உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مختلف این جی او ریلوے اسٹیشن پر کشمیر چھوڑنے پر مجبور غیر مقامی لوگوں کی خدمت میں مصروف

    واضح ہو کہ دہشت گردوں کی جانب سے کشمیر میں حالیہ دنوں غیر کشمیری مزدوروں کو نشانہ بنائے جانے سے کشمیر میں موجود ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مزدور خوف زدہ ہوچکے ہیں۔

    واضح ہو کہ دہشت گردوں کی جانب سے کشمیر میں حالیہ دنوں غیر کشمیری مزدوروں کو نشانہ بنائے جانے سے کشمیر میں موجود ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مزدور خوف زدہ ہوچکے ہیں۔

    واضح ہو کہ دہشت گردوں کی جانب سے کشمیر میں حالیہ دنوں غیر کشمیری مزدوروں کو نشانہ بنائے جانے سے کشمیر میں موجود ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مزدور خوف زدہ ہوچکے ہیں۔

    • Share this:
      ریلوے پولیس اور مختلف غیر سرکاری و سماجی اداروں نے حالیہ ٹارگیٹ کلنگ کے بعد وادی کشمیر چھوڑ کر جانے والے غیر مقامی لوگوں کے ریلوے اسٹیشن پہنچنے پر ان کے لئے کئے جانے والے انتظامات کا جائزہ لیا۔ ایک پولیس افسر نے کہا کہ ایس ایس پی جموں ریلویز عارف رشو جن کے ہمراہ ایس ڈی پی او ریلویز روہت دیو جموال اور دیگر عہدیداران تھے، نے ریلوے اسٹیشن توی کا دورہ کیا اور وہاں کشمیر سے فرار ہونے والے غیر مقامی لوگوں کے لئے کئے جانے والے انتظامات کا جائزہ لیا۔
      انہوں نے بتایا کہ کہ موصوف ایس ایس پی نے موقع پر ریلوے حکام اور سیول انتظامیہ کے افسران سے بات چیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ رضا کار گروپوں بشمول ٹریڈرس ویر ہاؤس ایسو سی ایشن اور جموں و کشمیر خلصہ ایڈ نے ان لوگوں کے طعام و دیگر سہولیات کے لئے ریلوے پولیس کا ہاتھ بٹایا۔  بتادیں کہ حالیہ غیر شہری ہلاکتوں کے بعد کشمیر سے ہزاروں کی تعداد میں غیر شہری افراد وادی کو چھوڑ کر اپنے آبائی گھر جانے کیلئے جموں ریلوے اسٹیشن اور بس ادوں پر پہنچے ہیں۔

      واضح ہو کہ دہشت گردوں کی جانب سے کشمیر میں حالیہ دنوں غیر کشمیری مزدوروں کو نشانہ بنائے جانے سے کشمیر میں موجود ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مزدور خوف زدہ ہوچکے ہیں۔ ڈر اور خوف کے ماحول میں رہ رہے سیکڑوں مزدور کشمیر سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کشمیر چھوڑ کر آنے والے سیکڑوں مزدور روزانہ جموں کے ریلوے اسٹیشن اور بس اڈے پر پہنچ رہے ہیں۔ یہاں سے وہ اپنے آبائی علاقوں کی طرف کوچ کرنے کو مجبور ہیں۔ ان مزدوروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے نہتے غیر کشمیری مزدوروں کو نشانہ بنائے جانے سے وہ خوف زدہ ہوچکے ہیں لہذا مجبوری کے عالم میں نکے پاس کشمیر سے ہجرت کرنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

      جموں کے ریلوے سٹیشن کے پاس سینکڑوں مزدور اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ کھلے آسمان کے تلے اس انتظار یں ہیں کہ کب وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔ حالات کے مارے ان مزدوروں کا کہنا ہے کہ انہیں ناکردہ گُناہوں کی سزا دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر وادی میں روزی روٹی کمانے کی غرض سے گئے تھے تاہم دہشت گردوں نے انہیں نشانہ بناکر انکے پیٹ پر لات ماردی۔ محمد عظیم انصاری نامی ایک مزدور نے نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ہلاکتوں سے وہ کافی خوف زدہ ہوگئے لہذا انہوں نے کشمیر چھوڑ کر اپنے آبائی وطن لوٹ جانے کا فیصلہ لیا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: