உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کون تھے شیخ عبداللہ، جن کی تصویر کشمیر میں پولیس بہادری میڈل سے ہٹایا گیا، یہاں پڑھیں پوری تفصیل

    جموں وکشمیر میں اب تک پولیس محکمہ میں بہادری کے لئے جو میڈل دیئے جاتے تھے، ان پر ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ شیخ عبداللہ کی تصویر ہوتی تھی، اب اسے ہٹاکر حکومت نے میڈل پر اشوک کا نشان بنا دیا ہے۔ شیخ عبداللہ اگر ریاست میں ایک بڑی ہستی تھے تو تنازعہ میں بھی گھرے رہے۔ بعد میں لمبے وقت کے لئے نہرو حکومت نے انہیں جیل میں بھی ڈالا۔

    جموں وکشمیر میں اب تک پولیس محکمہ میں بہادری کے لئے جو میڈل دیئے جاتے تھے، ان پر ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ شیخ عبداللہ کی تصویر ہوتی تھی، اب اسے ہٹاکر حکومت نے میڈل پر اشوک کا نشان بنا دیا ہے۔ شیخ عبداللہ اگر ریاست میں ایک بڑی ہستی تھے تو تنازعہ میں بھی گھرے رہے۔ بعد میں لمبے وقت کے لئے نہرو حکومت نے انہیں جیل میں بھی ڈالا۔

    جموں وکشمیر میں اب تک پولیس محکمہ میں بہادری کے لئے جو میڈل دیئے جاتے تھے، ان پر ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ شیخ عبداللہ کی تصویر ہوتی تھی، اب اسے ہٹاکر حکومت نے میڈل پر اشوک کا نشان بنا دیا ہے۔ شیخ عبداللہ اگر ریاست میں ایک بڑی ہستی تھے تو تنازعہ میں بھی گھرے رہے۔ بعد میں لمبے وقت کے لئے نہرو حکومت نے انہیں جیل میں بھی ڈالا۔

    • Share this:
      سری نگر: جموں وکشمیر گزشتہ کچھ دہائیوں سے پولیس اہلکاروں کو بہادری کے لئے جو میڈل دیئے جاتے تھے۔ ان میڈل کو ’شیر کشمیر پولیس میڈل‘ کہا جاتا تھا۔ اس میں ایک طرف ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور مقبول لیڈر مرحوم شیخ عبداللہ کا نشان ہوتا تھا۔ اب اس کا نام جموں وکشمیر پولیس بہادری میڈل ہوگا۔ ساتھ ہی اس پر شیخ عبداللہ کی تصویر ہوتی تھی۔ اب اس کا نام جموں وکشمیر پولیس بہادری میڈل ہوگا۔ ساتھ ہی اس پر شیخ عبداللہ کی تصویر کی جگہ قومی نشان اشوکا کا نشان (Ashoka Pillar) کی تصویر رہے گی۔

      شیخ عبداللہ تب کشمیرکے سب سے بڑے لیڈر تھے، جب ملک کی تقسیم ہو رہی تھی۔ تب شیخ عبداللہ، محمد علی جناح کے لاکھ چاہنے کے بعد بھی ان کے ساتھ نہیں گئے۔ نہ ہی وہ کشمیر کے پاکستان میں انضمام کے حق میں تھے۔ وہ ان چنندہ لیڈروں میں تھے، جوکشمیر کو ہندوستان سے ملانے پر یقین رکھتے تھے۔ حالانکہ بعد میں کشمیر میں سازش کے الزام میں انہیں 11 سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے پڑے۔ تب انہیں کشمیر سے تین ہزار کلو میٹر دور تمل ناڈو میں ہاوس اریسٹ رکھا گیا تھا۔

      شیخ عبداللہ کی پیدائش 5 دسمبر، 1905 کو سری نگر کے پاس واقع سورا میں ہوا تھا۔ اس وقت عام کشمیری غریبی سے جدوجہد کر رہے تھے۔ وہیں شیخ عبداللہ کی فیملی تجارت سے وابستہ تھی، اس لئے انہیں پڑھنے لکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے لاہور اور علی گڑھ میں پڑھائی کی۔ علی گڑھ سے سال 1930 میں سائنس میں ماسٹرس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ سری نگر واپس لوٹ آئے۔

      جواہر لال نہرو اور شیخ عبداللہ ایک عوامی جلسے میں ساتھ ساتھ (فائل فوٹو)
      جواہر لال نہرو اور شیخ عبداللہ ایک عوامی جلسے میں ساتھ ساتھ (فائل فوٹو)


      شیخ عبداللہ نے تعلیم یافتہ عوام کو جمع کرنا شروع کیا۔ ان کے اندر سیاسی اور سماجی بیداری پیدا کرنے کی بات کی۔ ان کی کوششوں کے سبب 1932 میں مسلم کانفرنس نام کی ایک تنظیم بنی۔ سال 1938 میں تنظیم کا نام ’مسلم کانفرنس‘ سے بدل کر ’نیشنل کانفرنس‘ کر دیا گیا۔

      کشمیر میں اپنی تحریک سے مقبول ہوئے

      غیر فرقہ وارانہ اور مسائل سے وابستہ ہونے کی وجہ سے شیخ عبداللہ لوگوں سے جڑتے چلے گئے۔ جلد ہی سائنس پڑھا لکھا کر یہ نوجوان کشمیر میں مقبول ہوگیا، لیکن کشمیر کے مہاراجہ کے ساتھ ان کے تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے۔ سال 1946 میں شیخ عبداللہ نے جموں وکشمیر میں مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف ’کشمیر چھوڑو‘ آندولن چلایا۔ تب مہاراجہ نے انہیں جیل میں ڈال دیا۔

      شیخ عبداللہ 1975 میں سری نگر میں ایک بڑی عوامی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے۔
      شیخ عبداللہ 1975 میں سری نگر میں ایک بڑی عوامی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے۔


      1948 میں کشمیر کے وزیر اعظم بنے

      بعد میں جواہر لال نہرو کی کوششوں سے شیخ عبداللہ جیل سے رہا ہوگئے۔ جب جموں وکشمیر کا ہندوستان میں انضمام ہوا تب سال 1948 میں وہ اس وقت کے جموں وکشمیر کے وزیر اعظم بنا دیئے گئے۔ واضح رہے کہ تب کشمیر میں وزیر اعلیٰ کی جگہ وزیراعظم لفظ کا استعمال کیا جاتا تھا۔ وہ کشمیریوں کے مقبول لیڈر تھے۔ وقت نے دوبارہ کروٹ بدلی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: