உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پی ایم مودی نے فوجی جوانوں کے ساتھ سرحد پردیوالی منانے کو لیکر کہی بڑی بات، بولے۔ یہ فوجی جوان ہمارے خاندان کا ہی ایک حصہ ہیں

    واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی گزشتہ کئی برسوں سے اسی طرح ملک کے مختلف حصوں میں سرحدوں کی حفاظت پر معمور فوجی جوانوں کے ساتھ دیوالی کا تہوار مناتے رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی گزشتہ کئی برسوں سے اسی طرح ملک کے مختلف حصوں میں سرحدوں کی حفاظت پر معمور فوجی جوانوں کے ساتھ دیوالی کا تہوار مناتے رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی گزشتہ کئی برسوں سے اسی طرح ملک کے مختلف حصوں میں سرحدوں کی حفاظت پر معمور فوجی جوانوں کے ساتھ دیوالی کا تہوار مناتے رہے ہیں۔

    • Share this:
    وزیر اعظم نریندر مودی نے چار نومبر کو جموں و کشمیر کے نوشہراہ سیکٹر میں فوجی جوانوں کے ساتھ دیوالی منائی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ان کے وہاں دیوالی منانے کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ وہ سرحدوں کی حفاظت پر معمور فوجی جوانوں کے خاندان کا ہی ایک حصہ ہیں۔ فوجی وردی میں ملبوس وزیر اعظم نریندر مودی جب ویروار کے روز راجوری ضلع کے نوشہراہ سیکٹر کے فوجی یونٹ میں پہنچے تو وہاں موجود فوجی اہلکاروں کی خوشی دیکھتے ہی بنتی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے فوجی اہلکاروں کو خراج و عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے جوانوں کے ساتھ دیوالی کی خوشیاں مناتے ہوئے انہیں اپنے ہاتھوں سے مٹھائی کھلائی۔ جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے اس سال نوشہراہ سیکٹر میں فوجی جوانوں کے ساتھ دیوالی منانے کا فیصلہ اس لئے لیا کیونکہ اسی سیکٹر سے دو ہزار سولہ میں پاکستان میں موجود دہشت گرد کیمپوں کو تباہ کرنے کے لئے سرجیکل سٹرائیک کی گئی تھی۔ انہوں نے جوانوں سے کہا کہ ملک کے عوام فوج کے ساتھ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ خود دیوالی منانے کے لئے اس سیکٹر میں آئیے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ وزیر اعظم کے اس قابل ستائیش قدم سے نہ صرف ملک کی حفاظت پر معمور فوجی جوانوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ سرحدی علاقوں میں مقیم عام لوگوں کی ہمت بھی بڑھ جاتی ہے۔

    دفاعی مارہ کیپٹان انیل گور نے نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا یہ قدم قابل ستائیش ہے کیونکہ اس سے جوانوں کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے اور انہیں اسبا ت کا بھروسہ ہوجاتا ہے کہ پورا ملک انکے ساتھ کھڑا ہے۔ انیل گور نے کہا کہ ایسا کرکے وزیر اعظم نے نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ ملک کے دیگر علاقوں میں سرحدوں پر تعینات فوجی جوانوں کو بھی اپنیت کا احساس دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی جوانوں کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں مقیم عام لوگوں کے حوصلے بھی بلند ہوجاتے ہیں جو ضرورت پڑنے پر فوج کو اپنا تعاون پیش کرتے ہیں۔ کیپٹن انیل گور نے کہا چونکہ راجوری اور پونچھ اضلاع میں بھی دہشت گردوں کی سرگرمیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں ایسے میں عام لوگوں اور اور فوج کے د رمیاں قریبی تعاون کی ضرورت بڑھ گئی ہے تاکہ دہشت گردوں کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ لہذا وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ دورہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔
    کیپٹن انیل گور کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی طرفسے آتم نربھر بھارت کے بارے میں ذکر کرنے سے بھی فوجیوں کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ انہیں اس بات کا یقین ہوجاتا ہے کہ ضرورت پڑھنے پر درکار ہتھیار اور گولہ بارود وقت پر میسر رہ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہتھیار اور گولہ بارود خریدنے کے لئے ہندوستان کو بیرونی ملکوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا تاہم اب ملک میں ہی ہتھیار اور گولہ بارود تیار کرنے اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرنے سے ملک کی دفاعی صلاحیت بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی نے چین اور پاکستان کو بھی یہ واضح پیغام دے دیا کہ بھارت کسی بھی جارہانا کاروائی کا مُنہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہے۔
    واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی گزشتہ کئی برسوں سے اسی طرح ملک کے مختلف حصوں میں سرحدوں کی حفاظت پر معمور فوجی جوانوں کے ساتھ دیوالی کا تہوار مناتے رہے ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: