج پورے تین سال مکمل ہوچکے ہیں اور سرکار کے مطابق جموں و کشمیر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے۔

    جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو منسوخ کئے جانے کے آج پورے تین سال مکمل ہوچکے ہیں اور سرکار کے مطابق جموں و کشمیر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے۔

    جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو منسوخ کئے جانے کے آج پورے تین سال مکمل ہوچکے ہیں اور سرکار کے مطابق جموں و کشمیر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے۔

    • Share this:
    سری نگر: جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو منسوخ کئے جانے کے آج پورے تین سال مکمل ہوچکے ہیں اور سرکار کے مطابق جموں و کشمیر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے۔ دفعہ 370 کو ختم کئے جانے کے وقت حکومت نے پارلیمنٹ میں یہ بات کہی تھی کہ اس دفعہ کو ختم کئے جانے کے بعد جہاں جموں و کشمیرکی مجموعی ترقی کو یقینی بنانے کے راستے کھُلیں گے۔ وہیں جموں وکشمیر میں بیرونی سرمایہ کاری کی وساطت سے صنعتی پھیلاو ممکن ہوپائے گا۔

    پانچ اگست 2019 کو جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کئے جانے کے بعد مرکزی حکومت نہ یہ واضح کیا کہ جموں وکشمیر کی مجموعی ترقی کے ساتھ ساتھ خطے میں صنعتی پھیلاو کی طرف خصوصی توجع مرکوز کی جارہی ہے تاکہ یہاں بے روزگار نوجوانوں کے لئے روزگار کے وسائل مہیا کرائے جائیں۔

    جموں وکشمیر یوٹی کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا تھا کہ صنعتوں کو وسعت دینے کے لئے پچپچپن کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہوگی، جس سے یہاں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور اس ضمن میں پہلے ہی حکومت نے مختلف اقدامات کئے ہیں۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ ان تین برسوں کے دوران بیرونی سرمایہ کاروں کو جموں وکشمیر میں سرمایہ کاری کرنے کی طرف راغب کرنے کی حکومت نے کافی کوششیں کیں اور ملک اور بیرون ملک کئی پروگراموں کا انعقاد کرکے سرمایہ کاروں کو جموں و کشمیر میں سرمایہ لگانے کی طرف راغب کرنے میں سرکار کامیاب بھی رہی اور انہی سرکاری کوششوں کی بدولت یہاں اربوں روپئے کی سرمایہ کاری بھی ہوئی اور اس وقت جموں وکشمیر کے مختلف علاقوں میں کئی ترقیاتی پروجیکٹوں پر کام جاری ہے۔ اب تین سال گزرنے کے بعد حال ہی میں منوج سنہا نے کہا کہ جاری سرمایہ کاری سے سات لاکھ نوکریاں دستیاب ہونے جارہی ہیں۔

    جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریزکے عہدیداران بھی یہ مانتے ہیں کہ  حکومت نے ایسے کچھ اقدامات کئے ہیں، جس سے جموں وکشمیر میں صنعتوں کی ترقی کو یقینی بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی تک جموں وکشمیر میں آئی نئی سرمایہ کاری سے کافی حد تک روزگار بڑھا ہے تاہم یہاں بے روزگاری اتنی زیادہ ہے کہ اس کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس وقت یو ٹی میں بے روزگاری کی شرح بیس اعشاریہ دو فیصد پہنچ گئی ہے، جو ملک کی دوسری بڑی بے روزگاری شرح بتائی جارہی ہے اور یہ حکومت کے لئے ایک بڑا چلینج بن گیا ہے۔ روزافزوں یو ٹی کے مختلف مقامات پر بے روزگار نوجوان احتجاجی دھرنوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ پہلے ہی چند محکموں میں بھرتی کے لئے جاری کئے گئے امیدواروں کے سلیکشن فہرست بھی منسوخ کئے جانے سے بے روزگار نوجوانوں میں تشویش کی لہردوڑ گئی ہے اور احتجاجی امیدوار اسے ان کے ساتھ دھوکہ کئے جانے سے تعبیر کر رہے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    Jammu and Kashmir: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے 3 سال مکمل ہونے پر اپوزیشن نے مودی حکومت کو گھیرا

    دوسری طرف مختلف سرکاری محکموں میں یومیہ اجرتوں پر کام کر رہے ملازمین بھی سراپا احتجاج ہیں کیونکہ ان کی نوکریاں مستقل کرنے میں بھی سرکار ابھی تک ناکام ہی رہی ہے۔ حالانکہ سرکار بارہا ایسے ملازمین کو یقین دلاتی رہی ہے کہ ان کی نوکریاں مستقل کرکے ان کے مستقبل کو تابناک بنایا جائے گا، تاہم ابھی تک اس ضمن میں کوئی ٹھوس کاروائی نہ کئے جانے کی وجہ سے ایسے لوگ بی چینی کا شکار ہیں۔ پڑھے لکھے بے روزگار نوجوان اس انتظار میں ہیں کہ کب سرکار اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے انہیں روزگار دلائے گی۔

    دوسری جانب، حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں کووڈ کی وبا کے سبب ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں بھی ترقی کو یقینی بنانے میں کچھ رُکاوٹیں پیش آئیں، تاہم سرکار بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے وسائل میسرکرنے کے لئے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرکار کئی اور سرمایہ کاری کی تجاویز کو منظور کرنے جارہی ہے، جن کی بدولت یہاں کے صنعتی سیکٹر میں نئی جان آئے گی اور روزگار کے وسائیل میں بھی کافی اضافہ ہوگا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: