உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    منشیات کے خلاف رضاکارانہ طور پر نوجوانوں کی مہم، معاشرے میں نوجوانوں کو منشیات کی لت سے بچانے کی کوشش

    معاشرے میں دن بہ دن منشیات کا رجحان بڑھتا جارہاہے جس سے جرائم بھی بڑھنے لگے۔ ایسے میں جرائم کو ختم کرنے کے لیے سید علی اصغر رضوی نے نوجوانوں کے ساتھ مل کر اس مہم کے ذریعے سماج میں منشیات کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔

    معاشرے میں دن بہ دن منشیات کا رجحان بڑھتا جارہاہے جس سے جرائم بھی بڑھنے لگے۔ ایسے میں جرائم کو ختم کرنے کے لیے سید علی اصغر رضوی نے نوجوانوں کے ساتھ مل کر اس مہم کے ذریعے سماج میں منشیات کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔

    معاشرے میں دن بہ دن منشیات کا رجحان بڑھتا جارہاہے جس سے جرائم بھی بڑھنے لگے۔ ایسے میں جرائم کو ختم کرنے کے لیے سید علی اصغر رضوی نے نوجوانوں کے ساتھ مل کر اس مہم کے ذریعے سماج میں منشیات کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر میں نوجوانوں کا منشیات کی لت میں گرفتار ہونے کا روز بہ روز اضافہ دیکھنے کو ملتاہے۔ اسی معاملے کو دیکھتے ہوئے انسداد منشیات اور بھنگ کی کاشت کو جڑ سے ختم کرنے کے سلسلے میں وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے ماگام اور ملحقہ علاقوں میں معروف سماجی کارکن سید علی اصغر رضوی کی نگرانی میں رضاکارانہ طور پر نوجوانوں نے ماگام پولیس کے تعاون سے مہم شروع کی ہے۔ معاشرے میں دن بہ دن منشیات کا رجحان بڑھتا جارہاہے جس سے جرائم بھی بڑھنے لگے۔ ایسے میں جرائم کو ختم کرنے کے لیے سید علی اصغر رضوی نے نوجوانوں کے ساتھ مل کر اس مہم کے ذریعے سماج میں منشیات کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔

    اس مہم کے دوران شرکاء نے سینکڑوں کنال پربھنگ کی کاشت کو تباہ کر دیا۔سید علی اصغر رضوی نے جموں وکشمیر پولیس کے ساتھ مل کر منشیات کے خلاف آگاہی مہم شروع کی تاکہ نوجوانوں خصوصاً سکول اور کالج جانے والے طلباء میں منشیات کے استعمال کو ختم کیا جا سکے۔ سماجی کارکن سید علی اصغر رضوی نے نیوز18اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سماج میں نوجوان منشیات کی لت میں گرفتار ہورہےہیں جو معاشرے کے لئے خطرناک ثابت ہوگا۔ اس کی روک تھام کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا رول نبھانا ہوگا۔

    سید علی اصغر رضوی نے کہاکہ ماگام اور دوسرے علاقوں میں ندی نالوں کے کناروں اور دیگر مقامات پر بھنگ اگ آئی ہے جو منشیات اسمگلروں کے لیے چرس کے حصول کے آسانی ہوتی ہے۔ منشیات کی لت میں گرفتار افراد کے حرکات سے مقامی لوگوں میں خوف وہراس بھی پایاجاتاہے۔ ایسے حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے مقامی رضاکار نوجوانوں کے ساتھ یہ پہل شروع کی یہ بھنگ کی کاشت کو تباہ کیاجائے۔ ایک برزگ سماجی کارکن غلام حسن بابا نے بھی نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان نوجوانوں کی پہل قابل ستائش ہے ان کی اس پہل سے معاشرے میں کافی حد سدھار ہوگا۔

    جموں وکشمیر کے عہدیداروں نے بھی اس مہم کی ستائش کی پولیس کے جوانوں نے بھی اس مہم میں حصہ لیا۔ جموں وکشمیر میں منشیات کے بڑھتے رجحان پر قابو کرنے کی انتہائی اشد ضرورت ہے اور جو نوجوان منشیات میں ملوث ہے انہیں اس خطرناک قدم سے باز لانے کی ضرورت ہے۔تاکہ ایسے نوجوانوں کی صحت کو بچایا جاسکے اور معاشرے کی بہتر نشوونما بھی ہوگی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: